Inam here

Inam here

Share

coming soon

02/11/2022

اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو

ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
قد يكون الرزق خلقا أو جمالا

رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن و جمال دے دیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق عقلا راجحا
زاده الحلم جمالا وكمالاً

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل و دانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی
اور تحمل و حلیمی عطا دے

○ قد يكون الرزق زوجا صالحا
أو قرابات كراما وعيالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر یا بہترین خصائل و اخلاق والی بیوی مل جاے
مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک و صحت مند اولاد مل جائے

○ قد يكون الرزق علما نافعا
قد يكون الرزق أعمارا طوالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو

○ قد يكون الرزق قلبا صافيا
يمنح الناس ودادا ونَوالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو

○ قد يكون الرزق بالا هادئا
إنما المرزوق من يهدأ بالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق طبعا خيّرا
يبذل الخير يمينا وشمالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک و سلیم طبع عطاکی گئی ہو۔ وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا پھرے

○ قد يكون الرزق ثوبا من تقى
فهو يكسو المرء عزا وجلالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو

○ قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً
ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جائے جو اس کے لئے حلال کمائ اور امن والی جائے پناہ بن جائے

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
كن قنوعاً احمد الله تعالى

○ پس رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
جو کچھ عطا ہوا
اس پر مطمئن رہو
اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہو ❤️

25/09/2022

🥀 _*احساس*_ 🥀

سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرز حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا
استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبدالکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا کیونکہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا
جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبدالکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا *وفا عبدالکریم* ان معصوم بچوں کو وفا عبدالکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے
میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات صدقات اور زکوٰت اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے

▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰
_*📖بکھــــــــرے موتی📖*_

06/08/2022

منقول
*جاوید چودھری کی*
*زیرو پوائنٹ سے*

میاں نواز شریف 1999ء میں سنگاپور کے دورے پر گئے اور بابائے سنگاپور لی کو آن یو کے ساتھ ملاقات کی

گفتگو کے آغاز میں لی کو آن یو نے انکشاف کیا وہ مختلف حیثیتوں سے 8 مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لہٰذا وہ پاکستان کے جغرافیے، رسم و رواج اور لوگوں سے پوری طرح واقف ہیں.

نواز شریف نے بڑے ادب سے ان سے پوچھا ”کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کبھی سنگا پور بن جائے گا“
لی کو آن نے ذرا دیر سوچا اور انکار میں سر ہلادیا‘ ان کا رد عمل‘ سفاک، کھرا اور غیر سفارتی تھا‘ حاضرین پریشان ہوگئے‘ لی کو آن یو ذرا دیرخاموش رہے اور پھر بولے
”اس کی تین وجوہات ہیں“
وہ رکے اور پھر بولے

”پہلی وجہ آئیڈیالوجی ہے،

آپ لوگوں اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے‘ آپ اس دنیا کو عارضی سمجھتے ہیں، آپ کا خیال ہے آپ کی اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوگی چنانچہ آپ لوگ اس عارضی دنیا پر توجہ نہیں دیتے، آپ سڑک، عمارت، سیوریج سسٹم، ٹریفک اور قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے
جبکہ ہم لوگ اس دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں لہٰذا ہم اس دنیا کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنا رہے ہیں“
وہ رکے اور ذرا دیر بعد بولے ”آپ خود خودفیصلہ کیجئے جو لوگ اس دنیا پر یقین نہ رکھتے ہوں‘ وہ اسے خوبصورت کیوں بنائیں گے؟

دوسری وجہ‘ آپ لوگوں کی زندگی کے بارے میں اپروچ درست نہیں،

میں پیشے کے لحاظ سے وکیل ہوں، ہندوستان کی تقسیم سے پہلے میں اس علاقے میں پریکٹس کرتا تھا‘ میرے موکل کلکتہ سے کراچی تک ہوتے تھے‘
میں نے ان دنوں ہندو اور مسلمان کی نفسیات کو بڑے قریب سے دیکھا‘
میرے پاس جب کوئی ہندو کلائنٹ آتا تھا اور میں کیس کے جائزے کے بعد اسے بتاتا تھا تمہارے کیس میں جان نہیں‘ تم اگر عدالت میں گئے تو کیس ہار جاﺅ گے
تو وہ میرا شکریہ ادا کرتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا‘ آپ مہربانی فرما کر میری دوسری پارٹی سے صلح کرادیں‘ میں اس کی صلح کرا دیتا تھا اور یوں مسئلہ ختم ہو جاتا تھا
جبکہ اس کے مقابلے میں جب کوئی مسلمان کلائنٹ میرے پاس آتا تھا اور میں اسے صلح کا مشورہ دیتا تھا تو اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا تھا‘
وہ کہتا تھا وکیل صاحب آپ کیس دائر کریں میں پوری زندگی مقدمہ لڑوں گا‘ میرے بعد میرے بچے لڑیں گے اور اس کے بعد ان کے بچے لڑیں گے“
لی کو آن یو رکے اور مسکرا کر بولے ”میرا تجربہ ہے جوقومیں اپنی نسلوں کو ورثے میں مقدمے اور مسئلے دیتی ہوں وہ قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں

اور تیسری اور آخری وجہ " فوج" ہے

آپ کے ملک میں فوج مضبوط اور سیاست دان کمزور ہیں اور مجھے پوری دنیا میں آج تک کوئی ایسا ملک نہیں ملا جس نے فوجی اثر میں رہ کر ترقی کی ہو“
وہ رکے اور دوبارہ بولے ”فوجی اور سیاستدان کی سوچ میں بڑا فرق ہوتا ہے‘ فوجی مسئلہ پیدا کرتا ہے جبکہ سیاستدان مسئلے حل کرتے ہیں ،
فوجی کی زندگی کا صرف ایک اصول ہوتا ہے‘ زندگی یا موت
جبکہ سیاستدان جیو اور جینے دو کے فلسفے پر کاربند ہوتے ہیں،
فوجی کو زندگی میں مر جاﺅ یا مار دو کی ٹریننگ دی جاتی ہے
جبکہ سیاستدان کو صلح، مذاکرات اور نرمی کی تربیت ملتی ہے
چنانچہ میرا تجربہ ہے جس ملک میں حکومت اور سیاست فوج کے پاس ہو
وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا.

(میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارے مُلک کو کرپشن۔ پولیس اور عدلیہ کی کرپشن ، ناانصافی اور باقی اداروں کی نالاہلی اور کرپشن لے ڈوبی ہے۔ نیاز احمد )

06/07/2022

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اور اسکا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام کو
‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"-
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی, وہ جس تانبہ ساز کو دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
‏بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 30 ریال میں خریدوں گا!!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 30 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور
‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 30 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبےدوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپکو کاروبار نہیں آتا؟!! بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 30 ریال میں اسے خریدا ھے...
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:

(*** میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں, میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے

عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اسکو دیکھتا رہ گیا...
اتنے میں غیبی آواز آئی
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا, گرنے والے کوتھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو میں خود تمہارے پاس چل کر آئونگا "۔

حکایت شیخ سعدی سے ماخوذ.

23/02/2022

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا ..

Want your business to be the top-listed Business in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Karachi