Khalid Riaz Talks
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Khalid Riaz Talks, Digital creator, Karachi.
وہی بڑا کارپوریٹ آفس… وہی شیشے کی دیواریں… اور وہی باس، جس کے کمرے کے باہر اس کی ڈگریوں کے فریم ایسے سجے تھے جیسے کسی عجائب گھر کی نمائش ہو۔
دیوار پر لکھا تھا:
“Qualified from top notch institution/ gold medalist /
Top Global University etc etc...."
مگر اس دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی علم کی نہیں… تکبر کی بو آتی تھی۔
ایک دن احمد ایک فائل لے کر باس کے کمرے میں داخل ہوا۔
“سر، یہ اپڈیٹڈ رپورٹ ہے، آپ دیکھ لیں…”
باس نے فائل کھولی، دو صفحے دیکھے، اور اچانک میز پر زور سے پھینک دی۔
“یہ ہے تمہاری قابلیت؟ Seriously؟ کس گاؤں سے پڑھ کے آئے ہو تم؟”
احمد سہم گیا:
“سر… میں نے پوری کوشش—”
“اوہ پلیز!” باس نے ہنکارا بھرا، “یہ ‘کوشش’ والا ڈائیلاگ اپنے گھر جا کے سنانا۔ یہاں رزلٹ بکتے ہیں، جذبات نہیں!”
پھر کرسی سے ٹیک لگا کر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“تم جیسے لوگ جب CV میں ‘hardworking’ لکھتے ہو نا… تو ہنسی آتی ہے۔ ہارڈ ورک نہیں، ہارڈلی ورک کرتے ہو تم!”
کمرے میں موجود ایک اور اسٹاف ممبر نے نظریں جھکا لیں۔
باس رکنے والا کہاں تھا—
“اور سنو، اپنی شکل دیکھی ہے کبھی پریزنٹیشن دیتے ہوئے؟ لگتا ہے کسی نے زبردستی اٹھا کے یہاں بٹھا دیا ہو۔ Confidence zero… knowledge below average… اور اوپر سے attitude کہ جیسے بہت بڑا تیر مار دیا ہو!”
احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کی آواز بھرا گئی:
“سر… میں سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں…”
باس نے قہقہہ لگایا:
“سیکھ رہے ہو؟ اس عمر میں؟ ہمیں یہاں trainees نہیں چاہئیں… ہمیں لوگ چاہئیں جو پہلے سے کچھ لے کر آئیں، نہ کہ خالی دماغ!”
پھر آخری وار کیا—
“Honestly، تم جیسے لوگوں کو رکھنا کمپنی پر احسان ہے میرا۔ باہر جا کر دیکھو… کوئی انٹرویو لینے والا تمہیں پانچ منٹ بھی نہ دے!”
یہ جملہ احمد کے دل میں گہرائی تک اتر گیا۔
وہ خاموشی سے فائل اٹھا کر باہر نکل آیا… مگر اس دن اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
وقت گزرا…
وہی باس، وہی ڈگریاں… مگر ٹیم اس سے دور ہوتی گئی۔ لوگ اس کے ساتھ کام تو کرتے تھے، مگر دل سے نہیں۔
کیونکہ وہ ہر میٹنگ میں یہی جملے دہراتا:
“Don’t waste my time!”
“I didn’t study abroad to deal with this nonsense!”
When I was working in my first job in front of my directors , to sab heraan reh jatay thay meri knowlege par, meri skills par.... sirf 5 minute me poray project ki feasibility bana kar pesh kr deta tha... poay city me meray jesa sharp minded gold medalist koi aur nahi tha... jab hi to 6 digits me salary aur fortuner car mil g*i thi..."
“and You people ..... pata nahi kis nay tum jeso ko in seats par pohncha dia jin par tum bethay ho..
آخر ایک دن کمپنی کی کارکردگی گرنے لگی۔
اور احمد…؟
وہ ایک ایسی جگہ پہنچ چکا تھا جہاں اس کی عزت تھی، رہنمائی تھی، اور اس کی آواز سنی جاتی تھی۔
ایک شام باس اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ دیوار پر لگی ڈگریاں ویسے ہی چمک رہی تھیں…
مگر آج پہلی بار وہ بے معنی لگ رہی تھیں۔
اسے احمد کی بھیگی آنکھیں یاد آئیں… اور اپنے الفاظ گونجنے لگے:
“تم جیسے لوگ…”
وہ آہستہ سے بولا:
“میں واقعی پڑھا لکھا ہوں… یا صرف ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے بیٹھا ہوں؟”
سبق (Moral):
اعلیٰ تعلیم انسان کو قابل تو بنا سکتی ہے، مگر قابلِ احترام نہیں۔
اصل عزت اخلاق، برداشت اور اعلیٰ ظرفی سے ملتی ہے۔
آج کے دور میں ڈگریاں عام ہیں… مگر انسانیت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
31/03/2026
ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، جو امریکا اور اس*رائی*ل کے ساتھ جاری جنگ کے بعد بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
جنگ شروع ہونے سے قبل اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، تاہم جنگ کے آغاز کے بعد یہاں آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی، یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان اس راستے سے صرف 116 جہاز گزر سکے۔
برطانوی اخبار Financial Times کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں گزرنے والے زیادہ تر جہازوں کا تعلق چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تھا، جبکہ بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جنہیں ’ڈارک فلیٹ‘ کہا جاتا ہے اور جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادا کیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن Alaeddin Boroujerdi(علاء الدین بروجردی)
نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والا ہر جہاز تقریباً 20 لاکھ ڈالر فیس ادا کر رہا ہے۔
جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد گزرنے والے کسی بھی جہاز کا کارگو امریکا یا یورپ کے لیے نہیں تھا، بلکہ زیادہ تر جہاز مشرقی ایشیا جبکہ کچھ مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کی جانب روانہ ہوئے۔ اس دوران جہازوں نے روایتی شپنگ لینز کے بجائے ایرانی سمندری حدود کا استعمال کیا۔
اخبار نے دو پاکستانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بعض تیسرے ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاکستانی پرچم استعمال کر رہے ہیں، ایک سفارتکار کے مطابق متعدد شپنگ کمپنیاں اپنا جھنڈا تبدیل کر کے پاکستانی رجسٹریشن کے تحت سفر کر رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق جہازوں کی جانب سے ایران کو 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج بھی ہے، کیونکہ ایران اور (پاس*دا*رانِ ان*قلاب) پر امریکا، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی اور چینی کمپنیوں، جن کے جہاز اس عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرے، نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران محفوظ راستے کے بدلے کسی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ یورپی اور امریکی جہاز مالکان نے بھی کسی باقاعدہ ادائیگی کے نظام سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
Disclaimer: This report is based on information published by foreign media sources, including the Financial Times. The details are subject to official confirmation, and further developments may clarify the situation
Indian plane crash in Dubai
This wasn’t a war, just a demonstration show in Dubai. Unfortunately, Wing Commander Vikram Singh could not eject in time and lost his life. It was an accident, nothing more. Yet some of our media channels in Pakistan are portraying this tragic incident as if it were our national achievement.
Hats off to pilot who chose to save the crowd
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
75300