A.S colloection
Oh Allah.! Thank you for choosing me to be a "Muslim"..!"
حسينى سادات كى اماں جان سيده شہر بانوؓ
سیدتنا شہر بانوؓ رضی اللہ عنہا کے نام کی وجہ تسمیہ!!!
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جب اپنے بیٹے امام حسینؑ کا نکاح فرما دیا تو ان کو مبارک باد دینے کے لیے ان دونوں کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا کہ ان کا نام کیا ہے؟
عرض کیا : ’’کَیْہَان بَانَو‘‘
فرمایا:’’اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
عرض کیا:’’سَیِّدَۃُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ یعنی دنیا وآخرت کی سردار۔‘‘
آپؑ نے ارشاد فرمایا:
’’سَیِّدَۃُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ فَاطِمَۃُ بِنْت رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘یعنی دنیا وآخرت کی سردار تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیٹی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ۔
پھر ان کا نام تبدیل کرکے سَیِّدَۃُ الْبَلَدَۃِ یعنی ’’شہر بانو ‘‘رکھ دیا اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اسی نام سے مشہور ہو گئیں ۔
(لباب الانساب والالقاب والاعقاب،ابناء علی ،العلویۃ الجعفریۃ و العقیلیۃ،
ج1، ص349 )
حضرت شہر بانو رضی اللّٰه عنہا حضرت اِمام حُسینؑ کے عقد میں۔
(آپ امام زین العابدین رضی اللّه عنہ کی والدہ ماجدہ ہیں)
سیّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللّٰه عنہُ کے دورِ خلافت میں جب ایران فتح ہُوا تو ایران کے آخری بادشاہ یزدگرد کی بیٹی حضرت شہربانو رضی اللّٰه عنہُ جنگی قیدی بن کر مالِ غنیمت میں آئیں،جب مالِ غنیمت تقسیم ہونے لگا تو اہلِ مدینہ اور اِسلامی لشکر سوچنے لگا کہ:
'' دیکھتے ہیں اِیران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی شہربانو کس خوش نصیب کے حِصّے میں آتی ہے؟ ''
جب مالِ غنیمت تقسیم کرتے ہوئے شہربانو رضی اللّٰه عنہُ کی باری آئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہُ نے اعلان فرمایا کہ:
'' یزدگرد کی بیٹی شہزادی ہے،اسے میں جس کی زوجیت میں دوں گا وہ بھی شہزادہ ہی ہو گا۔ ''
لوگ سوچنے لگے کہ دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہُ کی نِگاہ میں شہزادہ کون ہے؟ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہُ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ:
'' اے حُسینؑ ہمارے ہاں شہزادہ تُو ہی ہے اور حضرت شہر بانو رضی اللّٰه عنہُ کو حضرت اِمام حُسینؑ کی زوجیت میں دے دیا۔ ''
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہُ کے اپنے بیٹے حضرت عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہُ بھی تھے مگر حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہُ نے اپنے بیٹے پر حضرت اِمام حُسینؑ کو ترجیح دی۔کیونکہ سب صحابہ کرام رضوان اللّٰه عنہُم کو آقا صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ہی نہیں بلکہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت پاک بھی دِل و جان سے عزیز اور محبوب تھے۔
( الصواعق المحرقہ،صفحہ ۱۷۹ )
( شہادتِ اِمام حُسین،فلسفہ و تعلیمات،صفحہ ۲٦۹ )
_______________
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
75850