79/10-R Khanewal Offical

79/10-R Khanewal Offical

Share

Share Your View for welfare of 79/10-R and We will acknowledge and spread your message to People of 79/10-R

04/04/2026

شادی مبارک

02/04/2026

السلام علیکم محترم۔جامع مسجد انوار مصطفٰےارشاد شاہ کالونی 79مسجد پر قرض حسنہ (70،000)سترہزار روپے ہے۔جتنا بھی ہوسکے حصہ ملا کر ثواب دارین حاصل کریں۔
رابطہ نمبر_جازکیش راست آئی ڈی
0300-0694479
قیصر شہزاد

16/03/2026

سَتّائِیسویں کی شَب گاؤں میں ایسی دِلکَشا رَونَق ہوا کرتی تھی جیسے عِید یہی ہو۔

بچّے اور بڑے مَسجِد میں جمع ہوتے۔ نمازِ مَغرِب کے بعد اِمامِ مَسجِد اور خادِمِ مَسجِد کی خِدمت کے لیے اعلانات شروع ہوتے۔ میرے اَبا جان بھلے وقتوں کے اِنٹر پاس تھے۔ اُردو اچھی جانتے اور خوب سمجھتے تھے۔ اُس زمانے میں اسپیکر کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ وہ مائیک سنبھالتے تو اعلانات کے ساتھ ایک خاص سماں بندھ جاتا۔ لوگ جوق در جوق مَسجِد کا رُخ کرتے اور دیکھتے ہی دیکھتے صحن اور ہال بھرنے لگتے۔ بچوں کے لیے جیسے کوئی ایڈونچر کا دن ہوتا تھا ۔ مسجد کے اندر اور باہر بچوں کی ٹولیاں نظر آتیں ۔ جنھیں انتظار ہوتا کہ کب میلاد کے بعد بالو شاہی تقسیم ہوں اور وہ دو دو مرتبہ اپنا حصہ جھپٹیں۔

عِشا کی نماز قدرے تاخیر سے پڑھی جاتی اور پھر حمد و نعت کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ لڑکوں کے لیے اُس رات گھر رُکنا گُناہِ کَبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ رات گئے نفلی عبادتوں کے بعد قَبرِستان کا رُخ کیا جاتا۔ سینکڑوں لوگ ذکر کرتے ہوئے قَبرِستان جاتے۔ یہ سخت سردیوں کے روزے ہوتے تھے ، سانسوں سے بھاپ نکلتی، مگر دلوں میں عجیب سی گرمی اور عقیدت ہوتی۔ وہاں دو گھنٹے ذکر و اذکار کے بعد سب واپس مَسجِد آتے اور کوئی ایک دو بجے رات صَلاةُ التَّسبیح کی جماعت ہوتی۔ اتنے لوگ ہوتے کہ مَسجِد کا مرکزی ہال بھر جاتا اور لوگ صحن تک صفیں بنا لیتے۔
سَتّائِیسویں رات عبادت کے ساتھ روحانیت بھری خوشی کی رات بھی ہوتی تھی۔ لڑکپن کے پانچ چھ برس یہی روایت دیکھی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے ناکام حصول کے لیے بیرونِ شہر منتقل ہوئے تو اِن روایتوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد 🙆‍♂️🙆‍♂️ اب رمضان گاؤں میں گزر رہا ہے ۔ اَبا نہیں رہے تو میرا چچیرہ بھائی اُن کی جگہ اعلانات کر رہا ہوتا ہے۔ آج میں بھی اُس کے ساتھ جا بیٹھا۔ مگر مَسجِد میں صرف چار پانچ لوگ بیٹھے تھے، اور چند بچے۔ مَسجِد سے باہر بھی کوئی خاص رونق نہیں تھی۔

یوں محسوس ہوا کہ زندگی کی تیز رفتاری نے دوست احباب اور رشتے داروں کی محفلیں ہی نہیں ہماری عبادت گاہیں بھی سونی کر دی ہیں ۔

(جامع مسجد چک 79)

بشکریہ: Kanwar Faheem

Want your business to be the top-listed Media Company in Khanewal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Khanewal