International Relations Decode
Welcome to International Relations Decode by Dr. Waqas Bukhari. We offer analysis of global politics, diplomatic strategies, and evolving power dynamics.
26/12/2025
India Afghanistan Relations A strategic reading suggests that India’s renewed engagement with Afghanistan reflects a recalibration in South Asia’s balance of power politics. Beyond deve...
17/12/2025
موجودہ پابندیاں زیادہ تر سیکیورٹی اور ویزا پروسیسنگ کے لیے ہیں لیکن Trump اور کچھ سیاسی رہنما اس قسم کی پابندی کی حمایت کرتے ہیں حالانکہ قانونی طور پر یہ ابھی نافذ نہیں ہوئی
15/12/2025
یوکرین پر جاری بحث اب صرف نقشوں اور Ceasefire Lines تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ یورپ میں Credibility اور Deterrence کی گہری آزمائش بن چکی ہے کیف کی جانب سے Territorial Concessions کو مسترد کرنا دراصل ماضی کے Frozen Conflicts سے حاصل ہونے والا سبق ہے کہ بغیر مؤثر نفاذ کے امن مستقبل کی جارحیت کو دعوت دیتا ہے زیلنسکی جب یوکرین کی تقدیر کو یورپ کی تقدیر سے جوڑتے ہیں تو وہ یورپی دارالحکومتوں کو ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرواتے ہیں یوکرین میں کمزور Settlement جنگ ختم نہیں کرے گا بلکہ اسے مؤخر کر دے گا برسلز میں اصل خوف آج کی Escalation نہیں بلکہ کل کی Repetition ہے یعنی ایک ایسا روس جو رُک کر خود کو ڈھالے اور زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے
اس لمحے کی Novelty یہ ہے کہ یورپ خاموشی سے اپنی Security Identity کو ازسرِنو تشکیل دے رہا ہے بحث کا مرکز اب Ending the War نہیں بلکہ Preventing the Next One بن چکا ہے جو NATO سے باہر یورپ کے موجودہ Security Architecture کی حدود کو نمایاں کرتا ہے یوکرین کے لیے Security Guarantees ایک Test Case بن چکی ہیں کہ آیا یورپ مکمل NATO Membership کے بغیر کسی بڑی طاقت کو مؤثر طور پر Deter کر سکتا ہے یا نہیں اگر یہ ضمانتیں ناکام ہوئیں تو یورپ میں طاقت کے ذریعے سرحدیں بدلنے کا رجحان معمول بن سکتا ہے اور اگر کامیاب ہوئیں تو یہ ایک نئے اور زیادہ مضبوط European Security Order کی بنیاد رکھ سکتی ہیں اس تناظر میں یوکرین محض اپنے علاقے کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ یورپ میں طاقت اور امن کے مستقبل کے قواعد تشکیل دے رہا ہے
ڈاکٹر وقاص بخاری
10/12/2025
بھارت کی جانب سے طالبان کی قیادت سے بڑھتی ہوئی دلچسپی دراصل ایک بدلتی ہوئی Regional Strategy کا حصہ ہے افغانستان اب جنوبی ایشیا وسطی ایشیا اور خلیجی سیاست کے سنگم پر ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جس کے بغیر کوئی بھی ملک اپنے Strategic Interests مکمل نہیں کر سکتا اسی لیے بھارت یہ سمجھتا ہے کہ کم سطح کی شمولیت بھی اسے کابل میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے اپنی معاشی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے اور China Pakistan Cooperation کے بیانیے کا Balance قائم کرنے میں مدد دیتی ہے اس پالیسی کے تحت بھارت ایک محتاط مگر مستقل موجودگی کے ذریعے Future Corridors علاقائی تجارتی راستوں اور Mineral Resources تک رسائی کے امکانات کو کھلا رکھنا چاہتا ہے
سیکورٹی کے تناظر میں بھارت کی تشویش محض کشمیر یا ماضی کے تجربات تک محدود نہیں رہی نئی دہلی افغانستان کو ایک ایسے حساس خطے کے طور پر دیکھ رہی ہے جہاں بدلتی ہوئی Military Dynamics معاشی دباؤ اور بڑے طاقتوں کی رقابت مل کر ایک نیا سیکورٹی ماحول تشکیل دے رہے ہیں بھارت کی طالبان سے محدود Engagement دراصل ایک ایسا طریقہ ہے جس سے وہ یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی شدت پسند گروہ کے ہاتھ میں ایسا آلہ نہ بنے جو بھارت میں عدم استحکام پیدا کرے اس کے ساتھ ساتھ چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی ایران کے ساتھ کابل کے ابھرتے تعلقات اور روس کی سفارتی سرگرمیوں نے بھارت کے لیے افغانستان کو نظرانداز کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے
پاکستان کے لیے ان بھارتی روابط کے Implications کہیں گہرے اور Multidimensional ہیں ایک طرف افغانستان کی TTA حکومت کی بھارت سے بات چیت پاکستان کے اس روایتی تاثر کو کمزور کرتی ہے کہ کابل کی پالیسی ہمیشہ اسلام آباد کے قریب رہے گی جبکہ دوسری طرف یہ صورتحال پاکستان کے مغربی بارڈر کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے بھارت کی موجودگی چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو TTP جیسے مسائل پر کابل کے رویے کو مزید غیر یقینی بناتی ہے اور پاکستان کی سفارتی Leverage کو گھٹا دیتی ہے اسی کے ساتھ India Iran Central Asia رابطوں کا بڑھتا ہوا امکان خطے میں پاکستان کے جغرافیائی کردار کو چیلنج کرتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں بھارتی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ ایک مسلسل Strategic Shift کی علامت بن چکی ہے
ڈاکٹر وقاص بخاری
بالآخر Asia کی بدلتی ہوئی Politics ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں جہاں China India US Triangle پورے خطے کی سمت طے کر رہا ہے چین اپنی Maritime and Overland Corridors کے ذریعے اثر بڑھا رہا ہے بھارت سیاسی و عسکری توازن قائم رکھنے کی کوشش میں ہے اور امریکہ خطے کو ایک مربوط Indo Pacific ڈھانچے میں ڈھالنے پر مصروف ہے اس کے ساتھ Middle Powers کی ابھرتی ہوئی سفارت کاری جسے ماہرین Micro Alignment کہتے ہیں Japan کی دفاعی تبدیلی اور Australia کے AUKUS جیسے اقدامات کے ذریعے نئی علاقائی پرتیں پیدا کر رہی ہے نتیجتاً Taiwan Strait South China Sea اور China India Border جیسے اہم Flashpoints صرف سرحدی کشیدگی نہیں رہے بلکہ تجارتی راستوں اور تکنیکی برتری کا اصل دباؤ بن چکے ہیں جو Asia کو موجودہ عالمی سیاست کا سب سے حساس اور متحرک خطہ بنا دیتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Address
Lahore