Atiqa Digital
Islamic Scholer’Researcher’Motivational speaker(khteba mubligah)Colum writer
فاطمہ آپ کا سوال بہت اہم ہے۔
سوال:45
اگر کسی عورت کے پیریڈز کا سائیکل خراب ہو جائے (مثلاً کبھی 7 دن، کبھی 10 دن، کبھی 15 دن) تو:
1. اسے کتنے دن حیض شمار کرنا چاہیے؟
2. کب وہ نماز اور روزہ شروع کرے؟
قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں مفصل اور آسان زبان میں
✅ جواب:
📌 شریعت نے حیض کے لیے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ دن مقرر کیے ہیں:
| حد | دن
| کم از کم حیض کی مدت | 1 دن (24 گھنٹے) |
| زیادہ سے زیادہ حیض کی مدت | 10 دن (اہلحدیث و جمہور کے نزدیک) |
| 15 دن (احناف کے نزدیک) |
اگر پیریڈز بے ترتیب ہوں تو کیا کریں؟
🟢 صورت 1: پچھلے معمول کے مطابق حیض آتا تھا.
مثلاً: ہر مہینے 6 دن آتا تھا
اب اس مہینے 12 دن خون آ رہا ہے
✅ ایسی عورت "6 دن" کو حیض شمار کرے گی
اور باقی دنوں کو استحاضہ (بیماری کا خون)شمار کرے گی
📌 ان دنوں میں نماز، روزہ، طہارت سب لازم ہے
🔵 صورت 2: کوئی معمول ہی نہیں ہے
مثلاً عورت نئی بالغ ہوئی ہے یا سائیکل ہر مہینے الگ ہوتا ہے
✅ ایسے میں فقہائے اہلحدیث کے مطابق:
✓ جب تک 10 دن سے کم ہو → وہ سارے دن حیض شمار ہوں گے
✓ اگر 10 دن سے زیادہ ہو جائے→ تو 10 دن کو حیض شمار کرو، باقی کو بیماری
📌 احناف کے ہاں یہ حد 15 دن تک ہے.
📖 قرآن سے دلیل:
"وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى..."
(البقرہ: 222)
"آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، فرما دیجیے: وہ گندگی (اذیٰ) ہے..."
🔹 یعنی حیض کی حالت میں عورت کو نماز اور روزہ معاف ہے
🔹 لیکن جب حیض ختم ہو جائے، تو غسل کر کے نماز شروع کرنی ہے
📚حدیث سے رہنمائی:
نبی کریم ﷺ نے استحاضہ کی شکار عورت فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا:
"فإذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم وصلي"
(صحیح بخاری: 228، مسلم: 333)
"جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب حیض ختم ہو تو غسل کر کے نماز پڑھو۔"
✨ عمل کیسے کریں؟
(خلاصہ)
| حالت :خون 1 دن سے کم
نماز پڑھے ؟ ہاں لازم ہے
غسل؟ نہیں
طہارت ؟استحاضہ
حالت:خون 1-10 دن
نماز پڑھے؟ نہیں حیض ہے۔
غسل؟ ختم پر غسل کرے
طہارت؟ لازم
حالت: خون 10 دن سے زیادہ
نماز پڑھے؟ 10 دن حیض باقی استحاضہ
غسل؟ 10 دن بعد غسل کرے
طہارت؟ نماز و روزہ لازم
🤲 نصیحت:
✓طہارت پر دھیان دینا دین کا حصہ ہے
✓ اگر مسلسل خون آتا ہے تو ڈاکٹری علاج بھی کروائیں
✓اگر شک ہو، تو پچھلا معمول یا زیادہ سے زیادہ حد (10 دن یا 15 دن) کا اصول اپنائیں
🖊️: عتیقہ بشیر
اقصیٰ آپ نے دین، وقت اور معاشرتی فتنوں پر بہت حساس اور باشعور سوال کیا ہے۔
سوال:43
"کیا ہم نئے سال (اسلامی یا عیسوی) کی خوشی منا سکتے ہیں جبکہ محرم میں ہمیں شہادتوں کا غم بھی معلوم ہے؟"
قرآن، سنت اور فقہ کی روشنی میں محبت، فہم اور دلائل کے ساتھ جواب:
✅ جواب کا خلاصہ:
| سوال | حکم
| نیا سال (اسلامی یا عیسوی) کی "خوشی" منانا جیسے جشن، کیک، مبارک باد، آتشبازی وغیرہ | جائز نہیں (بدعت یا غیر اسلامی تہوار کی مشابہت ہے)
نیا سال آئے تو دعا، نیت کی تجدید، نیکی کی شروعات کرنا | ✅ جائز بلکہ پسندیدہ عمل
محرم میں شہادتوں کے غم کو نظر انداز کر کے جشن منانا ❌احساس سے خالی عمل
📖 1. قرآن کی روشنی میں:
"وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ"
(الفرقان: 72)
"رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو لغوی و باطل تہواروں میں شریک نہیں ہوتے"
📌 اس آیت کی تفسیر میں غیر شرعی، کفریہ یا فاسقانہ تہوار میں شرکت کو ناپسندیدہ اور متقیوں کی ضد بتایا گیا ہے۔
📚 2. حدیث سے رہنمائی:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"من تشبَّه بقومٍ فهو منهم"(سنن ابوداؤد: 4031)
"جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے"
🔹 اس سے فقہاء نے واضح کیا کہ غیروں کے مذہبی، تہذیبی یا تہوار والے اندازکو اپنانا حرام یا مکروہ ہو سکتا ہے۔
3. اسلامی نیا سال (محرم) کا
پس منظر:
✓محرم الحرام ہمارے لیے ماتم یا صرف غم کا مہینہ نہیں
✓ یہ ہمیں صبر، قربانی، شہادت، اور ہجرت کی یاد دلاتا ہے
✓ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی دین کے لیے تھی — نہ کہ نئے سال کے جشن کے لیے
✅ اس لیے اسلامی نیا سال ہمیں اصلاح، توبہ، نئی نیت اور تجدیدِ ایمان کا پیغام دیتا ہے — نہ کہ "Happy New Year" کی رسمیں۔
4. عیسوی نیا سال (31 دسمبر / 1 جنوری)؟
✓ یہ نہ اسلامی تقویم ہے، نہ صحابہ و سلف نے منایا
✓ یہ عیسائی مذہبی تقویم کا حصہ ہے
✓ اس میں جو طرز عمل ہوتا ہے (ڈانس، پارٹیز، گنتی، آتشبازی، کیک) — وہ اسلامی تہذیب سے میل نہیں کھاتا
✅ تو نیا سال کیسے گزاریں؟
1.اللّٰہ کا شکر ادا کریں کہ ایک اور سال ملا
2. نیت کی تجدید کریں: کہ آنے والا سال تقویٰ، عبادت، دین کے لیے ہو
3. دعا پڑھیں:
"اللّٰہم ادخلہ علینا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، ورضوانٍ من الرحمٰن، وجوارٍ من الشیطان"
4. کوئی صدقہ یا نیکی کا عمل کریں
5. اپنے گناہوں پر توبہ کریں، اور اصلاح کا سفر شروع کریں
📌 خلاصۂ کلام:
| عمل | شرعی حکم |
| "Happy New Year" کہنا، کیک کاٹنا، جشن منانا | ❌ غیر شرعی، مشابہتِ کفار
| نیت کی تجدید، دعا، نیکی کی شروعات | ✅ مستحب، اصلاح کی علامت | محرم میں جشن؟ | ❌ ناسمجھی اور شہادتوں کی توہین |
اللہ ہمیں وقت کی قدر اور دین کی فہم عطا فرمائے۔
🖊️:عتیقہ بشیر
ماشاءاللّٰہ، آپ نے صفائی اور فطری سنتوں سے متعلق اہم سوال کیا ہے:
سوال:40
"زیرِ ناف بال (شرمگاہ کے گرد بال) کتنے دن بعد اتارنے چاہییں؟
کیا پندرہ دن کی حد ہے؟"
قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں تفصیل سے:
✅ جواب:
💠 زیرِ ناف بالوں کو کم از کم چالیس دن کے اندر ضرور صاف کرنا چاہیے۔
پندرہ دن کی بات کوئی فرض یا حد نہیں ہے، بلکہ صفائی کا بہتر معمول ہے۔
📚 حدیث کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"الفِطرةُ خمسٌ: الختانُ، والاستحدادُ، وقصُّ الشاربِ، وتقليمُ الأظفارِ، ونتفُ الإبطِ."
(صحیح مسلم: 257)
"فطرت (قدرتی صفائی) کے پانچ کام ہیں: ختنہ، زیر ناف بال مونڈنا (استحداد)، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا۔"
اور دوسری حدیث میں:
"وقَّتَ لنا رسولُ اللهِ ﷺ في قصِّ الشاربِ، وتقليمِ الأظفارِ، ونتفِ الإبطِ، وحلقِ العانةِ، ألا نتركَ أكثرَ من أربعينَ ليلةً."
(صحیح مسلم: 258)
"نبی ﷺ نے ہمیں مونچھیں، ناخن، بغل اور زیرِ ناف بالوں کے متعلق چالیس راتوں سے زیادہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔"
📌 حدیث سے حاصل شدہ اصول:
| عمل | زیادہ سے زیادہ وقفہ |
| |
| زیرِ ناف بال اتارنا | 40 دن سے زیادہ نہ چھوڑنا |
| ناخن کاٹنا | 40 دن |
| بغل کے بال | 40 دن |
| مونچھیں | 40 دن |
❓تو کیا پندرہ دن میں اتارنا ضروری ہے؟
❌ نہیں، پندرہ دن کوئی شرعی حد نہیں ہے۔
✅ لیکن اگر بال زیادہ بڑھنے لگیں یا گندگی محسوس ہو تو پندرہ دن میں صاف کرنا مستحب اور بہتر ہے۔
📌 بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ: "اگر کسی عورت کے بال جلد بڑھ جاتے ہیں یا بدبو آنے لگتی ہے تو وہ ہر 7 یا 15 دن میں صاف کرے —یہ طہارت اور حیا کا حصہ ہے
--عورت کے لیے خاص نصیحت:
✓ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے
✓اگر شوہر کے ساتھ تعلق ہو، یا نماز، یا روزہ — تو صفائی کی اہمیت دوگنی ہو جاتی ہے
✅ خلاصہ:
| سوال | جواب |
| زیرِ ناف بال کتنے دن بعد اتارنے چاہییں؟ | حدیث کے مطابق 40 دن کے اندر لازمی|
| پندرہ دن میں صاف کرنا؟ | ❌ فرض نہیں، ✅ صفائی کے لیے بہتر ہے |
| اگر کوئی 40 دن سے زیادہ چھوڑ دے؟ | ⛔ گناہ ہے، فطرت کے خلاف ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر
مروہ کا سوال بہت اہم ہے، اور اس کا تعلق حرمتِ نکاح کے شرعی احکام سے ہے۔
سوال:36
اگر پھوپھی (یعنی لڑکے کی والدہ کی بہن) فوت ہو جائے تو کیا اس کی بھانجی سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
جی ہاں، پھوپھی کی بھانجی سے نکاح کرنا جائز ہے، اگر پھوپھی فوت ہو چکی ہو یا نکاح سے علیحدہ ہو چکی ہو۔
📖 قرآن سے دلیل:
"وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ"(سورۃ النساء: 23)
"اور دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا (یعنی ایک وقت میں دونوں سے نکاح) حرام ہے، مگر جو پہلے گزر چکا۔"
📌 اس آیت کا مطلب یہ ہے:
✓دو بہنیں ایک وقت میں نکاح میں نہیں آ سکتیں۔
✓لیکن اگر ایک بہن (مثلاً پھوپھی) فوت ہو جائے یا طلاق ہو جائے اور عدت بھی ختم ہو جائے،
تو دوسری بہن (یعنی بھانجی) سے نکاح جائز ہے۔
📚 حدیث سے اشارہ:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لا يُجمَعُ بين المرأةِ وعمَّتِها، ولا بين المرأةِ وخالتِها"
(صحیح بخاری: 5109، صحیح مسلم: 1408)
"عورت اور اُس کی پھوپھی، یا عورت اور اُس کی خالہ کو نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔"
📌 اس کا مطلب یہ ہے کہ:
✓بیک وقت دونوں (پھوپھی اور بھانجی) سے نکاح حرام ہے۔
✓لیکن اگر ایک فوت ہو جائے یا طلاق دے دی جائے، تو بعد میں دوسری سے نکاح جائز ہے۔
✅ نتیجہ:
| صورت حال | نکاح کاحکم |
| اگر پھوپھی زندہ ہے اور نکاح میں ہے | بھانجی سے نکاح حرام ہے |
| اگر پھوپھی فوت ہو چکی ہو یا طلاق ہو چکی ہو (اور عدت گزر چکی ہو) | بھانجی سے نکاح جائز ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore