Islamic post
Islamic
دلیل مجھ سے کیا مانگتے ہو؟
جمعہ کا خطبہ ختم کرتے ہوئے مفتی صاحب منبر سے نیچے اتر رہے تھے کہ دفعتاً تیسری صف سے ایک بوڑھا اٹھا اور اس نے مفتی صاحب کو بازو سے پکڑ لیا۔۔۔۔
’’سانولی سی رنگت، میلے کپڑے، نحیف بدن۔۔۔ پر اسرار شخصیت۔۔۔ مقتدیوں نے غالباً پہلی بار اس بابا جی کو اس مسجد میں دیکھا تھا۔۔۔
تمام لوگ سنتیں بھول کر منبر کی جانب متوجہ تھے۔۔۔۔
’’مولوی صاحب!!!
آپ نے سیرت بیان کی۔۔۔۔ بہت اچھی طریقے سے لوگوں کو سمجھایا۔۔۔ لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔
سیرت میں وہ بے سرو سامانی کا ’’بدر‘‘ موجود نہیں۔۔۔ وہ ’’فاضربوا فوق الاعناق‘‘ کی آیات کا حکم کہاں گیا؟؟؟
وہ ’’عشرون صابرون یغلبوا مأتین‘‘ کے وعدوں کا ذکر نہیں آیا۔۔۔
وہ ’’فتح مکہ‘‘ پر ’’امان امان‘‘ کی صدائیں کیاہوئیں؟؟؟؟ وہ ’’حنین‘‘ کے میدان میں کھڑے ہوکر ’’انا النبی لا کذب‘‘ کے جو اشعار پڑھے گئے تھے وہ سنائی نہیں دیے۔۔۔‘‘
مولوی صاحب!!!
بتاؤ تو نبی اسلحہ اٹھا کر بنو قریظہ کی طرف کیوں گئے ؟؟؟ کیا سیرت میں غزوۂ خبیر نہیں ہے؟؟؟
مولوی صاحب!!! کیا غزوہ خندق میں نبی ﷺ کے پیٹ پر بندھے پتھر سیرت کا حصہ نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟؟
یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ,‘ کی آیات کب نازل ہوئیں؟؟؟
ان کا پس منظر کیا تھا؟؟؟؟
مولوی صاحب!!!! بڑھاپے کی عمر میں ’’تبوک‘‘ کا سفر ان بوڑھوں کو کیوں نہیں بتاتے۔۔۔ ‘‘
بزرگ بابا جی مفتی صاحب کا ہاتھ تھامے سوال پر سوال کیے جا رہے تھے۔۔۔۔
تمام مسجدکے نمازیوں کو چپ لگ گئی تھی۔۔۔
’’بابا جی!!! پہلے دلیلیں پوری ہوں جہاد کی پھر جہاد کرنا چاہیے۔۔۔ تب دلیلیں موجود تھیں جہاد کی اب نہیں ہیں‘‘
مفتی صاحب نے جواب دیا ۔۔۔۔
بابا جی نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گرج کر بولے:
مولوی صاحب!!!! وہ دیکھو !!!!!
میدان محشر لگا ہے، ساقی کوثر ﷺ ’’میدان اُحد‘‘ میں اپنا خون پیش کر کے، اپنے دانت شہید کروا کے کھڑے ہیں اور جام کوثر لٹا رہے ہیں۔۔۔
اگر انہوں نے پوچھ لیا کہ
’’میری امت کٹ رہی تھی اور تم دلیلیں ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ کیا میرا خون اور ٹوٹے دانت جہاد (قتال) پر دلیل نہیں تھے؟؟؟‘‘
مولوی صاحب وہ تو تین سو تیرہ کی تعداد میں تھے، اسلحہ نہ ہونے کے برابر، پھر بھی کفر سے ٹکرا گئے اور تمہاری نظر میں آج کے کروڑوں مسلمان، اسلحے کی بھرمار...
اور پھر بھی ان میں لڑنے کی طاقت نہیں؟؟ مولوی صاحب جب مدینہ میں حئی علی الجہاد کی صدا لگتی..
تو بتاؤ وہ کونسا صحابی تھا جو قلم لیکر اپنے پیارے نبی صلی الله علیہ واله وسلم کے پاس آیا ہو کہ بتائیں کونسا مضمون لکھ کر "جہاد" کرنا ہے؟؟
کونسی تقریر کر کے "جہاد" کرنا ہے؟؟ کونسی نالی پکی کرا کے "جہاد" کرنا ہے؟؟؟ نہیں..!!
ایسا کوئی نہ کہتا..!!!
بلکہ سب تلوار لیکر نکلتے.. اور تم آج مفہوموں شرطوں اور مطلبوں کی بحث میں ڈال کر اصل جہاد سے جی چراتے ہو!!!
بتاؤ مولوی صاحب !!! بتاؤ روزِ قیامت کیا جواب دوگے؟؟؟ کیا دلیل دو گے؟؟؟
’’دلیل مجھ سے کیا مانگتے ہو نبی کی امت کا حال دیکھو
قدم گھروں سے نکالنے کا جواز تم کو بلا رہا ہے
جس نے بھی یہ تحریر لکھی کمال لکھی۔۔۔اور خون دل سے لکھی
خاک ذادہ
پردہ "قید" نہیں ہے "پردہ" اس خوبصورتی کو چھپاتا ہے جو چھپانے کے لائق ہے، تا کہ اس خوبصورتی کو صرف وہی دیکھ سکے جو اسے دیکھنے کے لائق ہے۔۔🌺✨
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر ( و غرور ) اور مال واولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں ۔𝒌𝒉𝒂𝒌 𝒛𝒂𝒅𝒂
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر ( و غرور ) اور مال واولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں ۔
𝑲𝒉𝒂𝒌 𝒛𝒂𝒅𝒂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore