Knowledge Center
This page was created to educate people and to encourage the knowledge hungry people to reach the truth.
10/03/2026
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔
اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
آج پھر وہی حال ہے آج کتے ہم پر مسلط ہیں
اور جب تک ہم واپس نا آجاٸیں اسلام کی طرف تب تک ہم پر مسلط رہیں گے سوچیے۔۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ
*** REAL PATRIOT***
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں
سیٹھ عابد کے علاوہ اور کردار بھی رھے ھیں جن پیشہ بظاہر اچھا نہ تھا اور شاید ان کے نام تک سے ہم واقف نہیں!
عبداللہ بھٹی "سمگلر"
اور آج کے IPPs کے مالکان نام نہادمحب وطن سیاست دانوں میں فرق۔
یہ ستمبر 1948 کی بات ہے
جب ہندوستان نے ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ
ریاست کا حکمران (نواب مہابت خان) لاکھ مسلمان سہی مگر ریاستی عوام کی اکثریت تو ہندو ہے
قصہ مختصر یہ کہ جونا گڑھ پر بھارتی قبضہ کے بعد نواب مہابت خان بمشکل تمام اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچا کرکسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور کھارادر کراچی میں قیام کیا
نواب صاحب اپنے سرکاری خزانے میں 48 من سونا چھوڑ آئے تھے
اور وہ ایسی جگہ پرمحفوظ تھا
جس کا علم نواب صاحب کے سوا کسی کو نہیں تھا
اگر ہندوستانی افواج پورا محل بھی کھود دیتی تو انہیں سونا نہ ملتا۔
نواب صاحب کی خواہش یہ تھی کہ وہ سونا کِس طرح پاکستان لایا جا سکے تو وہ اُس کا نصف حصہ حکومت پاکستان کے خزانہ میں جمع کرا دیں گے
ان دِنوں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار تھا
نواب صاحب خلوص دل کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے مگر اسے پاکستان لائیں کیسے ؟
اب کردار شروع ہوتا ہے کھوٹے سکے کا وہ تھا اُس دور کا مشہور اسمگلر حاجی عبداللّٰه بھٹی جو سمندر پار بستی صالح آباد میں رہائش پذیر تھا
یہ بستی کراچی کی بندرگاہ کیماڑی سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ہے
عبد اللہ بھٹی اس وقت 80 سال کے تھے اور اپنا پیشہ ترک کرکے یاد الٰہی میں مصروف تھے
نواب مہابت خان نے لیاقت علی خان سے کہا کہ وہ عبداللّٰه بھٹی کو اِس بات پر راضی کرلیں کہ سونا جونا گڑھ کے خزانے سے نکال لائے
عبد اللّٰه بھٹی نے وزیر اعظم کے کہنے پر حامی بھر لی اور اپنے بیٹوں قاسم بھٹی اور عبد الرحمٰن بھٹی کو ساتھ لے کر سمندر کے راستے تیز رفتار لانچوں کے ذریعے جونا گڑھ روانہ ہوگئے سمندر کے راستے یہ فاصلہ 300 کلو میٹر ہے
پاکستانی فوج کے چند کمانڈوز بھی اُن کے ساتھ تھے
اِن لوگوں نے ایک بجے دوپہر کو بحری سفر شروع کیا
اور خفیہ راستوں سے ہوتے ہوئے جونا گڑھ کے ساحل پر پہنچ گئے
اس وقت رات کے 10 بجے تھے
شاہی محل ساحل سمندر سے زیادہ دور نہ تھا
پاکستانی کمانڈوز نے محل پر متعین بھارتی فوج کے افسران اور سپاہیوں کا خاتمہ کیا
جب عبداللہ بھٹی نے خان لیاقت علی خان کی موجودگی
میں 48 من سونا نواب مہابت خان کے حوالے کیا تو نواب صاحب نےحسب وعدہ 24 من سونا حکومت پاکستان کے حوالے کیا اور اپنے حصے میں آنے والے 24 من سونے میں سے
4 من سونا حاجی عبداللّٰه بھٹی کو بطور اِنعام پیش کیا
حاجی عبداللّٰه بھٹی نے یہ سونا لینے سے انکار کردیا اور
زار و قطار روتے ہوئے بولے سائین بابا (سندھی کا ادب کے ساتھ مخاطب کرنا)
میں نے ساری زندگی اسمگلنگ کی مگر وہ انگریز کا زمانہ تھا
اب میں نے اسمگلنگ نہیں کی
بلکہ پاکستانی ہونے کا حق ادا کیا ہے
میں اسمگلر ضرور ہوں
مگر مادر وطن کی دولت نہیں لوٹوں گا پھر دوبارہ رونے لگ گئے اور کہا میں نے ساری عمر میں اسمگلنگ سے 3 من سونا جمع کیا ہے یہ میں وزیر اعظم کو پیش کرتا ہوں
اِس کے علاوہ میرے پاس ذاتی 3 من سونا ہے جو اِس مقدس دیس کی نذر ہے اب آنسو بہانے والوں میں حاجی عبداللہ بھٹی نواب مہابت خان اور وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے
لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے
یہ کہانی پاکستان کے حرام خوروں کے منہ پر طماچہ ہے جو ملک کی دولت لوٹ کر باہر لے گئے ہیں یا آج بھی مفت بجلی مفت پٹرول مفت ہوائی سفر بیرون ملک مفت سیرو تفریح اور علاج معالجے کے نام پر اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں
(یہ اقتباس اردو ڈائجسٹ سے لیا ہے)
*(LOVERS 💗 OF PAKISTAN)*
*اس تحریر کو اپنے پاس نا رکھیں آگے روانہ کریں شاید کسی کی غیرت جاگ جائے*
❣️🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰❣️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
C Block PIA Housing Society
Lahore
54770
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 21:00 |
| Tuesday | 09:00 - 21:00 |
| Wednesday | 09:00 - 21:00 |
| Thursday | 09:00 - 21:00 |
| Friday | 09:00 - 21:00 |