Knowledge Giver Science Academy

Knowledge Giver Science Academy

Share

Knowledge Giver Science & Commerce Academy is for our new generation, through which they can achieve their goal

27/02/2022

جمائی کیوں آتی ہے ؟

جمائی لینا ایک خودکار عمل ہے اس کے لئے کوشش نہیں کرنا پڑتی ۔ یہ ایک اضطراری عمل ہے جو ہمارے پھیپھڑوں میں آکسیجن کو پر زور طریقے سے داخل کرتا ہے ۔ جسم کو آکسیجن کی ترسیل بعض اوقات کم ہو جاتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ماحول میں آکسیجن کی کمی یا پھر دیر تک گہرے سانس نہ لینے کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ گہرے سانس نہ لینے کا سبب عام طور پر تھکن یا پھر دباؤ میں رہنا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ہم زیادہ دیر تک سست اور غیر فعال ہو کر بیٹھے رہتے ہیں یہ صورتحال بھی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی ترسیل کو ممکن نہیں رہنے دیتی ۔ جب خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو جسم کا فطری نظام جمائی لینے کا عمل پیدا کر دیتا ہے ۔ اس عمل میں ہمارا منہ بہت زیادہ کھل جاتا ہے ۔ زیادہ منہ کھلنے سے زیادہ ہوا پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے اور بھر پور مقدار میں آکسیجن ملتی ہے ۔ خون میں زیادہ آکسیجن جانے سے سستی اور تھکن دور ہو جاتے ہیں۔

25/02/2022

کچے انڈے صحت کے لیے کیسے ہیں؟؟؟ کیا ان سے ویٹ گین کر سکتے ہیں؟؟؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچّے انڈے میں زیادہ غذائیت پائی جاتی ہے،اور اس کا استعمال ہمارے لئے فائدے مند ہوتا ہے۔لیکن حقائق اسکے برعکس ھیں جنہیں جاننے کے بعد آپ کچّا انڈہ استعمال کرنا چھوڑ دیں گے۔
عموماً لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچّے انڈے کے استعمال سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ اس میں اکثر ‘سالمونیلا’ نامی ایک بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کچّا انڈہ استعمال نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آپ انڈے سے ملنے والی پروٹین کی مقدار کو کم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک انڈے میں تقریباً 6 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے۔جب انڈہ کچّا ہوتا ہے تو یہ پروٹین ایک گیند کی شکل میں بند ہوتا ہیں۔پروٹین کو اس حالت میں جذب کرنا ہمارے جسم کے لئے مشکل ہوتا ہے۔لیکن جب آپ انڈے کو پکا لیتے ہیں تو یہ پروٹین اپنی مخصوص حالت سے باہر آکر ایک نئی شکل اختیار کرلیتا ہے۔اس عمل میں انڈے کی سفیدی جوشفاف ہوتی ہے وہ سفید ہوجاتی ہے۔ اس حالت میں پروٹین کو جذب کرنا ہمارے جسم کےلئے آسان ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق، کچّا انڈہ استعمال کرنے والے لوگ صرف 50 فیصد تک پروٹین کو ہی جسم میں جذب کر پاتے ہیں۔جبکہ وہ لوگ جو انڈے کو پکا کر استعمال کرتے ہیں،91 فیصد تک پروٹین کو جسم میں جذب کرپاتے ہیں۔انڈوں میں9 ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔لیکن یہ غذائی اجزاء انڈے میں پائےجانے والےپروٹین میں بند ہوتے ہیں۔ تو اپنے جسم پر ایک احسان کریں اور کچا انڈہ کھانے کے بجائے اسے اپنےپسندیدہ طریقے سے پکا کر استعمال کریں۔

23/02/2022

جسم کے کسی حصہ میں خارش ہوتی ہے تو کھجانے سے تسکین مل جاتی ہے.
خارش اصل میں کیا ہے اور کھجانا انسان کو سکون کیسے دیتا ہے؟

انسانی جلد پر بہت سے سینسرز ہوتے ہیں مثلاً درجہ حرارت کے سینسرز، دباؤ کے سینسرز، درد کے سینسرز جو مختلف قسم کی چیزوں کو سینس کرتے ہیں- اسی طرح جلد پر ایک مخصوص قسم کے نیورونز ہوتے ہیں جو صرف اس وقت فائر کرتے ہیں جب جلد پر کوئی چیز رینگ رہی ہو- یہ نیورونز جب فائر کرتے ہیں تو دماغ ایک مخصوص احساس پیدا کرتا ہے جس سے ہمیں اس جگہ کو کھجانے کی خواہش ہوتی ہے- اس احساس کو خارش کہتے ہیں-

یہ نیورونز کچھ کیمیکلز سے بھی متاثر ہو کر فائر کرنے لگتے ہیں- کچھ حشرات کے لعاب دہن میں ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں جن سے یہ نیورونز فائر کرنے لگتے ہیں- ایسے کیڑوں کے کاٹنے سے جسم پر خارش ہونے لگتی ہے- اسی طرح کچھ آٹو امیون بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ نیورونز ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں اور جسم پر خارش ہونے لگتی ہے
قدیر قریشی

خارش کی وجوہات:

انسانی جسم پر خارش ہونے کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

۱- خارش کی ایک بہت بڑی وجہ ایک قسم کی چھوٹی چھوٹی جوئیں (Scabies)، جو صرف خوردبین سے نظر آتی ہیں، ہو سکتی ہیں۔ یہ خارش عموماً جسم کے ان حصوں میں زیادہ ہوتی ہے جہاں جلد میں بہت ساری تہیں (folds) ہوتی ہیں جن میں ان جوؤں کو چھپنے کا موقع ملتا ہے۔ مثلاً انگلیوں کے بیچ میں، گھٹنوں اور کہنیوں کے اوپر، اور مردوں میں ٹیسٹیز کے اوپر۔ اس خارش کی دوسری پہچان یہ ہے کہ یہ گھر میں ایک سے زیادہ افراد کو ایک ساتھ ہوتی ہے کیونکہ جوئیں ایک سے دوسرے انسان کو آسانی سے لگ جاتی ہیں۔ اس خارش کے علاج کے لیے ڈاکٹر حضرات عموماً اینٹی سکيبیز لوشن یا کریم دیتے ہیں جس سے سب گھر والوں کو ایک ساتھ علاج کروانا ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر میں روزآنہ کپڑے تبدیل کرنا، استعمال شدہ کپڑوں کو تیز گرم پانی سے دھونا، اور علاج کے دوران میاں بیوی کا قربت کے تعلقات سے پرہیز کرنا شامل ہیں۔

۲- خارش کی ایک اور اہم وجہ فنگس ہے۔ یہ خارش عموماً ان جگہوں میں ہوتی ہے جہاں عام طور پر دھوپ نہیں لگتی یا جہاں پسینہ آنے کی وجہ سے جلد گرم اور مرطوب رہتی ہے، مثلاً بغلوں میں، خواتین میں چھاتیوں کے نیچے، مردوں میں فوطوں پر، اور مردوں اور خواتین دونوں میں جنسی اعضاء کے اوپر۔
یہ خارش بھی میاں بیوی میں قربت کے تعلقات کی وجہ سے آسانی سے ایک دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر حضرات اینٹی فنگل (اینٹی بائیوٹک ہر گز نہیں) ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت میں ہو تو دونوں کا علاج ایک ساتھ ضروری ہے چاہے کسی ایک پارٹنر میں خارش نہ بھی ہو تاکہ صحت یاب ہونے کے بعد دوسرے پارٹنر سے دوبارہ فنگس کی منتقلی کے امکانات کم ہوں۔ کچھ کیسیز میں، مثلاً گردن اور سینے کے اوپر سفید دھبے، فنگس بغیر خارش کے بھی ہو سکتی ہے جس کا علاج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

۳- خارش کی ایک اور وجہ الرجی یا حساسیت بھی ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات ہماری جلد کسی خاص چیز کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتی ہے جس سے کونٹیکٹ ہونے کی صورت میں جلد پر خارش شروع ہو جاتی ہے۔ اسے (Contact dermatitis) بھی کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں الرجن (جس چیز سے الرجی ہو) سے بچنا اور اینٹی الرجی ادویات کے استعمال سے آرام آجاتا ہے۔

۴- خارش کبھی کبھی امیون سسٹم کی خرابی یا زیادہ حساسیت (Auto immune disorder) کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ اسکی مثالیں سورائیسز اور اٹوپک ایکزیما ہیں۔ یہ اگر معمولی سطح پر ہو تو سٹرائیڈ کریم اور اینٹی الرجی ادویہ سے آرام آجاتا ہے۔ زیادہ تکلیف کی صورت میں امیون سسٹم کو دبا کر رکھنے والی ادویات استعمال کروائی جاتی ہیں جن سے اس وقت تک آرام ملتا ہے جب تک استعمال کرتے رہیں۔ تکلیف کم ہونے کی صورت میں دوا میں وقفہ، اور بڑھ جانے پر دوبارہ سے شروع کرائی جاتی ہے۔
اگر الرجی کی وجہ معلوم ہو تو جس چیز سے الرجی ہے، اس کے مقابلے کے لیے خصوصی ویکسین بنوائی جا سکتی ہے۔ یہ کام پہلے اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ لیبارٹری کرتی تھی، آجکل معلوم نہیں اس کی کیا صورت حال ہے۔

۵- کچھ لوگوں کی جلد خشک ہوتی ہے انہیں سرد اور خشک موسم میں خارش کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی اچھی کوالٹی کی کریم، لوشن، ویزلین، یا سرسوں کا تیل لگانے سے بھی آرام آ جاتا ہے۔ جلد روشنی کے لئے حساس ہونے کی صورت میں دھوپ میں خارش یا جسم میں سوئیاں چھبنے جیسی علامات کی شکایت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خاص اینٹی بائیوٹک دوا کا ایک سائیڈ ایفیکٹ بھی ہے۔ ایسی صورت میں اگر تکلیف زیادہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے دوا بدلنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


D-Block, Street #01, Youhanabad Ferozpur Road
Lahore

Opening Hours

Monday 15:00 - 22:00
Tuesday 15:00 - 22:00
Wednesday 15:00 - 22:00
Thursday 15:00 - 22:00
Friday 15:00 - 22:00
Saturday 15:00 - 22:00