History explorers
اسلام وعلیکم،
اگر آپ تاریخی اور دلچسپ معلومات حاصل کرن?
22/08/2021
گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق (1982 سے 1998 کے درمیان) پاکستان کے عالم چنا دنیا کے سب سے طویل القامت شخص تھے۔ عالم چنا کا قد 7 فٹ 7 انچ لمبا تھا۔ عالم چنا کا تعلق ایک غریب سندھی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی ان کے گھرانے کے مرد روایتی طور پر سہون شریف کے مشہور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر معمولی ملازمین تھے۔ 1978 میں سالانہ عرس کے دوران مزار کے بیرونی حصے میں لگائی گئی کسی ایک سرکس کے مالک نے عالم چنا کو سرکس میں ملازمت کی پیش کش کی۔ عالم چنا مزار پر ہفتے میں صرف 15 روپے کما رہے تھے! لہٰذا جب سرکس والوں نے انہیں ماہانہ 160 روپے کی پیش کش کی تو انہوں نے فوراً پیش کش قبول کرلی۔ سرکس نے عالم چنا کو مقامی اسٹار میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے سرکس کے ساتھ سندھ کے ہر کونے کا سفر کیا۔ چھوٹے قد کے دو جوکرز حسب معمول اپنا کرتب دکھاتے، جس دوران انہیں صرف ان کے درمیان اینٹری لینی ہوتی۔ وہ چلتے ہوئے اندر آتے اور ان جوکرز کو اوپر اٹھانا شروع کرتے تھے (جو خود کو یوں محسوس کرتے کہ جیسے وہ اس دیو ہیکل شخص سے بچ کر بھاگ رہے ہوں)۔ عالم چنا انہیں جھپٹ کر پکڑ لیتے اور اپنے کندھوں پر رکھ دیتے تھے۔ 1981 میں ایک شخص نے عالم چنا کو سرکس میں دیکھ کر گنیز بُک آف ورلڈ رکارڈز کے ایڈیٹرز کو خط لکھا۔ خط کے ساتھ انہوں نے سرکس میں عالم چنا کی کھینچی ہوئی کچھ تصاویر بھی بھیج دیں۔ کچھ مہینوں بعد گنیز سے کچھ افسران سندھ کے دار الخلافہ کراچی آئے اور وہاں سے وہ سہون پہچے جہاں انہوں نے عالم چنا سے ملاقات کی اور ان کا قد ناپا۔ اس وقت ان کا قد 7 فٹ 7 انچ ناپا گیا تھا۔ برطانیہ واپسی پر انہوں نے عالم چنا کا نام دنیا کے سب سے طویل القامت انسان کے طور پر درج کر لیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مقامی سندھی اخباروں میں شائع ہوئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی اخباروں نے اس خبر کو شائع کیا اور پھر آخر کار سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر رات 9 بجے کے اردو خبر نامے میں اس خبر کو نشر کیا گیا۔ راتوں رات 'عالم چنا' ایک مشہور نام بن گیا تھا۔ وہ جہاں جاتے، میڈیا نمائندگان اور تماشائی ان کا پیچھا کرتے آجاتے۔ انہیں جس انداز میں شہرت مل رہی تھی وہ اس سے پریشان ہو گئے تھے۔ عالم چنا نے سرکس چھوڑ دی اور پھر سے مزار پر معمولی ملازمت شروع کر دی۔ 1985 میں جرنل ضیاء الحق نے عالم چنا کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔23 مارچ کو جرنل ضیاء الحق کے ہاتھوں یومِ پاکستان کی پریڈ تقریب کے دوران ایک خصوصی ایوارڈ وصول کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ 21 مارچ کو انہیں کراچی لے جایا گیا اور پھر ہوائی سفر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تقسیم ایوارڈ کی تقریب کے دوران ہزاروں افراد کے سامنے انہوں نے ضیا سے ایوارڈ وصول کیا اور ایک فوٹوگرافر نے پریس کے لیے اس موقعے کو قید کر لیا۔ پاکستان کے تمام نمایاں اخبارات (اور برطانیہ کے ڈیلی ٹیلی گراف نے بھی) نے ضیا کے ہاتھوں عالم چنا کو ایوارڈ دیتے وقت کی تصویر شائع کی جسے وصول کرنے کے لیے انہیں نمایاں طور پر جھکنا پڑا تھا۔ وہی تصویر کافی سندھی اخبارات میں بھی شائع ہوئی، لیکن ایک الگ کیپشن کے ساتھ۔ بجائے یہ لکھنے کے کہ 'دنیا کے سب سے طویل القامت شخص عالم چنا صدر ضیاء الحق کے ہاتھوں خصوصی ایوارڈ وصول ک رہے ہیں'، زیادہ تر سندھی اخبارات نے (سندھی میں) لکھا کہ 'سندھ اب بھی ضیاء کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ انہوں نے 1989 میں شادی کی ۔1990ءسےھی ان کی صحت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ وہ اکثر مایوس اور تنگ ہو جاتے تھے اور یہی شکایت کرتے کہ وہ اپنی عام سی زندگی میں ہی بہت خوش تھے۔ وہ اکثر اپنے سرکس کے دنوں کے بارے میں باتیں کرتے اور انہوں نے لعل شھباز قلندر کے مزار پر بھی عقیدتاّ ملازمت جاری رکھی ۔ باوجود اس کے کہ انہیں دنیا بھر سے نقد انعامات اور تحائف ملنا شروع ہو گئے تھے 1998 میں ان کے گردے ناکارہ ہونا شروع ہو گئے۔ حکومت نے انہیں علاج کے سلسلے میں اپنے خرچے پر امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا، مگر امریکی ہسپتال میں کوما میں چلے گئے اور جلد ہی وفات پا گئے۔ اس وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔ وہ سہون شریف میں مدفون ہیں۔
ابنِ آدم کی ہوا میں اڑنے کی چند ابتدائی کاوشیں ، جن کے مثبت نتائج آج کے کئی سو ٹن وزنی ہوائی جہازوں کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں.
A few early attempts by the Man to fly in the air, with positive results in the form of today's hundreds of tons of airplanes.
15/07/2021
رضیہ سلطانہ
عورت جب گھر میں فارغ بیٹھتی ہے تو اسے محبت سُوجھتی ہے‘ دربار میں پیش ہونے والے ’پریم کہانی‘ سے متعلق کیس پر جب ہندوستان کی واحد خاتون حکمران نے یہ الفاظ کہے اس وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ نہ صرف جلد ہی یہ تعلق خود اس کا دامن تھامنے والا ہے بلکہ تخت و تاج کے لیے خطرہ بھی بننے والا ہے۔
اصطبل میں کام کرنے والا غلام اور وہ بھی حبشی، جب نظر میں آیا تو اس کے دل کے تار بجتے چلے گئے جسے اس نے چھپانے کی بھی زیادہ کوشش نہیں کی، اسے امیرالامرا بنا دیا گیا، بے تکلفی اتنی بڑھی کہ جب گھوڑے پر سوار ہوتی تو وہی غلام بغل میں ہاتھ ڈال کر سوار کرواتا، جس پر ترک النسل امرا جل بُھن جاتے۔
اسے احساس ہوتا بھی، لیکن یہ سب غیرارادی طور پر ہو جاتا، غلام سے دلچسپی کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ وہ خود بھی خاندان غلاماں سے تھیں۔
رضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئیں، ان کے آٹھ بھائی تھے لیکن والد کے سب سے زیادہ قریب وہی تھیں کیونکہ ان کے زیادہ تر بھائی ریاست چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جسے التتمش نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ رضیہ رنگ و روپ کےعلاوہ بھی ہر اس ہنر سے آشنا تھیں جو حکمران بننے کے لیے ضروری ہو، یہی وجہ ہے کہ التتمش نے ان کی پرورش انہی خطوط پر کی۔ تلوار بازی، گھڑ سواری کے ساتھ ساتھ اچھی تعلیم بھی دلوائی گئی نوعمری میں پردہ بھی شروع کروا دیا گیا۔
التتمش نے انہیں اپنا جانشیں مقرر کیا تو خاندان ہی نہیں پورے ملک میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ ’عورت حکمران کیسے ہو سکتی ہے؟‘ التتمش کے انتقال کے بعد وصیت پر عمل نہیں کیا گیا اور رضیہ کے بھائی رکن الدین نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ سب کا خیال تھا کہ رضیہ عام خاتون کی طرح رو دھو کر چپ کر جائیں گی مگر وہ ’عام‘ نہیں تھیں۔
تخت کی جانب قدم
ان کا بھائی رکن الدین حکمرانی کے لیے انتہائی نااہل ثابت ہوا، جلد ہی نامناسب سرگرمیوں میں گھر گیا۔ اس کی والدہ (رضیہ کی سوتیلی ماں) نے التتمش کی دیگر بیویوں کو قتل کروا دیا جو اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جس پر ان کے رشتہ دار حکومت کے خلاف ہو گئے، اس صورت حال کا فائدہ رضیہ کو ہوا اور وہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہیں کہ اصل جانشیں وہی ہیں، ناقص طرز حکمرانی کا یہ سلسلہ صرف سات ماہ چلا اور بغاوت ہو گئی، رکن الدین کو تخت چھوڑنا پڑا۔
چاروں طرف مچے اس شور ’عورت حکمران کیسے ہو سکتی ہے‘ کے باوجود رضیہ نے تخت سنبھال لیا۔ پہلے ہی روز وہ بغیر پردہ کے (کھلے چہرے کے ساتھ) مردوں کا لباس پہنے شان بے نیازی سے دربار میں آئیں تو سب حیران رہ گئے، کچھ کُھسر پُھسر ہونا شروع ہوئی ہی تھی کہ ان کی بارعب آواز نے سب کو خاموش کر دیا۔
وہ خود کو سلطانہ کے بجائے سلطان کہلوانا پسند کرتیں، کہتیں ’سلطانہ کا مطلب ہے سلطان کی بیوی یعنی وہی دوسرا درجہ، جبکہ میں تو خود سلطان ہوں‘ چند روز بعد ہی کچھ سرکش گروہوں نے اس خیال کے ساتھ بغاوت کر دی کہ ایک عورت آخر کتنی مزاحمت کر لے گی لیکن رضیہ نے نہ صرف بغاوت کو کچلا بلکہ سازشوں کا سیاسی سوجھ بوجھ سے مقابلہ کیا، جس پر سب کے دلوں میں اس کا رعب تو پیدا ہو گیا تاہم ’عورت‘ والی پُرخاش دور ہو سکی نہ حبشی غلام کی قربت ہضم ہوئی۔ وہ ایک باقاعدہ سلطان کے طور پر سامنے آئیں۔ جنگ کے موقع پر جنگی لباس پہن اور تلوار بھالے لیے خود جنگ میں شریک ہوتیں، انہیں مردوں کے ساتھ بہت بہادری کے ساتھ لڑتے دیکھا گیا۔ انہوں نے تقریباً ساڑھے تین سال حکومت کی۔
وہ اس وقت جوان، جاذب نظر اور غیرشادی شدہ تھیں، ہندوستان ہی نہیں کئی دلوں پر بھی راج کر رہی تھیں جن میں بٹھنڈہ کا حاکم ملک التونیہ بھی شامل تھا اور نکاح کا پیغام بھی بھجوا چکا تھا تاہم رضیہ کی نظر التفات حبشی غلام جمال الدین عرف یاقوت پر تھی جب یہ قصے التونیہ تک پہنچے تو اس نے رقابت میں لاہور کے حاکم ملک اعزاز الدین کو ساتھ ملا کر رضیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا دہلی کے امرا بھی ان کے ساتھ تھے۔
رضیہ کو اطلاع ملی تو وہ جمال الدین یاقوت اور لشکر سمیت روکنے کے لیے نکل پڑیں لیکن دہلی میں انہی باغیوں نے انہیں گھیر لیا جو عورت کی حکمرانی اور غلام سے تعلق کے خلاف تھے۔ ابھی معرکہ جاری ہی تھا کہ ملک التونیہ کا لشکر بھی پہنچ گیا۔ شدید لڑائی ہوئی۔ رضیہ کے لیے وہ بڑا جاں کُن لمحہ تھا جب آنکھوں کے سامنے جمال الدین یاقوت کو مرتے دیکھا، رضیہ کو قید کر لیا گیا۔ باغیوں نے ان کے بھائی معزالدین کو بادشاہ بنا دیا۔ امکان یہی تھا کہ رضیہ کو قتل کر دیا جائے گا تاہم التونیہ نے پیشکش کی اگر وہ اس سے شادی کر لیں تو وہ جان بخشی کروا سکتا ہے۔ رضیہ نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد ہاں کر دی۔
شادی اور جنگجویانہ فطرت
کہا جاتا ہے کہ رضیہ نے التونیہ سے شادی صرف اس لیے کی تھی کہ زندہ رہیں اور پھر سے اپنا تخت حاصل کر سکیں کچھ ہی عرصہ میں انہوں نے التونیہ کو اس بات پر قائل کر لیا کہ دہلی کے تخت کی اصل حقدار وہی ہیں، اس لیے ایک بھرپور حملہ کرنا چاہیے التونیہ چونکہ انہیں بہت پسند کرتا تھا اس لیے مان گیا، حملے کے لیے تیاری شروع کر دی گئی، جو کافی عرصہ چلی، کھکڑوں، جاٹوں اور ارد گرد کے زمینداروں کی حمایت حاصل کی گئی، لشکر تیار کیے گئے اور پھر ایک روز حملے کے لیے روانگی ہوئی، جس کی قیادت التونیہ اور رضیہ کر رہے تھے۔
معزالدین کے بہنوئی اعزازالدین بلبن لشکر سمیت مقابلے کے لیے آیا، شدید لڑائی ہوئی لیکن رضیہ اور التونیہ کو شکست ہوئی اور فرار ہو کر واپس بٹھنڈہ جانا پڑا۔
کچھ عرصہ بعد پھر منتشر فوج کو جمع کر کے ایک بار پھر دہلی پر حملہ کیا نتیجہ اب کے بھی مختلف نہ تھا، رضیہ اور التونیہ کو ایک بار پھر فرار ہونا پڑا۔
موت، مدفن
کافی گھنٹوں تک گھوڑے سرپٹ دوڑتے رہے، وہ کتھل کا علاقہ تھا، انتہائی تھک ہار چکے تھے، کچھ معمولی زخمی بھی تھے، ایک درخت کے نیچے گھوڑے روکے، وہیں سستانے کے لیے بیٹھے، بھوک سے برا حال ہو رہا تھا، وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے انہیں کھانے کا کچھ سامان دیا، چند گھنٹے بعد 14 اکتوبر 1240 کو اسی درخت کے نیچے سے لاشیں ملیں۔
موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیچھا کرتے ہوئے فوجیں وہاں پہنچ گئی تھیں اور دوسرا خیال یہ ہے کہ جس شخص نے کھانے کا سامان دیا تھا اسی نے بعد میں ساتھیوں سمیت آ کر قتل کر دیا تھا کیونکہ رضیہ نے بیش قیمت زیورات بھی پہن رکھے تھے۔
بعدازاں رضیہ کے بھائی نعش کو دہلی لے گئے اور ترکمانی دروازے کے پاس بلبل خانے میں دفن کر کے مقبرہ بنوایا جو آج بھی رجی سجی کی درگاہ کے نام سے موجود ہے۔
دل میں کھوٹ اور بے ایمانی ہو
تو ایٹمی طاقت رکھنے والے "اسلامی جمہوریہ " میں بھی ستر سال گزرنے کے باوجود شریعت نافذ نہیں ہو سکتی۔
نیت خالص ہو تو کئی ممالک کی متحدہ افواج کی یلغار کے نتیجے میں تباہی و بربادی کے شکار کہساروں کے ملک میں بھی شرعی احکامات نافذ کیے جا سکتے ہیں !!!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Shad Bagh
Lahore