Read learn Online

Read learn Online

Share

E- Education, free short courses, Jobs, updates, News & blogs, story telling, learn & earn material

Photos from Read learn Online's post 22/08/2021

پاکستان میں بناسپتی گھی کنگ آئل کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کے گورنمنٹ نے پرائس بڑھا دی ہیں اسی تناظر میں میں کوشش کی ہے کہ آپ کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے سو آپ سب مل کر اصل مسئلے کو اجاگر کر سکیں.
پاکستان میں استعمال ہونے والا بناسپتی گھی یا کوکنگ آئل جس کی ٹوٹل ڈیمانڈ تقریبا 18 سے 20 لاکھ ٹن سالانہ ہے اور اس کا 80 فیصد سے نوے فیصد باہر کے ملکوں ملائیشیا کینیڈا برازیل امریکہ سے پام آئل, سویا آئل اور سیڈ, کینولا آئل اور سیڈ کی صورت میں درآمد کیا جاتا ہے. مقامی سطح پر پیدا ہونے والا کاٹن سیڈ آئل, سن فلاور آئل وغیرہ صرف 10 سے 20 فیصد ملک کی ڈیمانڈ پورا کر سکتا ہے. باہر کے ملکوں سے درآمد کرنے کی وجہ سے ہمیں اس کی پیمنٹ ڈالر میں کرنی پڑتی ہے جو تقریبا چھ سے آٹھ ارب ڈالر سالانہ ہے جو کہ ہمارے زرمبادلہ پے ایک بڑا بوجھ ہے. برآمدات کے مقابلے میں بہت زیادہ درآمدات اور ایسی درآمدات جو ہم اپنے ملک میں بھی خود کفیل ہو سکتے ہیں نہ صرف قیمتوں کے بڑھنے کی ایک وجہ ہیں بلکہ کسی دوسرے ملک میں ہونے والے فیصلوں اور تبدیلیوں کے نتیجے میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. مثال کے طور پے پام آئل جس سے بناسپتی گھی بنایا جاتا ہے ملائیشیا سے درآمد کیا جاتا ہے. ملائیشیا میں لگے لاک ڈاؤن, یا موسمی حالات, یا گورنمنٹ کے فیصلے جس میں انہوں نے پام آئل کو بائیو گیس یا انرجی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی بنائی ہے جس کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا اور کیوں کہ ہم باہر کے ملکوں سے درآمد کرتے ہیں اس لئے ہم بھی اور کنگ آئل ریکارڈ قیمت پر میسر ہے.
ہمارے لیے یہ ایک شرم کا مقام ہے کہ ہم زراعت پیشہ ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی یہ ایک اہم چیز باہر سے درآمد کرے گورمنٹ کو چاہیے ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے ایسی تمام فصل اپنے ملک میں پیدا کی جا سکے جو نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کرے بلکہ کم قیمت پر عام عوام کو بناسپتی گھی یا کوکنگ آئل میسر ہو. چھ سے آٹھ بلین ڈالر کی یہ انڈسٹری جب مقامی سطح پر پیداوار کرے تو یہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی بنے گی.
اگر ہم نے گورنمنٹ کو اس جانب ترغیب نہ دلائیں تو آنے والے وقت میں ہم پاکستانی بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل چار سو اور پانچ سو روپے فی کلو کے حساب سے بھی خریدیں گے.
عثمان جعفر

15/02/2021

کارلافے ٹکر ایک طوائف کے یہاں پیدا ہوئی اس کی ولدیت کے خانے میں اس کی ماں ہی کا نام لکھا گیا- ماں کی گوناگوں " مصروفیات " کی باعث ٹکر کی تربیت کا مناسب بندوبست نہ ہوسکا لیہذا گندے ماحول اور عدم توجہ کے باعث 8 برس کی عمر میں اس نے سگریٹ نوشی شروع کر دی اور بمشکل دس برس کی عمر میں اس نے چرس پینا بھی شروع کر دی- 13 برس کی عمر میں جب وہ ابھی جوانی کے دروازے پر ہلکی ہلکی دستک دے رہی تھی تو اس کی ماں اسے پہلی بار "ساتھ" لے کر "باہر" نکلی جس کے بعد وہ مسلسل 11برس تک گناہ کی گھاٹیوں میں اترتی رہی اور ذلت کے صحراؤں میں ننگے پیر چلتی رہی-

پھر 1983ء کی وہ رات آگئی جب اس نے اپنے بوائےفرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جوڑے سے موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش میں جوڑے کو ہلاک کرکے یہ دونوں فرار ہو گئے لیکن چند ہی ہفتوں میں پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا- مقدمہ چلا اور ٹیکساس کی عدالت نے دونوں کو سزائےموت سنا دی، جس کے بعد اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا- اسی دوران اس کا بوائےفرینڈ بیمار ہوکر جیل میں انتقال کر گیا جس کے بعد وہ تنہا رہ گئی-
جیل حکام کو اس حادثے کا کوئی علم نہیں جس نے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا، وہ لڑکی جو بات بات پر جیل انتظامیہ کو ننگی گالیاں دیا کرتی تھی وہ اچانک اپنا ذیادہ تر وقت بائبل کے مطالعے میں گزارنے لگی، وہ نشئی عورت جو ہر وقت سگریٹ اور شراب کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اب ذیادہ تر روزے سے رہنے لگی اور اب اللہ اور مسیح کے سوا کسی چیز کا نام نہیں لیتی تھی- وہ ایک طوائف زادی اور قاتلہ کی جگہ مبلغہ بن گئی، ایک ایسی مبلغہ جس کے ایک ایک لفظ میں تاثیر تھی، پھر اس نے جیل ہی میں شادی کرلی اور تبلیغ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا-

اس کی بدلی ہوئی شخصیت کی مہک جب جیل سے باہر پہنچی تو اخبارات کے رپورٹر جیل پر ٹوٹ پڑے اور امریکہ کی معاشرتی زندگی میں بھونچال آگیا، یہاں تک کہ پوپ جان پال نے بھی زندگی میں پہلی بار عدالت میں کسی قاتلہ کی سزا معاف کرنے کی درخواست کر دی-

سزائےموت سے پندرہ روز قبل جب لیری کنگ جیل میں ٹکر کا انٹرویو کرنے گیا تو دنیا نے سی این این پر ایک مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھا جو پورے اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا- لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا"- ٹکر نے مسکرا کر جواب دیا " نہیں! اب مجھے صرف اور صرف موت کا انتظار ہے، میں جلد اپنے رب سے ملنا چاہتی ہوں، اپنی کھلی آنکھوں سے اس ہستی کا دیدار کرنا چاہتی ہوں جس نے میری ساری شخصیت ہی بدل دی"-

انٹرویو نشر ہونے کے دوسرے روز پورے امریکہ نے کہا: " نہیں یہ وہ ٹکر نہیں ہے جس نے دو معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا، یہ تو ایک فرشتہ ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اور فرشتوں کو سزائےموت دینا انصاف نہیں ظلم ہے"- رحم کی اپیل " ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول " کے سامنے پیش ہوئی- 18 رکنی بورڈ نے کیس سننے کی تاریخ دی تو 2 ممبروں نے چھٹی کی درخواست دیدی جبکہ باقی 16 ممبران نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا- بورڈ کا فیصلہ سن کر عوام سڑکوں پر آگئے اور ٹکر کی درخواست لےکر ٹیکساس کے گورنر " جارج بش " کے پاس پہنچ گئے- امریکہ کے معزز ترین پادری جیسی جیکسن نے بھی ٹکر کی حمایت کر دی- گورنر نے درخواست سنی، جیسی جیکسن اور ہجوم سے اظہار ہمدردی کیا، لیکن آخر میں یہ کہہ کر معذرت کرلی: " مجھے قانون پر عملدرآمد کرانے کے لئے گورنر بنایا گیا ہے، مجرموں کو معاف کرنے کے لئے نہیں، اگر یہ جرم فرشتے سے بھی سرزد ہوتا تو میں اسے بھی معاف نہ کرتا"-

موت سے 2 روز قبل جب ٹکر کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو چیف جسٹس نے یہ فقرے لکھ کر درخواست واپس کر دی: " اگر آج پوری دنیا کہے کہ یہ عورت کارلافے ٹکر نہیں، ایک مقدس ہستی ہے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئے کوئی ریلیف نہیں ہے کیونکہ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو بےگناہ شہریوں کو کوئی رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی منصف رعایت نہیں دے سکتا، ہم خدا سے پہلے ان دو لاشوں کے سامنے جوابدہ ہیں، جنہیں اس عورت نے ناحق مار دیا"-

3 فروری 1998ء کی صبح پونے چھ بجے ٹیکساس کی ایک جیل میں 38 سالہ " کارلافے ٹکر " کو زہریلا انجیکشن لگا کر سزائےموت دیدی گئی-

4 فروری کو جب سی این این سے کارلافے ٹکر کی موت کی خبر نشر ہو رہی تھی تو میں نے اپنے ضمیر سے پوچھا کہ وہ کیا معجزہ ہے جو امریکہ جیسے سڑے ہوئے بیمار معاشرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے تو حافظے میں حضرت علی کا قول زریں چمکنے لگا: " معاشرے کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ناانصافی کے ساتھ نہیں"-
جو عدالتیں عوامی احتجاج یا حکمرانوں سے متاثر ہو کر اپنے فیصلے بدل دیں، تو وہ عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں ہوائیں کرتی ہیں-

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Johar Town
Lahore