Syed Hamdosh Haider Rizvi

Syed Hamdosh Haider Rizvi

Share

Anchor/Host/RJ/VoiceOver Artist/CEO Vision Marketing and Productions

27/05/2026
24/05/2026

24 مئی 2026 میرے بابا سائیں، سید وحید حیدر رضوی کی پہلی برسی

اے اللہ! بابا سائیں کے درجات کو محمد و آلِ محمد (ع) کے صدقے بلند فرما، ان کی قبر کو نورِ ولایت سے منور فرما، اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے مقربین اور اہل بیت (ع) کے ساتھ محشور فرما۔
آج آپ کی پہلی برسی کے موقع پر، تمام مومنین و مومنات سے التماسِ دعا ہے کہ مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے سورہ فاتحہ، سورہ توحید، اور درود و سلام کا تحفہ نذر کریں۔
خدایا! انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ آمین، یا رب العالمین۔

21/05/2026

21 مئی 2025…
یہ صرف ایک تاریخ نہیں، میری زندگی کا وہ آخری دن تھا جس کے بعد میں کبھی پہلے جیسا نہیں رہا۔
آج بھی وہ سفر، وہ راستے، وہ لمحے سب یاد ہیں۔ لاہور سے بہاولپور جا رہا تھا، دل میں عام سے خیال تھے، زندگی معمول کے مطابق لگ رہی تھی۔
کیا معلوم تھا کہ صرف تین دن بعد، 24 مئی 2025 میری پوری دنیا اُجڑ جائے گی۔

کیا معلوم تھا کہ وہ سفر میری زندگی کے دو حصے کر دے گا…
ایک بابا سائیں کے ساتھ، اور ایک بابا سائیں کے بعد۔

24 مئی وہ دن تھا جب صرف ایک انسان نہیں گیا…
گھر کی رونق چلی گئی، دل کا سکون چلا گیا، سر سے سایہ اٹھ گیا۔
اس دن کے بعد ہر چیز ویسی ہی رہی، مگر کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا۔
وہی گھر، وہی دروازے، وہی لوگ… مگر ہر چیز میں ایک عجیب ویرانی اُتر آئی۔

بابا سائیں کے جانے کے بعد زندگی نے وہ چہرے بھی دکھائے جنہیں دیکھنے کا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
جن لوگوں پر کبھی رشک آتا تھا، جنہیں اپنا مانتے تھے، جن کے خلوص کی قسمیں کھاتے تھے… وقت نے اُن سب کی حقیقتیں ایک ایک کر کے کھول دیں۔
کچھ رشتے صرف بابا سائیں کی وجہ سے جڑے ہوئے تھے۔
وہ تھے تو سب اپنے تھے، سب خیر خواہ تھے، سب محبت جتاتے تھے۔
جیسے ہی وہ گئے، لوگوں کے لہجے بدل گئے، نظریں بدل گئیں، رویے بدل گئے۔

کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو بابا سائیں کے سامنے جھک جھک کر ملتے تھے، آج سلام تک بدل چکے ہیں۔
کچھ وہ تھے جنہیں گھر کا فرد سمجھتے رہے، مگر وقت نے بتایا کہ وہ صرف وقت کے ساتھی تھے، دکھ کے نہیں۔
اور سب سے زیادہ تکلیف تب ہوئی جب اپنوں کو بدلتے دیکھا۔
دشمنوں سے گلہ نہیں ہوتا… مگر جب اپنے بدل جائیں تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

یہ ایک سال بہت عجیب گزرا۔
لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اور گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
ہر خوشی ادھوری لگتی ہے، ہر محفل بے رنگ لگتی ہے۔
کبھی کبھی گھر میں شور ہوتا ہے، لوگ ہوتے ہیں، باتیں ہوتی ہیں… مگر دل پھر بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ جس آواز سے سکون آتا تھا، وہ آواز اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

بابا سائیں کے بعد سمجھ آیا کہ باپ صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا…
وہ گھر کی عزت بھی ہوتا ہے، طاقت بھی، حوصلہ بھی، سکون بھی۔
باپ کے جانے کے بعد انسان صرف غم نہیں اٹھاتا، وہ دنیا کے رویے بھی اٹھاتا ہے۔
وہ تنہائی بھی برداشت کرتا ہے جو ہجوم میں بھی ختم نہیں ہوتی۔

آج پھر 21 مئی 2026 ہے۔
میں پھر لاہور میں ہوں، اور کل واپس بہاولپور جانا ہے۔
مگر اس بار سب کچھ مختلف ہے۔
راستے وہی ہیں، شہر وہی ہیں، مگر دل اب پہلے والا نہیں رہا۔
ہر موڑ پر پچھلے سال کے فلیش بیکس سامنے آتے ہیں۔
ہر سفر ایسا لگتا ہے جیسے وقت مجھے زبردستی واپس اُس دن کی طرف لے جا رہا ہو جہاں میری دنیا ختم ہوئی تھی۔

کبھی کبھی دل ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ بابا سائیں واقعی چلے گئے ہیں۔
آج بھی کئی بار بے اختیار دل چاہتا ہے کہ فون اٹھاؤں، اُن کی آواز سنوں، گھر جاؤں اور وہ دروازے پر موجود ہوں۔
مگر پھر حقیقت سینہ چیر دیتی ہے کہ اب صرف یادیں باقی ہیں۔

اور شاید کچھ لوگ یہ کبھی نہیں سمجھ سکیں گے کہ بابا سائیں کے بعد صرف ایک انسان نہیں گیا…
میرے اندر کا سکون، میری ہنسی، میرا اعتماد، میری پوری دنیا اُن کے ساتھ چلی گئی۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore