Learning point

Learning point

Share

Never stop learning ; For when we stop learning, we stop growing �So every day we are offered new mean for learning and growing ��

16/10/2021

آج کی پوسٹ ان دیہاڑی داروں کے نام ۔جو ہفتے میں ایک دفعہ اپنی بیٹی کا پسندیدہ انڈے والا بند کباب لاتے ہیں اور ساتھ اعلان بھی کرتے ہیں کہ انکا پسندیدہ کھانا تو بس روٹی اور چٹنی ہے۔۔

آج کی پوسٹ ان عظیم مردوں کے نام
جو رات کو اپنے چھالے بھرے ہاتھوں سے , اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے لۓ گرما گرم مونگ پھلی لاتے ہیں اور ساتھ بیٹھ کر قہقہے لگا کر کہتے ہیں تم لوگ کھاٶ میں تو راستے میں کھاتا آیا ہوں۔

آج کی پوسٹ ان عظیم جوانوں کے نام
جو شادی کے چند دن بعد پردیس کی فلاٸٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا ATM بن جاتے ہیں، جنہیں اپنی بیوی کی جوانی اور اپنے بچوں کا بچپن دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔۔

آج کی پوسٹ ان سب مزدوروں، سپرواٸزروں اور فیلڈ افسروں کے نام
جو دن بھر کی تھکان کے ٹوٹے بدن کے باوجود اپنے بیوی بچوں کے مسکراتے چہرے دیکھنے کے لۓ رات کو واٸس ایپ (voice app) کال کرنا نہیں بھولتے۔

آج کی پوسٹ ان سب دکانداروں اور سیلزمینوں کے نام
جو سارا سارا دن اپنے وجود کے ساتھ لیڈیز سوٹ لگا کر کہتے ہیں
باجی دیکھیں کیسا نفیس پرنٹ اور رنگ ہے۔۔

آج کی پوسٹ ان سب عظیم مردوں کے نام
جو ملک کے کسی ایک کونے سے ڈراٸیو شروع کرتے ہیں اور پورے پاکستان میں اشیاء تجارت دے کر آتے ہوۓ اپنی بیٹی کے لۓ کسی اجنبی علاقے کی سوغات لانا نہیں بھولتے


آج کی پوسٹ ان معزز افسران کے نام
جو ویسے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے، مگر اپنے بچوں کے رزق کے لۓ سینٸیر اور سیٹھ کی گالیاں کھا کر بھی مسکرا دیتے ہیں۔

آج کی پوسٹ ان عظیم کسانوں کے نام
جو دسمبر کی برستی بارش میں سر پر تھیلا لۓ پگڈنڈی پھر کر کسی کھیت سے پانی نکالتے ہیں اور کسی میں ڈالتے ہیں۔

آج کی پوسٹ میرے والد صاحب کے نام
جنہوں نے مجھے زندگی دی اور زندگی بنا کر بھی دی۔۔۔
آج کی پوسٹ ہر نیک نفس، ایماندار اور محبت کرنے والے باپ، بھاٸی، شوہر اور بیٹے کے نام
جو اپنے لۓ نہیں اپنے گھر والوں کے لۓ کماتے ہیں

جنکا کوٸی عالمی دن نہیں ہوتا۔
مگر ہر دن ان کے لۓ عالمی دن ہوتا ہے
کیونکہ
جن کے لۓ وہ محنت کرتے ہیں وہی انکا سب کچھ ہوتے ہیں۔

05/04/2021

وجود اچھے کپڑے پہننے سے دلکش اور decorate نہیں ہوگا، اس کے لیے اندر کی صفائی بھی ضروری ہے.

03/04/2021
27/03/2021

مکافات عمل:
مجھے کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے اور ترس آتا ہے ان لوگوں پہ جو مکافات عمل سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کو اذیت دے کر، ان کو دکھ پہنچا کر اور ان سے ان کی خوشیاں چھین کر خود خوش رہنا چاہتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ مکافات محض ایک لفظ ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ جس قدر وہ گرتے جا رہے ہیں تو ان کا انجام کیا ہوگا؟ ایسا سب کچھ صرف ایسے لوگ کرتے ہیں جن کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے اور ان کو تو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر غلط کر رہے ہیں دوسروں کا دل توڑ کے، اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دلوں میں تو خدا بستا ہے.
اگر کوئی ہمارے ساتھ غلط کر بھی جائے تو ہمیں مکافات عمل یا تو یاد آ جاتا ہے یا ہمیں یہی لفظ بول کر دلاسہ دیا جاتا ہے، مگر ہمیں ایسا مکافات عمل نہیں چاہیے ہوتا ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہوتی ہے. ہمیں کسی کا برا چاہے بغیر اپنا بھلا چاہنا چاہیے. کیا پتہ کہ ہم جس مکافات عمل کے انتظار میں بیٹھے ہوں اور وہ شخص خدا کے سامنے ندامت کے چند آنسو بہا کر معافی طلب کر لے اور ہم انتظار میں بیٹھے ہوں کہ مکافات عمل کب ہو گا؟ کیونکہ دوسروں کو ملنے والی تکلیف سے آپکے ساتھ کی گئی ذیادتی ختم نہیں ہو جاتی ہمیں سب کو معاف کر دینا چاہیے اور خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ کسی کا برا کیے بغیر وہ آپ کا بھلا کر دے اور یقین مانیں معاف کر دینے سے دلوں کو سکون ملتا ہے.
از قلم شعوانہ عنبرین.

19/11/2020

*🔘🌼"تلخ حقیقت"🌼🔘*

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔

۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔

ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔

(سلیٹ) پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔

اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔

اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔

کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔

اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔

گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔

آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔

مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔

آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کر کے گھر رکھے ہوتے ہیں۔ ۔

روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔

آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔

ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔

آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی۔۔

غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...

آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..

اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں
غریب ہوں۔

*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*

*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.*

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore