489F cheque
For more information call or whatsapp +92-3244010279)
we are law firm from Lahore. Adv Mahar Ghulam Murtaza
غیر ملکی عدالت کے نان نفقہ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں دوسرا دعویٰ قابل سماعت نہیں
اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — PLJ 2026 Islamabad 170
⚖️ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کسی قابل اختیار غیر ملکی عدالت نے نابالغ بچے کے نان نفقہ کا تعین کر دیا ہو اور اس پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہو، تو پاکستان میں اسی مدت اور اسی ذمہ داری کے لیے متوازی نان نفقہ کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
---
✦ مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار محمد منیب ارشد اور مدعا علیہہ کے درمیان نابالغ بچی کے نان نفقہ کا تنازع موجود تھا۔ آئرلینڈ کی عدالت پہلے ہی بچی کے لیے نان نفقہ مقرر کر چکی تھی اور والد باقاعدگی سے ادائیگیاں کر رہا تھا۔
اس کے باوجود پاکستان میں فیملی کورٹ میں نان نفقہ کا دعویٰ دائر کیا گیا، جہاں عبوری نان نفقہ مقرر ہونے کے بعد عدم ادائیگی کی بنیاد پر سیکشن 17-A کے تحت والد کا حقِ دفاع ختم کر دیا گیا۔
والد نے اس حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔
---
⚖️ کیا پاکستانی عدالت غیر ملکی کارروائی کے باوجود دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ فریقین بیرون ملک رہتے ہیں، پاکستانی فیملی عدالتوں کا دائرہ اختیار خودبخود ختم نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کسی غیر ملکی عدالت نے اسی معاملے پر پہلے ہی فیصلہ دے دیا ہو اور اس پر عمل بھی ہو رہا ہو تو پاکستانی عدالتوں کو عدالتی احتیاط اور قانونی اصولوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
---
⚖️ متوازی نان نفقہ کارروائیاں کیوں ناقابل قبول ہیں؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
✔ ایک ہی ذمہ داری کے لیے دو مختلف عدالتوں سے دو الگ قابلِ نفاذ احکامات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
✔ قانون کسی شخص کو ایک ہی دعویٰ دو مرتبہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
✔ متوازی کارروائیاں دوہری مالی ذمہ داری (Double Burden) پیدا کرتی ہیں۔
✔ اس سے دوہری وصولی (Double Recovery) اور ناجائز فائدہ (Unjust Enrichment) کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
---
⚖️ Res Judicata کا اصول
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ایک قابل اختیار عدالت پہلے ہی کسی تنازع کا فیصلہ کر چکی ہو تو وہی معاملہ دوبارہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 17 کے تحت CPC کی دفعہ 11 (Res Judicata) فیملی مقدمات میں بھی لاگو ہوتی ہے۔
---
⚖️ Doctrine of Election کیا ہے؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
اگر کوئی فریق ایک فورم منتخب کر کے وہاں سے ریلیف حاصل کر لے تو وہ اسی دعویٰ کے لیے دوسرے فورم سے متوازی ریلیف حاصل نہیں کر سکتا۔
مدعا علیہہ نے آئرلینڈ کی عدالت سے نان نفقہ حاصل کیا، لہٰذا وہ اسی نان نفقہ کے لیے پاکستان میں متوازی کارروائی نہیں چلا سکتی تھی۔
---
⚖️ سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع کب ختم کیا جا سکتا ہے؟
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ:
✔ حقِ دفاع ختم کرنا ایک سخت تعزیری اقدام ہے۔
✔ صرف جان بوجھ کر نافرمانی ثابت ہونے پر ہی یہ اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
✔ عدالت کو وجوہات بیان کرنا ضروری ہیں۔
✔ اگر مدعا علیہ پہلے ہی کسی عدالتی حکم کے تحت نان نفقہ ادا کر رہا ہو تو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
---
⚖️ غیر وجوہاتی (Non-Speaking) حکم برقرار نہیں رہ سکتا
عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے حقِ دفاع ختم کرتے وقت اہم قانونی اعتراضات اور غیر ملکی عدالتی احکامات کا جائزہ نہیں لیا۔
اس لیے یہ حکم ایک Non-Speaking Order تھا جو قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتا۔
---
✦ اہم قانونی نکات
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ غیر ملکی عدالت کے نافذ العمل نان نفقہ احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایک ہی نان نفقہ ذمہ داری کے لیے دو عدالتی فورمز استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Res Judicata کا اصول فیملی مقدمات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Doctrine of Election متوازی کارروائیوں کو روکتا ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع ختم کرنے سے پہلے جان بوجھ کر نافرمانی ثابت کرنا ضروری ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دوہری وصولی اور ناجائز مالی فائدہ قانوناً قابل قبول نہیں۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ غیر وجوہاتی عدالتی احکامات برقرار نہیں رہ سکتے۔
---
نتیجہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب آئرلینڈ کی عدالت پہلے ہی نابالغ بچی کے نان نفقہ کا تعین کر چکی تھی اور والد اس پر عمل بھی کر رہا تھا تو پاکستان میں اسی ذمہ داری کے لیے متوازی کارروائی اور سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع ختم کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا۔
سول ریویژن مقررہ مدت کے بعد دائر ہونے پر خارج — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
⚖️ مقدمہ کا پس منظر
محمد محمود درانی کے انتقال کے بعد ان کی زرعی زمین ورثاء میں تقسیم ہونی تھی۔ ان کی بیٹی مستورات حفیظ بخاری نے دعویٰ دائر کیا کہ بعض ورثاء نے ایک مبینہ جعلی ھبہ نامے اور انتقالات کے ذریعے جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی اور اسے حقِ وراثت سے محروم کر دیا۔
ٹرائل کورٹ نے جزوی طور پر دعویٰ منظور کیا جبکہ اپیلٹ کورٹ نے خاتون کی اپیل قبول کرتے ہوئے اس کے حق میں مزید ریلیف دیا۔ اس فیصلے کے خلاف مخالف فریق نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کی۔
📌 اصل قانونی سوال
کیا مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی سول ریویژن قابلِ سماعت رہتی ہے؟
🏛️ ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سول ریویژن دائر کرنے کے لیے قانون میں 90 دن کی مدت مقرر ہے۔ اگرچہ درخواست گزاروں نے ریویژن دائر کی، لیکن دفتری اعتراضات بروقت دور نہ کیے گئے جس کے باعث مجموعی تاخیر 34 دن تک پہنچ گئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفتری اعتراضات دور کرنے میں صرف ہونے والا وقت بھی مدتِ معیاد میں شامل ہوتا ہے۔
✦ اہم قانونی نکات
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانونِ معیاد انصاف کے نظام کا بنیادی ستون ہے۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کوئی فریق اپنی مرضی کے وقت پر پرانے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دفتری اعتراضات دور کرنے میں ہونے والی تاخیر بھی مدتِ معیاد میں شمار ہوگی۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد مخالف فریق کے حق میں ایک قابلِ تحفظ قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض سستی، غفلت یا لاپرواہی تاخیر معاف کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مدتِ معیاد ختم ہونے کے بعد عدالت عموماً مقدمہ کے میرٹ پر غور نہیں کرتی۔
⚠️ قانونی اصول
قانون صرف حق نہیں دیتا بلکہ اس حق کے استعمال کے لیے وقت بھی مقرر کرتا ہے۔ جو شخص مقررہ مدت کے اندر قانونی چارہ جوئی نہیں کرتا، وہ اپنے قانونی علاج سے محروم ہو سکتا ہے۔
📖 نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ نے سول ریویژن کو وقت گزرجانے (Time-Barred) کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانونِ معیاد کو نظر انداز کرکے کسی غافل مقدمہ باز کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
حوالہ: PLJ 2026 Civil (Note) 38, Lahore High Court, Bahawalpur Bench
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jail Road
Lahore
54000