Realistic Raza
Welcome to Realistic Raza, your gateway to enthralling posts videos and insightful life lessons. My youtube channel is Realistic Raza.
30/05/2026
Haters will say its AI as Shaheen bowls 200 kmph 😅
17/05/2026
'یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں' سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت، تعلق یا پسند کیے جانے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے؟ اور یہ قانون صرف عورت پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے؟ ہمارے ہاں 60 سالہ مرد اگر 20 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرے تو اس کا دل جوان ہے، بتایا جاتا ہے لیکن 50 سالہ خاتون کا ذکر آتے ہی بوڑھی خاتون اور جھریوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔۔
ایک سوشل میڈیائی دانشگرد کی تحریر پڑھی۔ وہ گلوکارہ و سماجی کارکن حدیقہ کیانی پر نہایت منفی تبصرہ کر رہے تھے۔ تبصرہ اتنا واہیات تھا کہ ہر جملہ پڑھنے کے بعد دانشگرد صاحب کی ذہنیت پر ماتم کرنے کا دل کر رہا تھا۔
اصل مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔ ہم اب بھی عورت کو پروجیکٹ سمجھتے ہیں۔ پہلے اس کی عمر ناپتے ہیں، پھر چہرہ، پھر جلد، پھر جسم، پھر 'پیکنگ کھولنے' کے فقرے مار کر اسے ایک چیز میں بدل دیتے ہیں۔ اس تحریر پر غور کیا تو پوری تحریر میں عورت کہیں نہیں ملی۔ یعنی ان جیسوں کے لیے صرف عورت کا جسم ہے، اس کی جھریاں ہیں، اس کی عمر ہے۔۔ اس کی مارکیٹ ویلیو ہے۔
صاحب اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ سائنس نے ایسا دارو بنا لیا ہے جس سے عورت جوان لگتی ہے۔ کیا ہی دوہرا معیار ہے ہمارا۔۔ یعنی عورت اگر خود کو سنوارے تو وہ بھی جرم۔۔۔اگر بڑھاپا نظر آئے تو مذاق۔ گویا عورت ہر صورت میں کٹہرے میں ہی کھڑی رہے گی۔
اور اس تحریر کا سب سے گھٹیا جملہ ملاحظہ کیجیے۔ 'پیکنگ کھولئے گا تو جھریوں کے سوا کچھ نہ پائیے گا' کیا عجیب ذہنیت ہے!!! پوری چلتی پھرتی کام کرتی شخصیت کے لیے پیکنگ کا لفظ یوز کیا۔ اس کے تجربات، دکھ، کامیابیاں، ذہانت، فن، محبت، سب غائب۔۔۔صرف جلد باقی رہ گئی۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی لوگ ماں کے چہرے کی جھریوں کو محبت اور قربانی سمجھتے ہیں لیکن بیک وقت انہیں دوسری عورتوں کی 'پیکنگ کھولنی' ہوتی ہے۔
دانشگرد صاحب فرماتے ہیں کہ 'ایسی عورت رومانس کے نام پر رونا دھونا کرتی ہے'۔۔۔ سوچیں۔۔ ہمیں صرف وہ عورت پسند ہے جو ہر وقت ہنسے، شوخ ہو، دل بہلائے۔۔۔ وہ عورت کسی صورت نہیں پسند جو زندگی کے دکھ، تنہائی، صدمے یا تجربات کے ساتھ آئے۔۔۔تفریح ہی تو چاہیے!!!
دراصل ہم عورت کو انسان ماننے پر تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔ ل ہمیں وہ ہر صورت میں خوبصورت چاہیے، جوان چاہیے، ہنس مکھ چاہیے، جسمانی طور پر پرفیکٹ چاہیے اور اگر اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نمایاں ہوں تو ہم اسے ناکارہ سمجھ لیتے ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے بارے میں گفتگو چہرے سے شروع ہو کر جسم پر ختم ہوجاتی ہے۔ ہم 'عورت' لفظ سنتے ہی اس کا جسم اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں۔۔۔
اور پھر موصود کی جانب سے تحریر میں مذہب کو درمیان میں لایا گیا کہ قرآن نے اس عمر کی عورت کے لیے حجاب میں نرمی دی ہے، اس لیے اب وہ 'گیسٹ ہاؤس' نہیں بلکہ 'چائے خانے'کے قابل رہ گئی ہے۔ یہ وہی ملائیت زدہ ذہنیت ہے جو مذہب کو اخلاق اور وقار کی بجائے عورت کی جسمانی حیثیت ناپنے کے لیے استعمال کرتی ہے حالانکہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ عمر کے ایک حصے کے بعد عورت کی سماجی، جذباتی یا انسانی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو ہر وقت مرد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ sexually desirable نہیں رہی تو گویا اس کی اہمیت کم ہوگئی۔ یہی سوچ خطرناک ہے۔۔۔۔ اور ایسی سوچ والے پتھر اٹھائیں ہزار مل جائیں گے۔۔۔
ادیب یوسفزئی
15/05/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Lahore
39350