Child Development Center
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Child Development Center, Education, Lahore.
29/11/2023
بچوں میں موبائل فون کے استعمال کی عادت کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
موبائل فون جہاں ہمارے لیے سہولت کا ذریعہ ہے وہاں یہ مسائل کا باعث بھی بنتا ہے۔ خاص کر چھوٹے بچوں میں موبائل فون کا زیادہ استعمال بچوں کے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایسے بچے دیر سے بولتے ہیں اور ان بچوں کے اندر نظر اور ان کے نیند کے مسائل بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کی ہدایات کے مطابق دو سال سے پہلے اپنے بچوں کو ہرگز موبائل فون استعمال کرنے نہ دیں۔ دو سال کے بعد اس کا دورانیہ استعمال ایک گھنٹے تک ہے لیکن وہ بھی اپ کی نگرانی ہونا چاہیے اور اس میں جو چیزیں بچہ دیکھے وہ اچھی ہوں اور اس میں تعلیم و تربیت کا عنصر پایا جانا چاہیے۔
چونکہ موبائل فون ایک ضرورت بھی بن چکا ہے تو گھر میں سارے استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو بچےچیزیں دیکھ کر سیکھتے ہیں اور پھر وہ اس موبائل فون استعمال کرنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اکثر والدین کی اپنی جاب ہوتی ہے اور وہ بچے کو مصروف رکھنے رکھنے کے لیے موبائل دے دیتے ہیں ۔یوں بچہ پھر موبائل دیکھتا رہتا ہے ۔
بچوں میں موبائل فون کی عادت کو کم کرنے کے لیے کچھ بنیادی ہدایات!!
بچے جو بھی کرتے ہیں وہ بڑوں سے دیکھ کر اور سیکھ کر کرتے ہیں اس لیے کوشش کریں کہ گھر میں موبائل فون کا استعمال کم سے کم کریں ۔صرف ضروری کال کے لیے استعمال کریں تاکہ بچوں پر اس کا اثر نہ پڑے۔
بچے بہت ایکٹو ہوتے ہیں اور انہیں ٹائم چاہیے ہوتا ہے تو گھر پر ضروری ان کو ٹائم دیں ان کے ساتھ بات چیت کریں۔
بچوں میں عمر کے حساب سے بہت زیادہ انرجی ہوتی ہے اور جب تک ان کی یہ انرجی استعمال نہیں ہوگی وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گے تو ضروری ہے کہ ان کے لیے گھر میں کھیلنے کے موقع پیدا کریں کچھ ڈرائنگ وغیرہ بنائیں جھولے گھر میں لگائیں تاکہ ان کی ایکٹیوٹی ہو اور ان کی انرجی استعمال ہو۔
بچوں کو ضرور گھر سے باہر لے کے جائیں جس میں پارک ہو سکتا ہے یا کوئی اور تفریح گاہ ہو سکتی ہے تاکہ ان کے دھیان بٹا رہے اور ان چیزوں میں دھیان جائے گا تو موبائل فون کو چھوڑ دیں گے۔
اپنے بچوں کو ضرور انڈور اور اؤٹ ڈور گیمز کے لیے راغب کریں ۔اس میں بیڈمنٹن, فٹبال کرکٹ وغیرہ شامل ہے ۔ اس سے بچے کا ٹائم ان چیزوں میں لگے گا اور اس سے بچے کو فائدہ بھی ہوگا۔
بچوں کھیلتے ہوۓ گھر میں شور کر رہے ہیں تو کبھی ان کو نہ ڈانٹیں کیونکہ اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کو کھیلنے دیں تاکہ ان کا دھیان کھیل میں ہی لگا رہے۔
ہفتے میں کبھی نہ کا بار فیملی ٹائم ضرور رکھیں اس میں اپ کے بچے اور اپ کے جو قریبی رشتہ دار ہیں ان کے بچے اپس میں ملیں اور اکٹھے ان کو کھیلنے کا موقع ملے۔
ہم بالکل یہ نہیں کہتے کہ بچوں کو موبائل فون دینا ہی نہیں ۔ایک حد تک بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال اور خاص کر تعلیمی مواد کا استعمال بچے کے لیے فائدہ مند بھی ثابت سکتا ہے ۔ اس کا دورانیہ اور جو بچہ چیز دیکھ رہا ہے وہ اچھی ہونی چاہیے اور وہ ہدایات کے مطابق ہونی چاہیے
04/04/2023
27/07/2022
پاکستانی ماوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ: بچوں کا سر بنانا
جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ، پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔ گردن کو اسطرح رکھنا کہ سر بالکل سیدھا رہے، خاص تکیوں کا استعمال، سر پر اینٹ رکھنا تک شامل ہیں۔
جو عورت سر بنانے میں بہت expert مانی جائے گی اور اپنی کامیابی کے قصے سناتی نظر آئیگی اسکے بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا جیسا اس تصویر میں left میں دکھایا گیا ہے جو کہ بالکل بھی نارمل نہیں ہے۔
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔ سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head syndrome کے بچوں میں
● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
● فہم و فراست ( یعنی cognitive skills)
● جذباتیات (یعنی emotional intelligence)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔
تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟
تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی شکل اختیار کرنے دیں جو کہ گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔
ڈاکٹر فرح عثمان
💦 ہارمونز کی دنیا 💦
ہمارے اندر خُوشی کا احساس ان چار ہارمونز کی وجہ سے ہوتا ہےاس لئےضُروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونز کے بارے میں جانیں
▪پہلا ہارمون *اینڈورفنس* ہے :
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20 منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے۔
▪دوسرا ہارمون *ڈوپامائین* ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کرکے خوش کیوں نہیں ہوتی اسکی وجہ یہ ہیکہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے۔اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.
اب، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔
▪تیسرا ہارمون *سیروٹونائین*:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، Quora اور فیس بک پر پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔
▪چوتھا ہارمون *آکسی ٹوسین* ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔
واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
📌 خُوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کرکے ڈوپامائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کرکے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگا کر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔
اس طرح ہم خُوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔
*اَب آپ سَمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خَراب موڈ میں ہو تو اُسے فوری گلے لگانا کیوں ضُروری ہے؟*
*خُوش رہیں۔*
خُوشیاں بانٹتے
تحریر: Mian Adnan Siddique
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Lahore