The Rants Of A Pakistani Student
It will have everything related to students like studies, system and campus life etc
Feel free to send suggestions or posts we'll post with credits
21/01/2018
دیدبان کے اگلے شمارے کا موضوع :-----
مزاحمتی ادب
ایک ایسے وقت میں جب د نیا بھر میں انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہےاور ہماری بنیادی آزادی کو خطرہ لاحق ہے ۔ وہ آئین جس پر انسانی معاشرے کی فلاح کا دار و مدار ہے وہ بس طاقت اور حکومت کے نجی فائدے کا آلہ بن کر رہ گیا ہے اور جمہوری عمل پہلے سے کہیں زیادہ تنگ نظر اور بنیاد پرست مذہبی و قومی جماعتوں کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے۔
۔عسکری ادارے اور شدت پسند عناصر اب ہر قانون کو بالائے طاق رکھ کر آزادانہ طور پر ظلم،بربریت دہشت اور خوف و ہراس کا ماحول پھیلا رہے ہیں ۔ساتھ ہی جمہوری قوتوں کو بری طرح پسپا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کہیں بھی انصاف ، انسانیت اور ظلم سے پاک نظام کا خیال خواب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں مزاحمتی ادب کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے دنیا بھر میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالی یا ہر قسم کی خلاف ورزیوں کے لئے ایک خاموش احتجاج جاری رکھا جائے ، اس کے لئے صف آرا ہوا جائے۔ خواہ وہ کسی بھی رنگ، نسل، صنف یا قومیت کے افراد کے خلاف ہوں ،ان پر آواز اٹھایا جائے ۔ آج کا ادب اپنے اپنے محدود دائرے سے نکل کر عالمی سطح پر پھیلنے کی سہولت اور طاقت رکھتا ہے ۔
اس لئے ہم بلا تفریق مساوی حیثیت دلانے کی کوشش کرنے کے لئے ہر انسانیت سوز عوامل کے خلاف ایک آواز اٹھا سکتے ہیں ۔مقامی اور عالمی جدوجہدیااحتجاج کی یہ آواز جلد یا بدیرمذہبی شدت پسندی، نسل پرستی اور قومیت پرستی کے خلاف ایک بہتر مستقبل تعمیر کرے گی۔ ہماری ادبی یا لسانی تاریخ آمریت، معاشی استحصال اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے ۔
اپنے مضمون میں نعیم بیگ صاحب کہتے ہیں کہ...” ادب میں مزاحمتی اصطلاح کے طور پر ’ ادب المقاومہ‘ کی تاریخی اصطلاح اس وقت رائج ہوئی ، جب 1966 میں فلسطینی ادیب و نقاد غسان کنفانی نے ” فلسطین میں مزاحمتی ادب ۶۶۔۸۴۹۱ “کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ غسان نے یہ مضمون ١٩٦٧ کی جنگ سے پہلے لکھا جس میں فلسطینی مجاہدین اور اسرائیل کے کنفلکٹ کو نہ صرف نمایاں عالمی ادب کا حصہ بنایا بلکہ ہم عصر تحاریک جو اس وقت آزادی کی جدو جہد میں لاطینی امریکہ ، مشرقِ بعید اور افریقہ میں جاری تھیں کے ساتھ لا کھڑا کیا۔ اس مقالے میں مغربی استعماریت کے خلاف ایک پوری تاریخ درج ہونے کے ساتھ ہی مزاحمتی ادب کا کردار، اس کے بنیادی عناصر اور وسیع تر مابعد نو آبادیاتی رحجانات، تفاوت کو زیرِ بحث لایا گیا۔ غسان نے ایک کام اور کیا کہ انہوں نے علامتی ابلاغیات ( سیمیوٹک) سے ہٹ کر مزاحمت کے وسیع تر معنیاتی نظام کو بھی تشکیل دینے کی صراحت کی۔ مزاحمتی متون کی تثلیث کاری ’ سیاق، تناظر و ثقافت‘ کو یک جا کرتے ہوئے اسے تجارب کی دنیا سے نکال کر ایک حقیقت کا روپ دینے کی بے مثال کوشش کی جو بعدازاں مزاحمتی محرکات کی متصورہ صورت متعین کرنے مدومعاون ثابت ہوئی۔"
درج کرو !
میں عرب ہوں
میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور نواں بچہ موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا
پس کیا تم غصہ کرو گے؟
درج کرو !
میں عرب ہوں
اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں
میرے آٹھ بچے ہیں
میں ان کے لیے
نان اور ملبوسات اور کاپیاں
پتھروں سے باہر نکالتا ہوں ۔۔۔
محمود درویش
مضاحمتی ادب کا اسلوب انکار اور احتجاجی قوتوں کا سرچشمہ ہے: پروفیسر انیس اشفاق کا خیال ہے کہ" اردو ادب اپنی فکر ،مزاج و منہاج اور مزاحمتی اسلوب بیان میں مرثیوں سے قوت نمو حاصل کرتا ہے۔" سر، نیزہ اور انکار مرثیے کے کلیدی لفظیات ہیں اور یہ بطور علامت ہماری شاعری کی اساس ہیں۔ کربلا آج بھی برپا ہے۔ وہی حق و باطل کی کشمکش جاری ہے۔ اور اس حوالے سے مرثیے کی مضامحتی آواز عصری معنویت سے لبریز ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی کا خیال ہے کہ ”دنیا کہ تمام بڑی شاعری مزاحمت کی پیداوار ہے اور اس حوالے سے دنیا کا مزاحمتی ادب بھی یقیناًبڑا ادب ہے۔ دنیا میں مزاحمتی ادب کا قدیم ،ضخیم اور عظیم سرمایہ ہونے کے باوجوداس پر تحقیق و تنقید بہت کم ہوسکی ہے۔
دیدبان کا اگلا شمارہ مزاحمتی ادب نمبر ہوگا۔ دوستوں سے گزارش ہے اپنی تخلیقات فروری ماہ تک ہمیں دیدبان کی ای میل آئی ڈی پر روانہ پکریں۔آپ کی رہنمائی کے لئے ذیل میں موضوعات کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
الف۔مضامین
۱۔مزاحمتی ادب کا اسلوب اور آھنگ
۲۔ مزاحمتی ادب کا ترجمہ،فکری تصادم اور لسانی اظہار
۳۔مزاحمتی ادب میں فکری اور فنی بصیرت
۴۔تیسری دنیا کا مزاحمتی ادب
ب۔تخلیقات
۱۔افسانوی تخلیقات
۲۔شعری تخلیقات
۳۔افسانوی اور شعری تخلیقات کے ترجمے
( فلسطین کے ادب پر خاص توجہ کی درخواست کے ساتھ )
[email protected]
مدیران :
نسترن احسن فتیحی ، سلمی جیلانی ، سبین علی
اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ___ ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ___ تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ ___یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر ___ بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے ملے ہیں دونوں کا ___ سب چین گیا ___ آرام گیا
چہروں سے بہارِ صبح گئی ___ آنکھوں سے فروغِ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چُھٹا ___ ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا ___ ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر روتے ہیں ___ رو رو کے دعائیں کرتے ہیں
آنکھوں میں تصور ___ دل میں خلش ___ سر دُھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
اے عشق یہ کیسا روگ لگا ___ جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں ___ رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش ___ ہر وقت خلِش ___ بے خواب ہوں میں ___ بیدار ہے وہ
جینے سے اِدھر بیزار ہوں میں ___ مرنے پہ اُدھر تیار ہے وہ
اور ضبط کہے ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا ___ گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کے ___ شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کمہلائے ہوئے پھولوں کی طرح ___ کمہلائے ہوئے سے رہتے ہیں
پامال نہ کر ___ برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
بے درد ذرا انصاف تو کر ___ اِس عمر میں اور مغموم ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی __ تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن، ستم، یہ رنج، غضب ___ مجبور ہوں میں، مظلوم ہے وہ
مظلوم پہ یوں ___ بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اے عشق خدارا دیکھ کہیں ___ وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو ___ وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو
ناموس کا اُس کے پاس رہے ___ وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو
اُس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اُمید کی جھوٹی جنت کے ___ رہ رہ کے نہ دِکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت کے ___ وعدوں سے نہ کر بے تاب ہمیں
کہتا ہے زمانہ جس کو خوشی ___ آتی ہے نظر کمیاب ہمیں
چھوڑ ایسی خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
کیا سمجھے تھے اور تو کیا نکلا ___ یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے پہل کا تجربہ ___ اور کم عمر ہیں ہم ___ انجان ہیں ہم
اے عشق خدارا رحم و کرم ___ معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم
نادان ہیں ہم ___ ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
وہ راز ہے یہ غم آہ جسے ___ پا جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں ___ آ جائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا دل کو یہاں ___ بھا جائے کوئی تو خیر نہیں
ہے ظلم مگر ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
دو دن ہی میں عہدِ طفلی کے ___ معصوم زمانے بُھول گئے
آنکھوں سے وہ خوشیاں مِٹ سی گئیں ___ لب کو وہ ترانے بُھول گئے
اُن پاک بہشتی خوابوں کے ___ دلچسپ فسانے بُھول گئے
اُن خوابوں سے یوں آزاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اس جانِ حیا کا بس نہیں کچھ ___ بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر ___ جو پیار یہاں آپس میں ہے
ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس ___ یہ زہر چھپا اِس رس میں ہے
کہتی ہے حیا ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ___ ہر جذبِ نہاں پر رو دینا
آہنگِ طرب پر جُھک جانا ___ آواز فغاں پر رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا ___ مُطرب کے بیاں پر رو دینا
احساس کو غمِ بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
ہر دم ابدی راحت کا سماں ___ دِکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ، حبابِ آبِ رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر
مایوسی کے رمتے بادل پر ___ اُمید کے گھر تعمیر نہ کر
تعمیر نہ کر ___ آباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جی چاہتا ہے اِک دوسرے کو یوں ___ آٹھ پہر ہم یاد کریں
آنکھوں میں بسائیں خوابوں کو ___ اور دل میں خیال آباد کریں
خِلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں ___ وحدت کو دوئی سے شاد کریں
یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
دنیا کا تماشا دیکھ لیا ___ غمگین سی ہے ___ بے تاب سی ہے
اُمید یہاں اِک وہم سی ہے ___ تسکین یہاں اِک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں ___ دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختر شیرانی
آج میر تقی میر کی برسی ہے
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
میر تقی میر
آج امرتا پریتم کا جنم دن ہے انھیں یاد کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہوگا کہ ان کا ایک افسانہ پڑھ لیں
چھوٹی کہانی
امرتا پریتم (مترجم ۔شمشیر سنگھ خنجرؔ)
ٹائیپنگ۔ غزل قاضی ۔ ویانا ، آسٹریا
وہ کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔ چھوٹی چھوٹی مختصر کہانیاں ۔ مختصر افسانے ۔ نہ معلوم اُس نے کتنے افسانے لکھے اور اُن میں کیا کیا لکھا ۔ لیکن اُس نے ایک کہانی لکھی ۔ نہایت مُختصر ـــــــــــــــــ اتنی مختصر کہ گھڑی کی بڑی سوئی جب تین پر تھی تو ابھی اُس نے لکھنا شروع بھی نہیں کیا تھا ۔ اور جب وہی سوئی چار پر پہنچی تو وہ کہانی مکمل ہو چکی تھی ـــــــــ ــــــــــــ اُس نے تو اتنی چھوٹی اور مختصر کہانی لکھی لیکن " ریشما " کو نہ معلوم کیا ہؤا ۔ وہ یہ محسوس کر رہی تھی ، اگر اپنی تمام عمر وہ اُس کہانی کا مطالعہ کرتی رہے تو بھی شاید ختم ہونے میں نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہانی ــــــ چھوٹی کہانی ۔
ریشما کو یوں محسوس ہؤا جیسے اُس کی زندگی ایک خالی ورق تھا جس پر اُس مختصر فسانہ نگار نے ایک ایسا افسانہ لکھا جس کے ایک ایک لفظ کو وہ کئی کئی مرتبہ پڑھ چُکی تھی ۔ پھر بھی وہ فسانہ ختم نہ ہوتا تھا ـــــــ وہ مختصر افسانہ ۔
وہ کہانی لکھی بھی تو اُن ہی معدودے چند الفاظ میں گئی تھی ۔ جن میں اُس س پہلے سینکڑوں کہانیاں لکھی جا چکی تھیں ـــــــــــ البتہ کاغذ کا فرق ضرور تھا ــــــــــــــــ دوسری کہانیاں شاید فُلسکیپ سائز کے ہلکے سے کاغذ پر سُپردِ قلم کی گئی تھیں ۔ اور اعلیٰ درجے کے آرٹ پیپر پر چھپی تھیں ــــــ لیکن وہ کہانی ریشما کے صفحہ ء زندگی پر لکھی گئی تھی ۔ اُس کے پان کے پتّے ایسے دل پر نقش ہو گئی ۔ جو اس نے گھڑی کی بڑی سوئی جب تین پر تھی یوں لکھنا شروع کی تھی :-
" بس جا رہی ہیں آپ ؟"
" جی ہاں ۔"
" مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے "
" کیا کہنا ہے ؟ کہئے ۔" ریشما کرسی پر پھر بیٹھ گئی ـــــ ـــــ لیکن اس سے آگے وہ کچھ نہ بولا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی سرخ پینسل سے سامنے رکھے بلاٹنگ پیڈ پر چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچنے لگا ۔ ریشما اتنی دیر اُس کی طرف دیکھا کی ۔
" لیکن اگر میرا کہا آپ کو بُرا لگے تو آپ ناراض تو نہ ہو جاؤ گی ؟"
" لیکن آپ کا کہا برا ہو گا ہی کیوں ؟"
" ہو سکتا ہے !"
" نہیں ۔"
رفاقت تو اسی طرح قائم رکھیں گی ؟"
" ضرور ۔"
وہ پھر بلاٹنگ پیڈ پر سُرخ پینسل سے چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچنے لگا ۔
" بتائیے نا " ریشما نے خود ہی پوچھا ۔
اُس نے پیڈ سے سر اٹھا کر ریشما کی طرف دیکھا ۔ لیکن منہ سے کچھ نہ کہا ۔
" پھر نہیں بتائیں گے؟ " ریشما نے دوبارہ دریافت کیا ۔
" بتاؤں گا ـــــــــ لیکن بتانے سے پہلے ایک سوال کا جواب چاہتا ہوں ۔"
" کیا؟"
" نہایت چھوٹا سا سوال ہے ۔"
" لیکن ہے کیا ؟"
اب تیسری مرتبہ وہ پھر بلاٹنگ پیڈ پر جُھک گیا ، اور اُسی لال پینسل سے چھوٹے چھوٹے خط بنانے لگا ــــــــــ اب ریشما خاموش تھی ۔
" آپ محبت کو گناہ سمجھتی ہیں ؟" اس نے پیڈ سے یک لخت سر اٹھا کر پُوچھا
" محبت بذاتِ خود کوئی گناہ نہیں ۔" ریشما نے ذرا رُک کر جواب دیا ۔
" بذاتِ خود سے کیا مراد ہے ؟"
" کوئی غرض یا آرزو جب محبت میں شامل ہو جائے تو وہ گناہ بن جاتی ہے ۔"
" نہیں نہیں بالکل بےلوث ، صادق اور بےغرض محبت ۔"
: تو پھر گناہ نہیں ۔"
" اگر آپ اسے گناہ نہیں سمجھتیں تو میں گُناہ نہیں کر رہا ۔"
گھڑی کی سوئی تین سے چلکر بمشکل چار پر پہنچی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب ، چھبیس سال بعد ، امرتا پریتم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000