Baldiyat News
Baldiyat News is a Pakistani magazine focused on local governments.
لاہور(baldiyat news) محکمہ خزانہ پنجاب نے ضلعی حکومتوں کو 20ارب9کروڑ61لاکھ روپے کا ماہانہ پی ایف سی شیئر جاری کر دیا ہے۔جنوری کے کرنٹ شیئر کے ساتھ ڈویلپمنٹ کا شیئر بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں کٹوتی کا فارمولہ گذشتہ ماہ ہی طعے کر لیا گیا تھا اسی کے مطابق مالی سال 2014,15ء میں ماہانہ ڈویلپمنٹ شیئر جاری ہو گا۔سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کو ایک ارب48کروڑ16لاکھ79ہزار روپے،اٹک کو46کروڑ روپے، بہاولنگر71کروڑ19لاکھ،بہاولپور64کروڑ35لاکھ، بھکر38کروڑ20لاکھ،چکوال 40کروڑ34لاکھ،چنیوٹ23کروڑ34لاکھ، ڈی جی خان49کروڑ17لاکھ، فیصل آبادایک ارب32کروڑ، گوجرانوالہ77کروڑ36لاکھ،گجرات56کروڑ26لاکھ،حافظ آباد24کروڑ16لاکھ، جھنگ55کروڑ48لاکھ،جہلم32کروڑ78لاکھ،قصور55کروڑ28لاکھ،خانیوال58کروڑ51لاکھ، خوشاب33کروڑ11لاکھ،لیہ43کروڑ25لاکھ، لودھراں35کروڑ، منڈی بہاولدین32کروڑ،میانوالی39کروڑ14لاکھ،ملتان73کروڑ99لاکھ، مظفر گڑھ61کروڑ45لاکھ،ننکانہ صاحب31کروڑ29لاکھ،نارووال41کروڑ، اوکاڑہ58کروڑ53لاکھ،پاک پتن32کروڑ56لاکھ،رحیم یار خان76کروڑ،راجن پور31کروڑ67لاکھ،راولپنڈی85کروڑ59لاکھ، ساہیوال52کروڑ72لاکھ،سرگودھا81کروڑ50لاکھ،شیخوپورہ67کروڑ22لاکھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ49کروڑ42لاکھ،وہاڑی55کروڑ71لاکھ اور ضلعی حکومت سیالکوٹ کو67کروڑ22لاکھ روپے کا ماہانہ پی ایف سی شیئر جاری کیا گیا ہے۔تمام فنڈز اکاؤنٹ فور میں منتقل کئے گئے ہیں۔
پنجاب لینڈ یوز (کلاسیفکیشن،ری کلاسیفکیشن،ری ڈویلپمنٹ)رولز2009ء میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری
لاہور(بلدیات نیوز) ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایزکو ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی اجازت دے دی گئی ہے۔پنجاب بھر کی ضلعی حکومتیں پرانے ماسٹر پلان کو ریوائز کر سکیں گئی۔محکمہ بلدیات کی جانب سے پنجاب لینڈ یوز (کلاسیفکیشن،ری کلاسیفکیشن،ری ڈویلپمنٹ)رولز2009ء میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نظرثانی شدہ ماسٹر پلان میں ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایز کو ایریا میں توسیع کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایز پر مزیدنئی کمرشل سڑکوں کو نوٹیفائی کرنے کی پابندی چھ ماہ کے لیے اْٹھا لی گئی ہے۔مذکورہ مقامی حکومتیں30جون2015ء تک مزید نئی کمرشل سڑکیں ڈکلیئر کر سکیں گئی۔اسی عرصہ کے دوران نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان جاری کیا جائے گا۔نئی کمرشل سڑکیں ڈکلیئر کرنے کے لیے قبل ازیں30ستمبر2012ء کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی جس کے بعد پھر پابندی لگا دی گئی۔بیشتر شہری ضلعی حکومتوں اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کا ماسٹر پلان ریوائز نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے 30جون تک نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان منظور کروائے جائیں گے۔ناظمین کی عدم موجودگی میں متعلقہ ایڈمنسٹریٹرز نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دیں گے۔نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان میں کمرشل ایریا میں توسیع کی جا سکے گی۔رہائشی،صنعتی،زرعی،پیری اربن اور نوٹیفائی ایریا کا بھی از سرنو تعین کیا جائے گا۔
پنجاب کی106ٹی ایم ایز کے لیے چار ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری
لاہور(بلدیات نیوز) محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے صوبہ کی106ٹی ایم ایز کے لیے ساڑھے چار ارب روپے کے منصوبہ کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب کے31اضلاع کی ٹی ایم ایز میں اس منصوبہ کے تحت ورلڈ بنک کے تعاون سے ترقیاتی کام مکمل کئے جائیں گے۔محکمہ بلدیات کی جانب سے بھجوایا گیا منصوبہ اب منظوری کے لیے صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔جس کے بعد سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوائے گی۔پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی ورلڈ بنک کے اشتراک سے تحصیلوں کی سطع پر سیوریج،ڈرینیج،واٹر سپلائی اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی سکیمیں مکمل کروائے گی۔لاہور،فیصل آباد، راولپنڈی،ملتان اور گوجرانوالہ کے38ٹاؤنز کو اس پراجیکٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔محکمہ بلدیات کی جانب سے قبل ازیں میونسپل سروسز امپرومنٹ پراجیکٹ کے تحت ورلڈ بنک کے تعاون سے فیز ون میں 37ٹی ایم ایز میں فنانشل مینجمنٹ سسٹم، کیمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم،پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم، جی آئی ایس میپ اور آئی ٹی بیس سسٹم کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے۔اب ٹی ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔اس منصوبہ کو پہلے پنجاب حکومت کے فنڈز سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تاہم اب فیز ٹو بھی ورلڈ بنک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کے لیے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ۔وزیر اعلیٰ نے منظوری دے دی
لاہور اپریل۳۰(بلدیات نیوز) پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کی سمری منظور کر لی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریری اجازت ملنے کے بعد محکمہ بلدیات نے مسودہ قانون منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی بھجوانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ایوان سے منظوری کے بعدپنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء میں ترمیم کی جائے گی۔ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں بلدیہ عظمیٰ لاہور سمیت صوبہ کی11میونسپل کاپوریشنز فیصل آباد،ملتان،بہاؤلپور،گوجرانوالہ،سرگودھا، سیالکوٹ،راولپنڈی،گجرات ،مری،ڈی جی خان اور ساہیوال ،35ضلع کونسلوں اور172نوٹیفائی میونسپل کمیٹیوں جن کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا میں خواتین کی مخصوص نشستیں22فیصد ہونگی۔قبل ازیں حکومت کومرضی سے بلدیاتی اداروں میں مخصوص نشستوں کا اختیار حاصل تھا جس کی جانب سے حالیہ حلقہ بندیاں جنھیں غیر قانونی قرار دیا گیا اس میں بلدیاتی اداروں میں یونین کونسل کی سطع پر مساوی جبکہ دیگر بلدیاتی اداروں میں خواتین کو10فیصد سے بھی کم نمائندگی دی گئی۔ان میں بلدیہ عظمیٰ لاہور میں25خواتین کی نشستیں مخصوص کی گئیں جن کی تعداد اب دو گنا سے بھی زائد ہو جائے گی یونین کونسلوں کی تعداد274رہتی ہے تو لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں خواتین کی مخصوس نشستیں60ہو نگی۔صوبہ کی 11میونسپل کارپوریشنز میں خواتین کی مخصوص نشستیں82,،35 ضلع کونسلوں میں محض493،پنجاب کی 172نوٹیفائی میونسپل کمیٹیوں میں صرف637نشستیں خواتین کے لیے مخصوص تھیں جن کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔واضع رہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے تحت مقامی حکومتوں کے نظام میں خواتین کو33فیصد نمائندگی حاصل تھی۔موجودہ حکومت کی جانب سے منظور کردہ ایکٹ پر خواتین کو مناسب نمائندگی نہ دینے پر تنقید ہو رہی تھی جس کے بعدخواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Lahore
54000