DiL-e-Nadaan
سرِراہ حال پوچھنے والو
حال دل اتنا مختصر بھی نہیں
عشق سے عقل کا فُقدان خریدا ہم نے
وو بھی علی الاعلان خریدا ہم نے
ہم نے پتھر بھی خریدا تو وہ آئینہ تھا
کبھی یاقوت نا مرجان خریدا ہم نے
کتنے لمحات کو اپنے لئے دشوار کیا
تب کوئی لمحہء آسان خریدا ہم نے
منتخب اپنے کے لئے ہم نے کیا خود کو
خود ہی یہ چاک غریبان خریدا ہم نے
کیا ستم ہے ہمیں جس کی ضرورت بھی نہ تھی
بچ کر خود کو وہ سامان خریدا ہم نے
بھولنے کے لئے وہ ساعتِ پیمانِ الست
وقت سے اک نیا پیمان خریدا ہم نے
بند ہونے کو دوکاں ہے تو خیال آیا ہے
فائدہ چھوڑ کے نقصان خریدا ہم نے
فیس بھرنے کو جیب میں پیسے بھی نہ تھے
جن دنوں "میر " کا دیوان خریدا ہم نے
اجمل سراج
30/12/2024
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہر اِک جسم گھائل ہر اِک روح پیاسی
نگاہوں میں اُلجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالمِ بد حواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہاں اِک کھلونا ہے انساں کی ہستی
یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو ہے جیون سے موت سستی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جوانی بھٹکتی ہے بدکار بن کر
جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر
یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے
وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے
جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جلا دو اِسے پھونک ڈالو یہ دنیا
میرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ساحر لدھیانوی
22/02/2024
تُم میرے لیے وُہی "یُسر ہو ،
جس کے بارے میں رب فرماتے ہیں،،
( إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا )
( بیشک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے )
ہاں تم "يُسر" ہی تو ہو،
آسانی...!!
سكون...!!
دُکھوں کی گہری کھائی سے نِکل کر مِل جانے والی راحت...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore
966