Rizing Voice

Rizing Voice

Share

This page is about education and article

06/02/2020

ایک روزشام کے وقت سیر کر رہے تھے کہ کہ ایک گاڑی آ کر رکی جس میں سے تین آدمی برآمد ہوئے انہوں نے سامنے والے گھر کے دروازے پر دستک دی اور ایس ایچ او صاحب باہر آئے ۔ کچھ دیر خوشامدی باتیں ہوئیں اور مٹھائی کاڈبہ خوش دلی سے قبول کر لیا گیا ۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور ان کو اندر آنے کی دعوت دی گئی ۔ تینوں افراد اندر چلے گئے کچھ دیر بعد باہر آئے اور کافی سارے نوٹ نکال کر گننے لگے ۔ گنتی ختم ہوئی تو دوبارہ اندر چلے گئے ۔ اور کچھ دیر بعد چہروں پر مسرت لئے سب باہر آئے اور نامعلوم منزل کی جانب رواں دواں ہو گئے ! یہ منظر ہر کچھ عرصے بعد دہرایا جاتا لیکن پھر ایک دن بڑی خبر سننے کو ملی ! ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارود برآمد ہوا ہے جس میں بارہ ہنڈ گرنیڈ جس میں دس روسی ساختہ اور دو لوکل بنے ہوئے تھے ۔تین خود کش جیکٹس ، چوالیس کے قریب ڈیٹونیٹرز ، اور دو کلو آرڈی ایکس تھا ۔ اس کے علاوہ کچھ اسلحہ مزید بھی تھا ۔ ہمارے رونگٹے اس وقت کھڑے ہوئے جب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ گاڑی تو ہمارے کمرے کے عین نیچے تین ماہ تک کھڑی رہی ! اگر یہ تمام مواد پھٹ جاتا تو ہم سمیت پوری لین میں رہنے والوں کے ٹکڑے بھی شائد نہ مل پاتے !
یہ کہانی اسی سسٹم کی کہانی ہے جس کا حرف حرف سچ ہے ۔ خبر ملنے کے بعد ہم نے متعلقہ محکمہ میں ایک دوست کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ گاڑی کچھ عرصہ قبل فیصل آباد میں داخل ہوئی اور تھانہ غلام محمد آباد کے ایریا سے پکڑی گئی جس میں موجود دو افراد کو گرفتار کیا گیا ۔جن کی شناخت ان کے شناختی کارڈ پر موجود نام محمد عثمان اور ظفر اقبال کے نام سے ہوئی ۔ ایس ایچ او صاحب معاملے کی سنگینی سے بالکل لا علم تھے اور انتہائی غفلت کا شکار بھی تھے ۔ ان افراد نے جب ایس ایچ او صاحب سے اپنی "پہنچ "ڈسکس کی تو ان کو لگا کہ بڑی مچھلی ہاتھ آ گئی ہے ۔ انہوں نے "باعزت " طور پر گرفتار یا اور ان کو تھانے لے گئے ۔
کچھ دیر بعد ان کے فون پر گھنٹی بجی دوسری جانب ن لیگ کے ایم پی اے صاحب تھے جو موجودہ الیکشن میں ن لیگ کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے کے سبب آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے ایس ایچ او صاحب کو حکم دیا کہ ان کے بندے ہیں ان کو فوری آزاد کر دیا جائے ۔ ایس ایچ او صاحب نے وہی کہانی سنائی کہ دیکھیں جی معاملہ بہت بڑا ہے تو ان کو کہا گیا کہ یا تو بندے چھوڑ دیں یا انکوائری کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ایک ڈرپوک ایس ایچ او جو کہ رشوت اور عیاشی میں گم ہواس کے لئے یہ بہت بڑی دھمکی تھی سو انہوں نے خاص لفظوں میں کچھ طلب کیا کی تو ان کو کہا گیا کہ ٹھیک ہے آپ گاڑی رکھ لیں بندے چھوڑ دیں ۔ یوں ن لیگ کے ایم پی اے کے کہنے پر ان کو چھوڑ دیا گیا ۔ اور گاڑی ایس ایچ او صاحب گھر لے آئے جو کہ ہمارے کمرے بلکل نیچے ان کے گیراج میں کھڑی رہی۔ میڈیاکے مطابق صرف ایک ہفتہ کھڑی رہی جبکہ ہم نے یہ گاڑی تقریبا تین ماہ قبل ایک بار دیکھی تھی ۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد ایس ایچ او صاحب نے اس گاڑی پر شغل فرمانے کاسوچا اور اپنے ایک سنتری کو بھیجا کہ جاو گاڑی سروس اسٹیشن لے آو ۔ وہ سنتری گاڑی لے کر سروس اسٹیشن پہنچا جہاں اس کو لفٹر کے ذریعے جب اوپر اٹھایا گیا تو نیچے لگے بارود نے سروس اسٹیشن والوں کی سیٹی گم کر دی ۔ سب بھاگ کر باہر نکل گئے افراتفری میں سنتری جو گھبرا گیا گاڑی کو فوری نیچے اتارنا ممکن نہ تھا پولیس کو کال کی گئی اور میڈیا کے کانوں میں بھی بھنک پڑ ی تو وہ بھی بھاگے چلے آئے ۔ گاڑی کی جانچ پڑتال ہوئی تو صرف گاڑی کی ڈگی میں ہی نہیں گاڑی کا جو حصہ کھولا جاتا بھاری اسلحہ ڈیٹونیٹر آرڈی ایس برآمد ہوتا ۔ ایس ایچ او صاحب کو فوری گرفتار کر لیا گیا اور ان کو تھانہ گلبرگ میں لے جا یا گیا ۔ ان حضرت کی غفلت کی انتہا یہ تھی کہ انہوں نے گاڑی لے کر ڈگی کھولنا بھی مناسب نہ سمجھا اور اس کو لا کر ایک ہاوسنگ سوسائٹی میں کھڑا کر دیا گیا ۔ اگر وہ گاڑی میں موجود بارود پھٹ جاتا تو کون ذمہ دار ہوتا ؟ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ! اس کی گرفتاری کے بعد ہم نے ایک دوست سے کیس کی صورت حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آئندہ ایک میٹنگ ہونےوالی ہے جو کہ ڈی آئی جی صاحب کے زیر صدارت ہوگی ۔ ہم اس کے انتظار میں تھے کہ ک پولیس اس کی تہہ میں پہنچ کر اس ایس ایچ اور کی غلفت اور ایم پی اے کا حساب کر پاتی ہے یا نہیں کیونکہ معاملہ ہائیکورٹ تک ہی نہیں پہنچا بلکہ میڈیا پر بھی ہیجان برپا کر چکا تھا ۔اسی اثنا میں یہ کیس ایک آرمی آفیسر پر ڈالنے کی بھونڈی ترین کوشش کی گئی جو کہ ناکام گزری ۔ اور پھر اس ایس ایچ او کو فرار کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ جو کہ ایک ایماندار پولیس آفیسر حافظ عرفان کو معلوم ہو گیا ۔ حافظ عرفان اپنی نفری کے ساتھ اس کے فرار سے قبل ہی اس تھانے کے باہر جا کھڑا ہوا ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تم اس کو چھوڑوکے تو میں گرفتار کروں گا اور میری گرفتاری میں ایک مجرم کبھی عیاشی سے نہیں رہ سکتا ! (حافظ عرفان کچھ عرصہ بعد ڈاکووں سے مقابلے میں شہید ہو گئے) ۔ میٹنگ کے بعد ہم نے دوبارہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بجائے ذمہ داران کو پکڑنے کے اوپر سے آڈر آئے ہیں کہ ایم پی اے پر ہاتھ نہ ڈالا جائے پارٹی کی ساکھ خراب ہو سکتی ہے اور ایس ایچ او کو بھی بچایا جائے ۔ اور کیسے بچایا جائے یہ اس میٹنگ میں طے پایا گیا ۔ ہم سر پیٹنے پر مجبور ہوگئے کہ کیسے ایک انتہائی غافل رشوت خور کو آزاد کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دوست تو ہمیں یہ سب بتا کر چلا گیا ۔ ہم مایوسی کے عالم میں بیٹھے یہ سوچ رہے تھے کہ یہ نظام کبھی بدلے گا ؟ وہ پولیس افسر کچھ عرصہ پولیس کے ریکارڈ میں فرار رہا اور ہم اس کو اکثر و بیشتر کالونی میں ہی دیکھتے ۔ شائد فرار نہیں اس کی چھٹیاں تھیں جو اس نے بہت اچھے سے انجوائے کیں ۔ کیس کی فائل دبا لی گئی اور اس کو کچھ عرصے بعد دوبارہ اپنے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔ اور آج بھی وہ فیصل آباد میں ایک تھانے میں موجود ہے ۔
ہر فیصل آباد کا شہری یہ جانتا ہے کہ فیصل آباد میں کس حد تک منشیات فروشی اور ہر قسم کے مافیا میں ن لیگ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز ملوث ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شائد ان کے شدید ظلم اور بدمعاشی سے تنگ آ کر فیصل آباد کے شہریوں نے پی ٹی آئی کو سلیکٹ کیا ۔ جو کہ ان سے زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ رہی بات پولیس کی تو اٹھارہ سو اکسٹھ کا بنایا ہوا پولیس ایکٹ آج بھی نافظ ہے جس میں کا بنیادی مقصد خدمت کبھی تھا ہی نہیں یہ پولیس عوام کو دبانے اور ظلم و ستم کے لئے بنائی گئی تھی اور آج بھی سیاست دان ان سے یہی کام لیتے آ رہے ہیں ۔ جب تک سیاست دان پولیس کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے اس کا استعمال بند نہیں کریں گے تب تک پولیس تبدیل نہیں ہوگی ۔ یہ بات شائد بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کا اغوا شدہ بیٹا فیصل آباد کے علاقےسمن آباد میں ایک ایم این اے کے ڈیرے کے قریب قید رہا ۔ عوام جب تک ان سیاست دانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی رہے گی تب تک یہ اس کو یوں ہی نوچ کر کھاتے رہیں گے ۔ یہ نظام ناقبل قبول ہے اور اس کو چلانے والے بھی ۔ جس دن عوام یہ بات سمجھ جائے گی ملک میں حقیقی تبدیلی آجائے گی !
بقلم طلحہ زبیر بن ضیا

06/11/2018

۔۔ کسی فٹ پاتھ پر پڑے فقیر کسی محنت کش کسی مزدور کو بھی دیکھو لو ۔۔ تمہاری نسلیں عیاشی میں گزرتی آ رہی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے کچلے بے چارے ۔۔۔۔ ان کی نسلیں تمہاری غلامی کرتی آ رہی ہیں
article llnk
http://rizingnation.com/ur/Home/detail/gn43PRHmiJdE92FTo7OxUZZqcmldWKbsltJTpN1AN-Y

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Lahore
54770