Daily Quran and Hadees

Daily Quran and Hadees

Share

Qur'aan and sahih ahadees are a source of divine knowlwdge. So read Qur'aan and ahadees daily.

20/06/2026

خدا کی شریعت اسکے بندوں اور خدا کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اور وعدے کے بارے میں ضرور پرسش ہو گی۔۔۔۔

سورۃ البقرة
آیت نمبر 63

تفسیر:
مَوثِق اور میثاق کے معنی عہدوپیمان کے ہیں۔ اس لفظ کی روح وثوق اور استحکام ہے اس وجہ سے یہ خاص طور پر اس عہدوپیمان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی اہم معاملہ کے لئے پورے شعور اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کی وفاداری کا تاکید کے ساتھ اظہار و اقرار کیا گیا ہو۔ یہاں اس سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات کی پابندی کا لیا گیا۔ شریعت الہٰی خدا اور بندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو میثاق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

یہ پہاڑ ان کے سروں پر لٹکا دینا بنی اسرائیل کو معاہدہ پر مجبور کرنے کے لئے نہیں تھا اگر وہ یہ معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو اس پہاڑ سے کچل کر رکھ دئیے جائیں گے، معاہدہ کو قبول کرنا یا نہ کرنا ایک امر اختیاری ہے۔ دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے زبردستی اور جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے جو کچھ ہوا وہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا تاکہ بنی اسرائیل اس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ شریک معاہدہ ہو رہے ہیں وہ کوئی کمزور اور بے اختیار ہستی نہیں ہے بلکہ اس کی قدرت بے پناہ ہے۔ معاہدہ کی پابندی کی شکل میں جس طرح دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے انعامات کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے غضب کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ طور جیسے عظیم پہاڑ کو ان کے سروں پر لٹکا سکتا اور اس سے ان کو کچل کے رکھ دے سکتا ہے۔
خُذُوۡا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: یعنی اس تورات کا جو تمہارے لئے اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے پوری مضبوطی اور پوری عزیمت کے ساتھ لو اور زندگی کے تمام مراحل میں پورے استقلال اور پوری پامردی کے ساتھ اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو نباہو۔ اس کے احکام نرم بھی ہیں اور سخت بھی، نیز اس کی ذمہ داری یُسر میں بھی ہے اور عُسر میں بھی، اس وجہ سے کمزور ہاتھوں اور ڈھیلے ارادوں کے ساتھ اس کا حق ادا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے قوت اور عزیمت مطلوب ہے۔
وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ: جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، سے مراد احکام وہدایات بھی ہیں اور خاص طور پر وہ تنبیہات اور تہدیدات بھی جو اس میثاق کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق بنی اسرائیل کو سنا دی گئی تھیں۔ تورات میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس عہد پر قائم رہیں گے تو وہ زمین اور آسمان دونوں طرف سے خدا کا فضل پائیں گے اور اگر انہوں نے اس کی ناقدری کی تو دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی سزا بھی بڑی ہی سخت ہو گی۔
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، اس لئے کہ کتاب الہٰی کا اصل مقصد ہی راہ تقویٰ کی نشان دہی ہوتا ہے لیکن ہم نے موقع کلام اور سیاق وسباق کی روشنی میں اس سے خدا کے قہروغضب سے بچنا مراد لیا ہے۔ ہمارا ذہن اس طرف اس وجہ سے گیا ہے کہ اس سے پہلے ان کو خاص طور پر، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان تنبیہات وتحذیرات کو یاد رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے جو تورات میں میثاق الہٰی کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق اس کو سنائی گئی تھیں اور ان کے سنانے سے مقصود یہی تھا کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں خدا کے قہر وغضب سے محفوظ رہیں۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی

18/06/2026

اللہ کا عذاب بلا وجہ نہیں آتا۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 59

تفسیر:۔
اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کسی قوم پر بلاوجہ نہیں آتا بلکہ ان کی اپنی بد اعمالیوں کا طبعی نتیجہ ہوتا ہے۔

ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب

Daily Quran and Hadees #قرآن

16/06/2026

نعمت کی ناشکری خود اپنے آپ پہ ہی ظلم ہے۔۔۔۔

سورۃ البقرة
آیت نمبر 57

تفسیر:
یہاں کلام کا سیاق وسباق اس امر کو واضح کر رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا حق نہیں پہچانا۔۔ وہ ان نعمتوں کو پاکر شکرگزار بننے کے بجائے ان کی ناقدری اور خدا کی نافرمانی کرتے رہے۔ یہ بات چوں کہ سیاق کلام سے واضح ہے اس وجہ سے لفظوں میں ظاہر نہیں کی گئی بلکہ اس کی جگہ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ “انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے”۔ اس فقرہ سے بنی اسرائیل کا ان نعمتوں سے متعلق رویہ بھی واضح ہو گیا ہے اور یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ جو لوگ خدا کی کسی نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی بگاڑتے ہیں۔ یہ آخری بات اوپر کی باتوں کی طرح یہود کو براہ راست مخاطب کر کے کہنے کے بجائے ان سے منہ پھیر کر غائب کے صیغہ سے کہی گئی ہے جس سے ان کی طرف سے متکلم کی بیزاری کا اظہار ہو رہا ہے۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی

Daily Quran and Hadees #قرآن

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan