Knowledge Gain through Education and Awareness

Knowledge Gain through Education and Awareness

Share

Education with knowledge
knowledge is power

10/08/2023

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔ وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا: "آؤ میرے ساتھ کھیلو۔" نوجوان نے اس سے کہا اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔ مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت درخت نے کہا: مجھے افسوس ہے، میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میرے اوپرجو سیب لگے ہوئے ہیں تم انہیں توڑ کر بیچ سکتے ہو۔ اس کے بعد تمہارے پاس پیسہ آ جائیگا۔ " نو جوان بہت خوش ہوا اور اس نے درخت کے سبھی سیب توڑے اور خوشی خوشی چلا گیا۔ سیب توڑنے کے بعد نو جوان واپس نہیں آیا تو درخت کو مایوسی ہوئی ۔ ایک دن وہ نوجوان آیا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا۔ درخت بہت خوش ہوا: اس نے جوان سے کہا آؤ میرے ساتھ کھیلو"۔ حسب توقع اس نے انکار کر دیا میرے پاس کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ میں اپنے کنبے کے لئے کام کروں۔ ہمیں رہنے کے لئے ایک مکان کی ضرورت ہے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔ درخت نے اس سے کہا: " افسوس ہے لیکن میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے ۔ پھر بھی اپنا گھر بنانے کے لئے تم میری ٹہنیاں کاٹ سکتے ہو۔ اس آدمی نے درخت کی ساری ٹہنیاں کاٹ لیں اور خوشی خوشی چلا گیا۔ اسے خوش دیکھ کر درخت خوش تھا لیکن اس وقت کے بعد آدمی اس کے پاس واپس نہیں لوٹا تو درخت کو پھر سے تنہائی اور مایوسی کا احساس ہونے لگا۔ ایک دن پھرجب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور گرمی کافی زیادہ تھی وہ شخص آیا۔ اسے دیکھ کر درخت خوش ہو گیا اور حسب عادت اس سے کہا کہ : آؤ میرے ساتھ کھیلو۔ آدمی نے کہا کہ میں بڑا ہو گیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سمندر میں سفر کروں تاکہ خوش حال ہوجاؤں۔ کیا آپ مجھے ایک کشتی دے سکتے ہیں۔ درخت نے کہا: میرے تنے سے اپنی کشتی بنا لو۔ اس سے تم دور تک سفر کر لوگے اور خوش حال ہو جاؤگے۔ آدمی نے کشتی بنانے کے لئے درخت کا تنا کاٹا اور سمندری سفر کے لئے نکل پڑا اور کافی زمانے تک نہیں لوٹا۔ سالوں بعد وہ شخص پھر آیا۔ درخت نے اس سے کہا: اے میرے بیٹے مجھے افسوس ہے لیکن میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہے جو میں تمہیں دے سکوں۔ تمہارے لئے ایک سیب بھی نہیں بچا ہے۔ اس آدمی نے کہا کوئی بات نہیں، میرے پاس اسے کھانے کے لئے دانت ہی نہیں ہیں۔ " درخت نے کہا: میرا تنا بھی نہیں بچا کی تم اس پر چڑھ سکو"۔ اس شخص نے کہا: اس پر چڑھنے کی اب میری عمر نہیں رہی۔" درخت نے کہا

میں اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے:" حقیقت میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ آخری چیز جو میرے پاس ہے وہ میری جڑیں ہیں۔ " اس وقت اس آدمی نے کہا :" اب مجھے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اب مجھے ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آرام کر سکوں۔ زندگی بھر کام کرکرکے میں تھک چکا ہوں۔ پرانے درخت کی جڑ ٹیک لگانے اور آرام کرنے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے۔" تب درخت نے اس سے کہا آؤ میرے پاس بیٹھو اور آرام کرو"۔ آدمی بیٹھ گیا، درخت خوش تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

وہ بچہ آپ خود ہیں اور سیب کا وہ درخت آپ کے والدین

ہیں

: نصیحت

درخت والدین کی طرح ہے ۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اسی وقت واپس آتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کچھ بھی ہو جائے والدین کبھی بھی اپنی قیمتی سے قیمتی چیز اپنے بچوں کو دینے میں تردد نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں بچے ہی رہتے ہیں

27/07/2023

اردو زبان کے بارے میں بنیادی معلومات۔

اردو زبان اور ھندی زبان بنیادی طور پر ایک ھی زبان ھیں۔ لیکن رسم الخط مختلف ھے۔ دونوں زبانوں کی بنیاد ھند آریائی ھے۔ جبکہ بنیادی ڈھانچہ ‘ گرائمر اور بڑی حد تک الفاظ اور صوتیات میں اتنی مماثلت ھے کہ وہ ایک زبان نظر آتی ھیں۔

دھلی سے اودھ تک کے خطے میں 13 ویں صدی سے لے کر 18 ویں صدی کے آخر تک عام طور پر بولی جانے والی زبان "ھندوی" تھی۔ اس زبان کو ھنداوی اور دھلوی جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

"معیاری ھندوی" زبان کو سب سے پہلے "کھڑی بولی" بولنے والے ترکوں نے تیار کیا تھا جو دھلی سے جاکر اودھ کے خطے میں آباد ھوئے تھے۔ ان میں امیر خسرو کو خاص طور پر اھمیت حاصل ھے۔ انہوں نے "کھڑی بولی" کے کھردرا پن میں "اودھی" کی نرماھٹ کو ملا کر ایک نئی زبان تشکیل دی جس کو انہوں نے "ھندوی" کہا۔ "ھندوی" زبان بعد میں "ھندوستانی" زبان کی شکل اختیار کر گئی جوکہ بعد میں "ھندی اور اردو" بن گئی۔

پہلی "ھندوستانی" زبان کی کتاب "وہ مجلس" 1728 میں لکھی گئی تھی۔ پہلی مرتبہ اردو کا نام شاعر غلام علی ھمدانی مصحفی نے 1780 میں استعمال کیا۔ اردو زبان نے انگریز راج کے دوران برطانوی راج کی سرپرستی کی وجہ سے پہچان اور سرپرستی حاصل کرنا شروع کی۔

ھندوستان کی برطانوی انتظامیہ اور کرسچن مشنریوں نے کھڑی بولی سے وجود میں لائی گئی "ھندوستانی" زبان کو جدید اور "معیاری ھندوستانی" زبان بنانے کے لیے اھم کردار ادا کیا۔ 1800 عیسوی میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے کلکتہ میں ھائر ایجوکیشن کا ایک کالج قائم کیا جس کا نام فورٹ ولیم کالج تھا۔

فورٹ ولیم کالج کے ریگلولیشن کے تحت کالج میں ھندوستانی ' عربی ' فارسی ' سنسکرت ' مرھٹی اور کٹری زبانوں کے شعبے قائم کیے گئے۔ کالج میں پروفیسروں کی مدد کے لیے شعبے میں منشی بھی مقرر کیے گئے تھے۔ میر بہادر علی حسینی فورٹ ولیم کالج کے میر منشی تھے۔ میرامن دھلوی بھی ان ھی کی وساطت سے فورٹ ولیم کالج میں منشی بھرتی ھوئے تھے۔

فورٹ ولیم کالج کے صدر جان گلکرسٹ نے "ھندوستانی" زبان کی صرف و نحو مرتب کی اور کالج کے منشیوں کو "ھندوستانی" زبان میں لکھنے کی ترغیب دی۔ مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لیے منظور شدہ کتابوں پر انعام بھی دیا جاتا تھا۔ اس لیے قصوں کہانیوں کی کتابیں بڑی تعدا د میں لکھی گئیں۔

فورٹ ولیم کالج کے قیام کے ابتدائی چار سالوں میں 23 کتابیں لکھی گئیں۔ میر بہادر علی حسینی ' میر امن دھلوی ' سید حیدر بخش حیدری ' میر شیر علی افسوس ' مظہر علی ولا ' مرزا کاظم علی جوان ' خلیل خان اشک ' نہال چند لاھوری ' بینی نارائن جہاں ' مرزا جان تپش ' میر عبد اللہ مسکین ' مرزا محمد فطرت ' میر معین الدین فیض مشہور اور اھم مصنفین تھے۔

فورٹ ولیم کالج کے قیام سے قبل "ھندوستانی" زبان کا نثری ذخیرہ بہت محدود تھا۔ نثر میں جو چند کتابیں لکھی گئی تھیں ان کی زبان فارسی اثرات کے زیر اثر ' تکلف اور تصنع سے بھر پور ' مشکل ' ثقیل اور بوجھل تھی۔ اس لیے فورٹ ولیم کالج کے مصنفین کی تحریروں کا نمایاں وصف سادہ ' روانی والا ' آسان ' لطیف اور عام فہم بول چال کا انداز اپنانا رھا۔ اس طرح "ھندوستانی" زبان میں تیار کی گئی کچھ تصانیف "معیاری ھندوستانی" زبان کی ادبی شکل اختیار کر گئیں۔

سرکاری سرپرستی کی وجہ سے "ھندوستانی" سے وجود میں لائی گئی "معیاری ھندوستانی" زبان کی ادبی مقبولیت اور ترقی ھونے لگی۔ "معیاری ھندوستانی" زبان کو "اردو" قرار دیا جانے لگا۔ یہاں تک کہ اودھی ' برج بھاشا اور میتھلی جیسی زیادہ ادبی زبانوں کے استعمال میں کمی واقع ھوئی۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے سے ھی "اردو" زبان میں ادبی کاموں نے زور پکڑ لیا۔ آھستہ آھستہ بعد کے سالوں میں "کھڑی بولی" سے وجود میں لائی گئی "ھندوستانی" کو "معیاری ھندوستانی" کی شکل دینے سے "اردو" زبان کی بنیاد پڑ گئی۔ اسے اسکولوں میں پڑھانا شروع کیا گیا اور سرکاری کاموں میں استعمال کیا جانے لگا۔

فورٹ ولیم کالج نے تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ منظم طور پر "معیاری ھندوستانی" زبان میں ترجموں کی روایت کا آغاز بھی کیا تھا۔ اس لیے ھی انیسویں صدی میں "معیاری ھندوستانی" زبان اور بیسویں صدی میں "اردو" نثر میں ترجمہ کرنے کی جتنی تحریکیں شروع ھوئیں ان کے پس پردہ فورٹ ولیم کالج کا اثر کار فرما رھا۔

میرامن دھلوی نے قصہ چہار درویش کو ’’باغ و بہار‘‘ کے نام سے لکھا۔ ’’باغ و بہار‘‘ اپنی سادہ اور دلکش نثر کی وجہ سے ایک شاھکار کا درجہ حاصل کر چکی ھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’گنجِ خوبی‘‘ کا ترجمہ کیا۔

حیدر بخش حیدری نے کئی کتابیں لکھیں۔ ان میں قصہ ’’مہرو ماہ ' توتا کہانی اور آرائشِ محفل‘‘ قابل ذکر ھیں۔

میر شیر علی افسوس نے سعدیؒ کی کتاب ’’گلستان‘‘ کا ترجمہ ’’باغِ اردو‘‘ کے نام سے کیا۔

منشی سجان رائے کی تاریخی کتاب خلاصۃ التواریخ کا ترجمہ ’’آرائشِ محفل‘‘ کے نام سے کیا گیا۔

میر بہادر علی حسینی نے نثرِ بے نظیر ’ اخلاقِ ھندی ’ تاریخ آسام اور قواعدِ زبان اردو کے نام سے کتابیں لکھیں۔

خلیل علی خاں اشکؔ نے بھی کئی کتابیں لکھیں مگر بیشتر غیر مطبوعہ رہ گئیں۔ انہوں نے ’’قصہ امیر حمزہ‘‘ کو اردو قالب عطا کیا۔ ان کی دوسری تصانیف میں ’’رسالہ کائنات جو اور قصہ گلزارِ چین‘‘ بھی ھیں۔

مظہر علی خاں ولاؔ نے ’’مادھونل اور کام کنڈلا ’ ھفت گلشن اور بیتال پچیسی‘‘ کے ترجمے کیے۔

شیخ حفظ الدین نے ’’خرد افروز‘‘ لکھی جو ’’عیارِدانش‘‘ کا ترجمہ ھے۔

کاظم علی جوانؔ زیادہ تر مصنفین کو ان کی تالیفات کی تکمیل میں مدد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی دو کتابیں لکھیں۔ ایک شکنتلا لکھی اور دوسری تاریخِ فرشتہ کے بڑے حصے کا ترجمہ تھی۔

مرزا علی لطفؔ نے ’’گلشنِ ھند‘‘ کے نام سے شعرائے اردو کا ایک تذکرہ لکھا۔

امانت اللہ نے اپنی عربی کتاب ’’ھدایت الاسلام‘‘ کو اردو میں منتقل کیا۔

بینی نرائین نے چار گلشن ’ دیوانِ جہاں اور شاہ رفیع الدین کی کتاب ’’تنبیہ الغافلین‘‘ کے ترجمے کیے۔

"کھڑی بولی" کو دھلوی ' کؤروی اور ھنداوی بھی کہا جاتا ھے۔ اس بولی کو میعاری اردو اور ھندی جبکہ باعث فخر اردو اور ھندی بھی مانا جاتا ھے۔ یہ مغربی ھند کی بولی ھے جو بنیادی طور پر دھلی کے دیہی علاقوں ‘ مغربی اترپردیش کے علاقوں اور ھندوستان کے اتراکھنڈ کے جنوبی علاقوں میں بولی جاتی ھے۔

دھلی کے آس پاس کا علاقہ ایک طویل عرصے سے شمالی ھندوستان میں طاقت کا مرکز رھا۔ اس لیے قدرتی طور پر "کھڑی بولی" کو شمالی ھندوستان کی دوسری بولیوں کے مقابلے میں شھری علاقوں کی اور اعلی معیار کی زبان سمجھا جاتا رھا۔ "کھڑی بولی" کے عروج سے پہلے بھکتی سنتوں میں سے کرشن بھکتوں نے برج بھاشا کو ‘ رام بھکتوں نے اودھی کو اور بہار کے واشنوی نے میتھلی کو اپنایا ھوا تھا۔

دھلی کی "کھڑی بولی" تقریبا 900 سالوں کے دوران فارسی ‘ عربی اور ترک زبان کے زیر اثر تیار ھوئی۔ اس کی ابتداء برصغیر پاک و ھند میں دھلی سلطنت (1206–1527) کے دوران اترپردیش کے خطے میں ھوئی اور مغل سلطنت (1526–1858) کے تحت ترقی کرتی رھی۔ "کھڑی بولی" کی ابتدائی مثالوں کو امیر خسرو (1253-1355) کی تحریروں میں دیکھا جاسکتا ھے۔

"کھڑی بولی" سے وجود میں لائی گئی "معیاری ھندوستانی" زبان کو آھستہ آھستہ 19 ویں صدی کے دوران "اردو" کے نام سے تقویت مل گئی تھی۔ ورنہ اس سے پہلے دوسری بولیاں جیسے اودھی ' برج بھاشا اور میتھلی ادب کے لیے ترجیح دی جانے والی بولیاں تھیں۔

برطانوی راج کی آمد کے ساتھ ھی ھندوستان کی انتظامیہ کی زبان فارسی نہیں رھی تھی۔ لیکن شمال مغربی ھندوستان میں "ھندوستانی" زبان جو ابھی تک فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ اسے ھندو اور مسلمان دونوں ھی استعمال کرتے رھے۔ انگریزوں نے فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو نافذ کیا اور 1846 میں شمالی ھندوستان میں جموں و کشمیر کی ریاست کی اور 1877 میں پنجاب کی مقامی سرکاری زبان فارسی کو اردو زبان سے تبدیل کیا گیا۔

برطانوی ھندوستان میں برطانوی راج کی پالیسی کی وجہ سے فارسی کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے "اردو" زبان کو فروغ دینا شروع کیا گیا۔ تاھم اس پر شمال مغربی ھندوستان میں ھندوؤں کا رد عمل ھوا۔ ان کی دلیل تھی کہ؛ زبان کو دیوناگری رسم الخط میں لکھنا چاھیے۔ چنانچہ دیوناگری رسم الخط میں نئی زبان "ھندی" تشکیل دی گئی اور اسے "ھندوستانی" زبان کی جگہ 1881 میں بہار کی سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا گیا۔

اردو" نے جو کہ "کھڑی بولی" کی جدید شکل والا لہجہ ھے ' فارسی کو شمالی ھندوستان کی ادبی زبان کے طور پر 20 ویں صدی کے اوائل میں تبدیل کردیا تھا۔ لیکن اردو میں فارسی کی آمیزش اور اردو کی مسلمانوں کے ساتھ وابستگی نے ھندوؤں کو "ھندوستانی" زبان میں سنسکرت کی شمولیت پر اکسایا۔ جس کے نتیجے میں موجودہ "ھندی" کی تشکیل ھوئی۔ جبکہ مسلمانوں کے لئے "اردو" اور ھندوؤں کے لیے "ھندی" کا تاثر بھی قائم کیا جانے لگا۔

اردو دنیا کی 21 ویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ھے۔ دنیا بھر میں اردو بولنے والے تقریبا 6 کروڑ 70 لاکھ افراد ھیں۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والے ھندوستان میں 5 کروڑ 20 لاکھ اور پاکستان میں ایک کروڑ 47 لاکھ تھے۔ جبکہ کئی لاکھ اردو بولنے والے برطانیہ ‘ سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارات ' ریاستہائے متحدہ امریکہ ‘ کنیڈا اور بنگلہ دیش میں ھیں۔ بنگلہ دیش میں انہیں "بہاری" کہا جاتا ھے۔

ھندوستان میں اردو باضابطہ طور پر تسلیم شدہ سرکاری زبانوں میں سے ایک ھے اور اسے ھندوستانی ریاستوں اترپردیش ‘ بہار ‘ تلنگانہ ‘ جموں و کشمیر اور ھندوستان کے دارالحکومت نئی دھلی میں سرکاری زبان کا درجہ حاصل ھے۔

پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کی آبادی سندھ میں 8,709,610 ۔ پنجاب میں 5,356,464 ۔ کے پی کے میں 274,581 ۔ اسلام آباد میں 244,966 ۔ بلوچستان میں 99,913 ۔ فاٹا میں 24,465 ھے۔

پاکستان میں اردو بولنے والوں کی کل آبادی 14,709,999 ھے جو کہ پاکستان کی 207,685,000 آبادی کا %7.08 بنتی ھے۔

پاکستان کی 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں پہلی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی۔ دوسری پشتو۔ تیسری سندھی۔ چوتھی سرائیکی (پنجابی زبان کے ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی لہجوں کو "سرائیکی" کہا جاتا ھے) اور پانچویں اردو ھے۔

پاکستان کی %93 آبادی کی مادری زبان اردو نہیں ھے۔ اس حقیقت کے باوجود پاکستان کے پہلے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر نافذ کیا تھا لیکن اسے ابھی تک نافذ رکھا گیا ھے۔
Asim Junaid

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


MuzaffarGarh
Multan