Faisal Javid
.
خود احتسابی
" آج میں اے ٹی ایم کے باہر انتظار کر رہا تھا اپنی باری کا میں دروازے سے تھوڑا سا سائیڈ پر کھڑا ہوا تھا اندر والا شخص ابھی باہر نہیں ایا کہ دوسری طرف سے ایک شخص ایا اور دروازے کے بالکل سامنے کھڑا ہو گیا مجھے یہ بات بہت ناگوار گزری اور ذہنی طور پہ خود کو تیار کر لیا میں نے کہ اگر یہ شخص اندر والے شخص کے باہر انے کے بعد میرے جانے سے پہلے جائے گا تو میں اسے روک دوں گا اور سوچ رہا تھا اگر اسے دو سنانی بھی پڑی تو سنا دوں گا کہ اسے اندازہ نہیں کہ میں اس سے پہلے کھڑا ہوں وہی ہوا جس کا ڈر تھا جیسے ہی اندر والا شخص باہر ایا تو یہ صاحب فورا اندر داخل ہونے لگے تو میں نے انہیں کہا اپ نے مجھے دیکھا نہیں میں اپ سے پہلے کھڑا ہوا انتظار کر رہا تھا تو وہ شخص کہنے لگا کہ بھائی میں سمجھا اپ شاید ویسے کھڑے ہیں تھوڑا سا سائیڈ پر جو تھے اپ اور ساتھ ہی وہ دروازہ کھول کے سائیڈ پہ کھڑا ہو گیا اور مجھے کہنے لگا اپ ا جائیں اس کے اس خوبصورت جواب نے میری کیفیت ہی بدل دی کس قدر حسین اتفاق اب اسی شخص سے میں خود کہہ رہا تھا پہلے جانے کا تھوڑی دیر پہلے جس کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ شخص پہلے گیا تو میں سے روک دوں گا لیکن اس کے خوبصورت حسن اخلاق نے میری کیفیت کو بدل دیا میں سمجھتا ہوں میرے اندر میرے رویے میں بدلاؤ اس کے بہترین اخلاق کی وجہ سے ایا میں نے کہا کہ اگر جلدی میں ہیں تو اپ چلے جائیں تو کہنے لگا پانچ بجے میں نے فیس جمع کروانی ہے اور اس وقت چار بج کر 52 منٹ ہو چکے تھے تو میں نے انہیں کہا کہ اپ چلے جائیں میں بعد میں چلا جاؤں گا وہ صاحب گئے باہر اتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا اور پھر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئے اور میں سوچ رہا تھا کہ میں نے یہ بات سوچنے میں ذرا دیر نہیں لگائی کہ وہ شخص غلط کر رہا ہے لیکن وہ دانستہ طور پر ارادتا ایسا نہیں کر رہا تھا وہ بھی ایک غلط فہمی کا شکار ہوا تھا میں سمجھتا ہوں ہمیں کسی کی غلطی پر تنقید کرنے سے پہلے بارہا دفعہ سوچنا چاہیے اگر پھر بھی ہمیں اگر تسلی نہ ہو تو سامنے والے شخص سے اس کا نقطہ نظر جان لینا چاہیے "
فیصل جاوید
نواز شریف وزیراعظم کا حلف کب اٹھائے گا؟؟؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan