Hitler's Feeling
Untold Stories or Deeply Words About Reality
03/01/2026
وڈیو دیکھنے کے بعد میرا ردعمل- باشعور لوگوں کے لیے
یہ وڈیو ہمیں نہیں، ہمارے ضمیر کو دیکھنی چاہیے۔
عمیری کی وڈیو محض ایک وڈیو نہیں
یہ اس معاشرے کے چہرے پر پڑنے والا وہ زور دار تمانچہ ہے جو برسوں تک گونجتا رہے گا۔
اس وڈیو میں اگر کوئی ن نگا ہے تو وہ لڑکا یا لڑکی نہیں، ن نگا ہمارا معاشرہ ہے اپنی سوچ میں، اپنے فیصلوں میں، اور اپنی بے حسی میں۔
ایک عورت کو اس مرد کے ساتھ باندھ دیا گیا جو اسے شوہر تو کہلاتا ہے، مگر مردانگی سے خالی ہے شاید اس کے پاس پیسہ تھا، اسٹیٹس تھا، مگر وہ لمس نہیں تھا جو عورت کو زندہ رکھتا ہے۔
وہ عورت چیخ چیخ کر کہتی ہے: “میرے بھائیوں کو وڈیو کال کر کے دکھاؤ، جنہیں مرد کی پہچان ہی نہیں
یہ جملہ نہیں، یہ ایک پوری نسل پر فردِ جرم ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو غیرت کے نام پر کھونٹی سے باندھ دیا جاتا ہے۔
وہ بھائیوں پر بھروسا کرتی ہے، انہیں اپنا محافظ سمجھتی ہے،
مگر وہی بھائی اس کے اعتماد کو روند دیتے ہیں،
اسے ایسے رشتے میں دھکیل دیتے ہیں جہاں اس کی جسمانی، جذباتی اور انسانی ضرورتوں کا کوئی وجود نہیں۔
پھر وہ عورت عمیری سے کہتی ہے: “مجھ سے نکاح کر لو”
یہ فقرہ گناہ کی دعوت نہیں،
یہ اس بات کی گواہی ہے کہ وہ عورت گناہ نہیں چاہتی تھی، صرف عزت کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔
مگر انسان ہے، پتھر نہیں فطرت کے تقاضے ہیں، جذبات ہیں، خواہشات ہیں۔
وہ یہ بھی کہتی ہے: “بھائیوں نے مجھے دیا ہی کیا ہے؟”
یہ ایک سوال نہیں،
یہ ایک فیصلہ ہے کہ اس کے حقوق، اس کی خوشی، اس کی ذات، سب نظرانداز کر دی گئی۔
دوسری طرف عمیری ایک نوجوان، زندگی سے بھرپور، احساس سے لبریز۔
وہ کہتا ہے: “اگر میرے پاس وسائل ہوتے تو دو سال پہلے شادی کر لیتا”۔
سوچیے…
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک لڑکا نکاح چاہتا ہے، پاکیزگی چاہتا ہے،
مگر غربت اسے گناہ اور بدنامی کے بیچ لا کھڑا کرتی ہے۔
اس کے پاس محبت ہے، نیت ہے، مگر روٹی کمانے کے ذرائع نہیں۔
سیک س سین سے ہٹ کر،
اگر آپ ذرا رک کر ان کے مکالمے سنیں،
تو آپ کو ہر لفظ میں درد، بے بسی، لاچاری اور ٹوٹا ہوا اعتماد سنائی دے گا۔
یہ محض ایک وڈیو نہیں
یہ عشق کی ایک خاموش مگر چیختی ہوئی داستان ہے،
دو ایسے انسانوں کی کہانی جو شاید واقعی ایک دوسرے کے لیے بنے تھے،
مگر ہمارے ظالم رسم و رواج، معاشی ناہمواری، اور جعلی غیرت نے انہیں کچل دیا۔
12/03/2025
گنجا پن شمالی افریقہ میں مردانگی کا تاج سمجھا جاتا ہے
ترکمانستان میں کسی مرد کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی، مگر اگر وہ گنجا ہو تو اسے اجازت مل جاتی ہے۔
برازیل میں حسین خواتین اپنے منگیتر سے شادی سے پہلے یہ شرط رکھتی ہیں کہ وہ اپنے سر کے بال چیک کروائے تاکہ یقین ہو جائے کہ اس کے بال گھنے نہیں ہیں، کیونکہ زیادہ بالوں کو نرمی اور کمزور مردانہ صلاحیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ارجنٹینا میں وہ عورت جو کسی گنجے مرد سے شادی کرتی ہے، اپنے شہر کی قابلِ فخر خاتون سمجھی جاتی ہے۔
انڈونیشیا میں جب کسی جوڑے کی شادی ہوتی ہے، تو نکاح پڑھانے والا قاضی ان کے ساتھ تصویر کھینچتا ہے، کیونکہ گنجے مرد کی شادی کو قاضی کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
آسٹریلیا میں بیوی کو قانونی حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی گنجا عاشق مل جائے، تو وہ اپنے گھنے بالوں والے شوہر کو چھوڑ سکتی ہے۔
فن لینڈ میں، جب کوئی لڑکی ہیلسنکی یونیورسٹی میں داخلہ لیتی ہے، تو اس کی سب سے بڑی خواہش کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ کسی گنجے طالب علم کے ساتھ محبت میں پڑنا ہوتا ہے۔
وجۂ گنجا پن یہ ہے کہ گنجے مردوں میں مردانگی کا ہارمون (ٹیسٹوسٹیرون) بہت زیادہ ہوتا ہے، جو زیادہ بالوں والے مردوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
تمام تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ گنجے مرد عام مردوں کے مقابلے میں زیادہ بالغ، سمجھدار اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔
لہٰذا، خود پر اعتماد رکھیں!
🤪🤣🫵😀🙃
میں اُس اُداس ریگستانی پودے کی طرح ہوں جو نہیں روتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ سو سال تک روۓ گا تو بھی اُسے کوٸ گلے نہیں لگاۓ گا______💔😥
🖤
05/11/2024
عورت اپنے رشتے میں دوریاں خود کرتیں ہیں اس کے پیچھے کی وجہ ان کا ہر وقت چڑچڑا پن ہوتا ہے مرد کوئی بات کریں اسے ٹھیک سے سننا پسند نہیں کرتیں ۔ اگر آپ اس کی دس خوبیوں کی تعریف کریں وہ مان جائے گی خوش ہوگی لیکن جو اس کی ایک خامی ہو جو مرد کو پسند نہیں آرہی ہوتی اور وہ اس سے بول دے تو عورت اس کو ٹھیک کرنے سمجھنے کی بجائے بحث کرنا شروع کر دے گی اس مرد سے اور ایسی عورت کے لیے مرد کے دل میں محبت اور عزت تو ہمیشہ رہتی ہے لیکن وہ اسے روکنا ٹوکنا چھوڈ دیتا ہے اور یہ عورت کی سب سے بڑی بے وقوفی اور ہار ہوتی ہے ۔ مرد عورت کی کھیتی نہیں ہے بلکہ عورت مرد کی کھیتی ہے یہی بات عورتیں سمجھنا نہیں چاہتی ۔
""اک بات یاد رکھنا یہ بہت اہم ہے اس مرد سے کبھی دور مت ہونا یا اس کا کسی بھی لحاظ سے دل دکھانا نہ ہی اس کے لیے اپنی چاہتوں اور محبت میں کمی آنے دینا جو مرد ہزاروں شکوے اور ناراضگی کے بعد بھی اپنی انا ، غصہ پیچھے رکھ کر آپ کے پاس بار بار آتا ہو آپ کو اپنی محبت کا اظہار کرتا ہو غلطی نہ ہونے پر بھی آپ کو وہی ترجیح اور پیار دیتا ہو ۔ کیونکہ یہ بات ایک عورت کبھی نہ بھولے مرد میں اللّٰہ نے صرف انا رکھی ہوتی وہ اس پر ہی جچتی ہے اگر اس انا سے بھی زیادہ وہ آپ کو عزیز مانتا تو آپ خوش قسمت ہیں اس کی انا کو اپنی زد اور انا میں کبھی تبدیل نہ کریں عورت مرد کا سکون ہے اور یہ اللّٰہ کا فرمان ہے کہ عورت مرد کو اپنے الفاظ ، اپنی زبان کی مٹھاس ، اور اپنے وجود سے سکون بخشتا کریں وہ اس کا محافظ ہوتا ہے نہ کہ اس سے انا کہ مقابلے لگانا شروع کر دیا کریں ۔مرد کا درجہ ہر لحاظ سے عورت سے بلند ہے ۔یقین مانے آپ اسے ایک دفعہ محبت سے جی کریں گی وہ آپ کو دس دفعہ سننا پسند کریں گا . یقین مانے مرد عورت کی خوشی ، دکھ سکھ پریشانی ہر ایک چیز سے بے حد واقف ہوتا ہے عورت نہ بھی ظاہر کریں وہ اس کا چہرہ پڑھ لیتا ہے ہر طرح سے اس کا وہ خیال کرتا ہے کی اس سے اسے کوئی تکلیف نہ آئے اور وہ اس عورت کو ظاہر کرنے اور پوچھنے کی بجائے خود اندر ہی اندر اس کی سب پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے لگتا ہے اور صحیح بھی سب کچھ کر دیتا ہے لیکن عورت جلد بازی میں آکر اسے غلط سمجھ لیتی ہے اور دل و دماغ میں اپنے فلسفے بنانا شروع کر دیتی ہے کہ مرد اس کے لیے کچھ نہیں کرتا ایسی کوئی بات نہیں ہوتی مرد کے لیے عورت کا وجود بہت خاص ہوتا ہے وہ اسے دکھی کبھی نہیں دیکھ سکتا ۔اپ پر فرض ہے کی آپ مرد کی آنکھوں سے اسے پڑا کرو وہ سب کچھ بول کر نہیں کرتا نہ بتاتا ۔ بعض اوقات کچھ عورتیں باتوں میں دوسروں کی بہکاوے میں آکر بھی بہت کچھ کرنے لگ جاتیں ہیں خدارا اس چیز سے بچہ کریں آپ کا گھر انہوں نے نہیں چلانا ہوتا آپ نے اپنے دم پر سہارے پر اپنا رشتہ اور گھر خوبصورت بنانا ہوتا ۔ یہ کوئی عورت کی بد تعریفی نہیں کر رہی یہ وہ باتیں ہے جو ہر گھر میں ہوتی ہے لیکن کوئی سمجھنا یا سمجھانا نہیں چاہتا ۔اللہ ہر عورت کے ساتھ ہر مرد کے نصیب بھی اچھے کریں آمین 🖤""
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Multan
0707
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |