Zee Kay Studio

Zee Kay Studio

Share

اللہ اکبر

01/05/2026

وزیراعظم پاکستان نے اپنی زبان کا پاس رکھتے ھوئے ایک بار پھر اپنے سینے پر پتھر رکھ کر قوم کی خاطر ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ھوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ھوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شاہ خرچیوں کا لگام نہیں دی۔
حکومت اگر کبھی عوام کو ریلیف دیتی بھی ھے تو اس کا سارا خرچہ ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کرکے پورا کرتی ھے مگر کبھی اپنی شاہانہ انداز اور طرز حکومت پر سمجھوتہ نہیں کرتی ھے اور سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی ھے۔

ہم عوام دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں خلفائے راشدین جیسے حکمران عطا کرے مگر کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ھے کہ خلفائے راشدین کے دور کا مسلمان اپنے کردار و گفتار میں کیسا تھا اور ہم کیسے ہیں؟

تھوڑا نہیں پورا سوچو

*Abuman Writes*

19/05/2024

ایک شخص نے کسی بزرگ کے سامنے کسی کی چغلی کی تو انھوں نے فرمایا: تو نے تین زیادتیاں کی ہیں:
1- میرے اور میرے بھائی کے درمیان دوری پیدا کر دی ہے۔
2- میرے خالی دل کو (اس کے متعلق سوچنے میں) مشغول کر دیا ہے۔
3- میری نگاہ میں اپنے مقام و مرتبے کو مجروح کر دیا ہے۔
امام یحیٰ بن کثیرؒ فرماتے تھے کہ چغل خور ایک گھڑی میں اتنا فساد پھیلا دیتا ہے کہ جادوگر ایک مہینے میں اتنا فساد بپا نہیں کرتا!
(حلية الأولياء لأبي نُعيم، ٧٠/٣)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

09/05/2024

*کسی کیلئے ڈسٹ بن نہ بنیں*

معروف عرب مفکر ڈاکٹر علی طنطاوی مرحوم لکھتے ہیں ایک دن میں ٹیکسی میں ائیرپورٹ جا رہا تھا، ہم سڑک پر اپنی لائن پر جا رہے تھے کہ اچانک کار پارکنگ سے ایک شخص انتہائی سرعت کے ساتھ گاڑی لیکر روڑ پر چڑھا قریب تھا کہ ان کی گاڑی ہماری ٹیکسی سے ٹکرائے لیکن ٹیکسی ڈرائیور نے لمحوں میں بریک لگائی اور ہم کسی بڑے حادثے سے بچ گئے، ہم ابھی سنبھلے نہیں تھے کہ خلاف توقع وہ گاڑی والا الٹا ہم پر چیخنے چلانے لگ گیا اور ٹیکسی ڈرائیور کو خوب کوسا، ٹیکسی ڈرائیور نے اپنا غصہ روک کر اس سے معذرت کرلی اور مسکرا کر چل دیا
مجھے ٹیکسی ڈرائیور کے اس عمل پر حیرت ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ غلطی اس کی تھی اور غلطی بھی ایسی کہ کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو سکتے تھے پھر آپ نے ان سے معافی کیوں مانگی؟
ٹیکسی ڈرائیور کا جواب میرے لیے ایک سبق تھا وہ کہنے لگے کہ کچھ لوگ کچرے سے بھرے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں، وہ گندگی اور کچرا لاد کر گھوم رہے ہوتے ہیں، وہ غصہ، مایوسی، ناکامی اور طرح طرح کے داخلی مسائل سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنے اندر جمع اس کچرے کو خالی کرنا ہوتا ہے، وہ جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں، جہاں جگہ ملی یہ اپنے اندر جمع سب گندگی کو انڈیل دیتے ہیں لہذا ہم ان کے لئے ڈسٹ بِن اور کچرا دان کیوں بنیں؟
اس قبیل کے کسی فرد سے زندگی میں کبھی واسطہ پڑ جائے تو ان کے منہ نہ لگیں بلکہ مسکرا کر گزر جائیں اور اللہ تعالی سے ان کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔“

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan