Quranic Education In Karachi
تیری رحمتوں پہ ہے منحصر،میرے ہرعمل کی قبولیت
نہ مجھےسل
*دینی مدارس میں عربی ماحول کی حقیقی بنیاد مصنوعی محاوروں سے نکل کر علمی عربی کی طرف*
آج دینی مدارس و جامعات میں عربی زبان سیکھنے اور بولنے کا رجحان خوش آئند حد تک بڑھ رہا ہے۔ اساتذہ، معلمات اور طلبہ و طالبات عربی مہارات کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ محسوس کررہے ہیں، اور یہ احساس دراصل وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔ لیکن اس میدان میں ایک بنیادی غلطی مسلسل دیکھنے میں آرہی ہے کہ بہت سے ادارے اپنے ماحول، نصاب اور علمی ضرورت سے جڑی عربی کو مضبوط کرنے کے بجائے ایسے محاورات، جملوں اور اسلوب کی طرف بڑھ رہے ہیں جو نہ ان کے تعلیمی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی عملی و دعوتی زندگی کا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم کچھ عرصہ تک دانستہ کوشش کے ذریعے تو ان جملوں کو استعمال کر لیتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ مصنوعی ماحول ختم ہوتا ہے، زبان کی روانی بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ زبان صرف رٹے، نمائشی گفتگو یا وقتی مشق سے زندہ نہیں رہتی بلکہ وہ اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ انسان کی علمی ضرورت، روزمرہ استعمال اور فکری ماحول کا حصہ بن جائے۔
دینی مدارس کے طالب علم کی اصل دنیا اس کا سبق، تدریس، مطالعہ، تکرار، سوال و جواب، فقہی و تفسیری مباحث، اور علمی نشستیں ہیں۔ اس لئے اگر عربی زبان کو حقیقی طور پر زندہ کرنا ہے تو اسی ماحول کی گفتگو، انہی درسی محاورات، انہی علمی تعبیرات اور انہی روزانہ استعمال ہونے والے جملوں کو بنیاد بنایا جائے۔ جب طالب علم اپنے سبق کے اندر استعمال ہونے والی تعبیرات کو بولنا شروع کرتا ہے تو عربی اس کے لئے ایک “سبجیکٹ” نہیں رہتی بلکہ اس کی “علمی زبان” بن جاتی ہے۔
یہی وہ تصور ہے جو پاکستان کے عربی شعبہ جات، یعنی “معہد العربی” کے نظام میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ وہاں اصل توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ عربی طالب علم کی علمی زندگی کا حصہ بنے، نہ کہ صرف نمائشی گفتگو کا ذریعہ۔ اس کے لئے نہ بیرونی کتابوں کے انبار کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مہنگے وسائل کی، اور نہ باہر سے بڑی ٹیمیں لانے کی۔ اگر ادارہ درست سمت اختیار کرلے تو اس کے اپنے اساتذہ و معلمات ہی اس ماحول کو بنانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔
عربی ماحول کی حقیقی ابتدا لمبی تقاریر یا مشکل مکالموں سے نہیں بلکہ “شارٹ سوال و جواب” سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ سوال و جواب بھی صرف رٹا لگوانے کے انداز میں نہیں، بلکہ اس طرح کہ طلبہ و طالبات کو استفہام، حروفِ استفہام، استفہامیہ جملے بنانے اور عبارت سے سوال اخذ کرنے کا ذوق پیدا ہو۔ جب ایک طالب علم “مَن؟”، “ما؟”، “لِماذا؟”، “أين؟”، “كيف؟” اور “متى؟” جیسے اسالیب کے ذریعے اپنی کتاب کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو اس کے سامنے متن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ کھلتا ہے۔
یہ زاویہ صرف گفتگو پیدا نہیں کرتا بلکہ عبارت کو زبان پر جاری کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم یا طالبہ نہ صرف فصیح اللسان بنتے ہیں بلکہ علمی طور پر بھی مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی تعبیر بہتر ہوتی ہے، مطالعہ مضبوط ہوتا ہے، عبارت سے انس پیدا ہوتا ہے، اور بعد میں عوام کے ساتھ دینی و دعوتی رابطہ بھی زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ طالب علم چند مصنوعی جملے بول لے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ عربی اس کی علمی سوچ، تدریس، مطالعہ اور روزمرہ ماحول کا حصہ بن جائے۔ جب ادارے اس سمت میں قدم بڑھاتے ہیں تو پھر عربی زبان اضافی بوجھ نہیں رہتی بلکہ پورا ماحول غیر محسوس انداز میں عربی میڈیم کی طرف منتقل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
اگر آپ اپنے تعلیمی ماحول کو تدریج کے ساتھ مکمل عربی ماحول میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو مجمع اللغۃ العربیہ پاکستان کی ٹیم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ وہاں نہ صرف اساتذہ و معلمات کی تربیت، رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کی جاتی ہے بلکہ ایک منظم ماہانہ فالو اَپ نظام کے ذریعے ادارے کے ماحول میں تدریجی اور پائیدار تبدیلی لانے میں بھی مدد دی جاتی ہے۔ ان شاء اللہ جب اساتذہ کی گفتگو، سوال و جواب، تدریسی انداز اور روزمرہ ماحول عربی سے جڑنے لگتا ہے تو غیر محسوس انداز میں طلبہ و طالبات کے اندر نمایاں نکھار پیدا ہوتا ہے، اور وہ بغیر کسی اضافی ذہنی بوجھ کے عربی میڈیم کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
*سمیع اللہ عزیز*
فاضل درس نظامی و پی ایچ ڈی عربی
*03076652006*
5/20/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Multan