Health is wealth
family health & kids
اگر کرونا سے احتیاط نہ کی تو اگست تک کئی کروڑ پاکستانی مارے جائیں گے !! آخر کیسے ؟
پاکستان میں ابھی تک لوگ کرونا کو سیریس نہی لے رہے . اکثر لوگ احتیاطی تدابیر استعمال کرنے کی بجائے اسی بحث میں پڑے ہوے ہیں کہ مساجد کھلیں یا نہی اور کاروبار کب کھلیں گے . لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر لوگوں نے گھر سے نکلنا بند نہ کیا تو اگست تک کئی کروڑ پاکستانی مر سکتے ہیں . شاید ہی کوئی ایسا گھر بچے جس میں کوئی فوتگی نہ ہوئی ہو اور اکثر خاندانوں کا نام و نشان مٹ جائے گا . لیکن عوام کی ایک بڑی اکثریت اس کو سمجھ نہی رہی . زیادہ تر لوگوں کی رائے یہی ہے کہ فروری سے ہم پاکستان میں کرونا کی موجودگی کا سن رہے ہیں اور اب اپریل کا پہلا ہفتہ بھی گزر چکا ہے لیکں ابھی تک پورے ملک میں کرونا کے صرف تین ہزار مریض ہیں لہٰذا یہ کوئی خاص خطرناک چیز نہی ہے . حکومت ویسے ہی لوگوں کو ڈرا رہی ہے . عوام کی اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ بشمول کئی ڈاکٹرز کے ابھی تک کرونا کے پھیلنے کے ماڈل کو نہی سمجھے . اسے سمجھنے کے لیے ہمیں ریاضی کے لاگ کے قانون کی مدد لینی پڑے گی . کیسے, آئیے دیکھتے ہیں .
آپ نے شطرنج بورڈ کی وہ کہانی تو سنی ہو گی جس میں شطرنج کے کھلاڑی نے بادشاہ سے کہا تھا کہ مجھے انعام دینا ہے تو میرے شطرنج بورڈ کے خانوں میں چاول کے دانے اس طرح رکھیں کہ ہر خانے میں چاول کے دانوں کی تعداد ڈبل ہوتی جائے . یعنی پہلے خانے میں ایک دانہ , دوسرے میں دو , تیسرے خانے میں چار دانے , چوتھے خانے میں آٹھ اور اسی طرح ہر خانے میں ڈبل کرتے جائیں . بادشاہ نے کہا یہ تو کوئی مسلہ ہی نہی ہے . لیکن جب حساب لگانے بیٹھے تو معلوم ہوا کہ اگر ساری دنیا کے چاول بھی اکٹھے کر لیے جائیں تو سارے خانے پر نہی ہوں گے . کرونا کے پھیلنے کا ماڈل بھی اسی طرح ہے . کیسے؟
اب تک کے ڈیٹے کے مطابق یہ وائرس ہر مریض سے آگے دو لوگوں کو لگتا ہے . دوسرے کرونا کا اوسط انکوبیشن پیریڈ سات دن یعنی ایک ہفتہ ہے . مطلب اگر کسی کو یہ وائرس لگ جائے تو یہ خاموشی سے جسم کے اندر اپنی افزائش کرتا رہتا ہے اور بیماری کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں . ایک ہفتہ انکوبیشن پیریڈ کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لوگوں نے گھر سے باہر جانا جاری رکھا تو ہر ہفتے کرونا کے مریضوں کی تعداد ڈبل ہوتی جائے گی .
پاکستان میں فروری کے دوسرے ہفتے میں کرونا کے پہلے مریضوں کا پتہ لگا تھا . فرض کریں اس وقت صرف ایک مریض تھا . اس حساب سے فروری کے تیسرے ہفتے میں دو مریض ہوں گے اور چوتھے ہفتے میں چار . آگے چلیں تو مارچ کے پہلے ہفتے میں آٹھ مریض , دوسرے میں سولہ , تیسرے میں بتیس , چوتھے میں چونسٹھ اور اپریل کے پہلے ہفتے میں صرف ایک سو اٹھائیس مریض بنتے ہیں . اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں کہ حقیقت میں پاکستان میں اس وقت تین ہزار مریض ہیں اور فرض کریں کہ اس وقت صرف ایک سو اٹھائیس مریض ہیں اور اپنی گنتی جاری رکھیں تو اپریل کے دوسرے ہفتے میں 256 مریض , تیسرے میں 512 اور چوتھے میں 1024 مریض ہوں گے . بظاھر لگ رہا ہے کہ فروری سے لے کر اپریل کے آخر تک ڈھائی مہینے یا دس ہفتوں میں صرف ہزار مریض ہونا کوئی خاص خطرے والی بات نہی ہے . ریاضی کے لاگ ٹو کے قانون کے مطابق دو کی طاقت دس یعنی 10^2 سے بھی جواب 1024 ہی آتا ہے . مطلب اگر صرف ایک مریض سے شروع کریں اور ہر مریض سے آگے دو لوگوں کو وائرس لگے تو ڈھائی مہینے بعد بھی صرف 1024 مریض ہوں گے .
اب ریاضی کے اسی لاگ ٹو کے قانون سے حساب آگے بڑھائیں تو دس ہفتے میں ایک ہزار مریض , پندرہ ہفتوں میں میں بتیس ہزار مریض , بیس ہفتوں میں ایک ملین , پچیس ہفتوں میں چونتیس ملین اور اٹھائیس ہفتوں میں دو سو ساٹھ ملین یا چھبیس کروڑ مریض بنتے ہے . پاکستان کی ٹوٹل آبادی بائیس کروڑ ہے . اگر فروری میں صرف ایک مریض ہو تو اٹھائیس ہفتے یا سات ماہ بعد پاکستان کا ہر فرد کرونا کا مریض ہو گا . یاد رکھیں ان سات ماہ میں ویکسین کے آنے کا کوئی چانس نہی ہے اور اگر آ بھی گئی تو پہلے امریکہ اور یورپ کو پوری کی جائے گی , پاکستان کی باری اگلے سال تک بھی شاید ہی آئے .
لاگ ٹو کا حساب مشکل نہی ہے لیکن شطرنج والی مثال میں بادشاہ کو بھی فوراً سمجھ نہی آئی تھی لہٰذا اوپر والے پیراگراف کو دوبارہ پڑھیں اور کیلکولیٹر لے کر چیک کریں کہ نمبر ٹھیک ہیں یا نہی . جو لوگ حیران ہو رہے تھے کہ یہ یکدم اٹلی , جرمنی , فرانس , انگلینڈ اور امریکہ میں کیا ہو گیا کہ کرونا سے اتنی اموات شروع ہو گئیں , انہیں اب ریاضی کی مدد سے اس کا جواب سمجھ آ جانا چاہیے . ان ملکوں نے لاک ڈاؤن کرنے میں دیر کر دی تھی . اگر پاکستانیوں نے بھی گھر سے نکلنا بند نہ کیا تو کوئی وجہ نہی ہے کہ دو مہینے بعد پاکستان میں بھی ہر جگہ لاشیں نظر نا آ رہی ہوں .
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گرمی آنے سے وائرس مر جائے گا . لیکن اس کی کوئی سائنسی دلیل نہی ہے . کرونا وائرس 57 ڈگری پر جا کر مرتا ہے . پاکستان میں اتنا ٹمپریچر نہی ہوتا . اگر بالفرض کرونا کم درجہ حرارت پر بھی مرتا ہو تو چلو باہر گلی میں دھوپ پڑے گی تو وائرس مر جائے گا لیکن انسان تو عمارتوں کے اندر ہی رہیں گے , ان کے جسم کا درجہ حرارت تو 37 ڈگری ہی رہے گا . اس پر تو وائرس نہی مرتا . ہاں اگر انسان کے جسم کا درجہ حرارت 42 ڈگری ہو جائے تو انسان خود مر جاتا ہے . مطلب گرمیوں میں باہر جو مرضی درجہ حرارت ہو انسان تو عمارتوں کے اندر ہی رہیں گے اور وائرس ان کے جسم کے اندر پلتا ہے . عمارتوں میں موجود انسان گرمیوں میں بھی ایک دوسرے کو وائرس پھیلاتے رہیں گے .
اب اگلا سوال یہ ہو گا کہ اگر سارے پاکستان کو بھی وائرس لگ جائے تو بھی صرف پانچ فیصد لوگ مریں گے . اس کے جواب کے لیے آپ کو 1920 میں پھیلنے والے سپینش فلو کو دیکھنا پڑے گا جس میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ مرے تھے . تحقیقات کے مطابق صرف فلو سے زیادہ لوگ نہی مرے تھے بلکہ بہت زیادہ لوگوں کے بیمار ہونے اور ادویات کی کمی کی وجہ سے بہت ساری دوسری بیماریاں پیدا ہو گئی تھیں جسے میڈیکل کی زبان میں سیکنڈری انفیکشن کہا جاتا ہے . سپینش فلو میں زیادہ تر اموات بہت زیادہ مریضوں کے ہونے , صفائی کی کمی اور سیکنڈری انفیکشن سے ہوئیں . اگر خدانخواستہ پاکستان میں بھی کئی کروڑ لوگ بیمار ہو جاتے ہیں تو نہ تو ملک کے ہسپتالوں میں اتنی جگہ ہے اور نہ ہی ملک میں اتنی دوائیاں ہیں . زیادہ تر ادوویات باہر سے آتی ہیں اور جو ملک میں بنتی ہیں ان کے کیمیکل بھی زیادہ تر باہر سے ہی آتے ہیں . ایسے حالات میں کوئی ملک کسی کو ادویات یا ان کے کیمیکل نہی دیتا . ابھی کل ہی جرمنی نے الزام لگایا ہے کہ امریکا نے ان کے دو لاکھ فیس ماسک چوری کر لیے ہیں . یہ ماسک جرمنی نے اپنی پولیس کے لیے خریدے تھے لیکن امریکی حکومت نے جہاز کو آدھے راستے سے واپس بلا لیا کہ ان ماسک کی امریکا کے اندر زیادہ ضرورت ہے . جب دو قریبی ملکوں کا یہ حال ہے تو سوچیں پاکستان کو کون پوچھے گا . ایسے حالات میں اگر چند کروڑ لوگ بھی کرونا میں مبتلا ہو گئے تو نہ تو انہیں کوئی ہسپتال ملے گا نہ دوائی . لوگ سڑکوں پر تڑپ کر جان دیں گے . اس سے مزید بیماریاں اور انارکی پھیلے گی اور امن و امان کی صورتحال بھی مخدوش ہو جائے گی جس سے مزید ہلاکتیں ہوں گی . کرونا کو ڈینگی کی طرح نہ سمجھیں جو مچھروں سے پھیلتا تھا . مچھروں کو مار دیا گیا اور ڈینگی کنٹرول ہو گیا . کرونا انسانوں سے پھیلتا ہے اور انسانوں کو مارا نہی جا سکتا . لہٰذا وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھیں . ہر طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس کرونا کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں . اسے نہ تو اپنی جہالت کی بھینٹ چڑھائیں اور نہ ہی انا اور سیاست کا مسلہ بنائیں . بلکہ خاموشی سے گھروں میں رہیں . الله ہم سب کو اور ہمارے پیاروں کو اپنے حفظ امان میں رکھے .
*الٹی دور کرنے میں مفید7زبردست ٹوٹکے*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
الٹی یا قے معدے کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کھانے پینے میں کوئی ایسی چیز چلی گئی ہو جو کہ معدے نے قبول نہ کی ہو ۔ ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں وہ منہ کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہوتی ہے اس لیے منہ کو اگر جسم کا دروازہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ غذا حلق کے ذریعے غذا کی نالی سے ہوتی ہوئی معدے میں داخل وہتی ہے ۔ اگر کھانے میں کوئی ایسی چیز ہو جسم کے لیے نقصان دہ ہو یا کھانا معدے کی ضرورت یا ہضم کرنے کی صلاحیت سے زیادہ ہو معدہ دماغ کو پیغام دیتا ہے جس کی وجہ سے دماغ جسم میں متلی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔
الٹی آنے پر انسان کا دل گھبرانے لگتا ہے اور بے چینی کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے لیکن اس کا ہو جانا معدے کے لیے بہتر ہے کیونکہ اس سے نقصان دہ غذا جسم سے نکل جاتی ہے ۔ اگر الٹیاں زیادہ آجائیں اور رکنے کا نام نہ لیں تو فوری کسی معالج کے پاس جانا چاہیے البتہ اگر ایک دو الٹی آکر ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگے اس کا مطلب معدہ صاف ہوگیا ہے ۔الٹی کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور بعض اوقات جی بھی متلانے لگتا ہے۔ الٹی سے پہلے یا الٹی آنے کے وقت ہونے والی اضطرابی کیفیت پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل ٹوٹکے کارآمد ثابت ہوتے ہیں:
*1۔ زیادہ پانی پئیں*
اگر الٹی زیادہ ہو جائے تو جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے فوری زیادہ سا پانی پینا ضروری ہوتا ہے ۔ ایسا کرنے سے جسم میں سیال کا لیول درست رہے گا اور طبیعت بھی جلدی معمول پر آجائے گی ۔اسکے علاوہ الٹی کے بعد اگر کچھ نقصان دہ مواد جسم میں رہ بھی گیا ہوگا وہ بھی صاف ہو جائے گا ۔
*2۔ادرک کا استعمال*
ادرک معدے کی تیزابیت اور اور جلن کو دور کرتا ہے ۔ یہ متلی کی کیفیت کو روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے کر پیس لیں اور ایک گلاس پانی میں ملا لیں ۔ کچھ دیر نرم ہونے کے لیے چھوڑ دیں اور پھر پی لیں ۔
*3۔ پودینہ چبالیں*
تھوڑے سے پودینے کے پتے دھو کر چبانے سے الٹی کی تکلیف میں کافی حد تک آرام آجاتا ہے ۔ پودینے سے آنتوں کی جلن دور ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے پیٹ میں موجود نقصان دہ جراثیم بھی مر جاتے ہیں ۔ اگر الٹی ان جراثیموں اور بیکٹیریاز کی وجہ سے ہو ئی ہوگی تو فوراً رک جائے گی ورنہ اس کی وجہ سے ہونے والی بے چینی اور جلن سے ضرور راحت مل جائے گی ۔
*4۔ لونگ کا پانی*
لونگ کی خوشبو ذہن کو سکون پہنچاتی ہے ۔ ڈائریا، بدہضمی ، متلی اور الٹی وغیرہ کی تکالیف میں لونگ بے حد مفید ہے ۔ اس جڑی بوٹی میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہیں ۔ ایک چھوٹا چمچ لونگ کا پاوڈر یا تین چار لونگیں ایک کپ پانی میں ابال لیں ۔ اسے دس منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں ۔ ا س پانی کو چھان کر رکھ لیں اور جب بھی الٹی محسوس ہو اسے پی لیں ۔ الٹی ہونے کے بعد بھی اس پانی کو پیا جاسکتا ہے ۔
*5۔ چینی اور نمک*
زیادہ الٹیاں ہونے سے کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اس سے جسم سے ضروری غذائی اجز ابھی خارج ہو جاتے ہیں اور جسم میں سیال کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ اس کمی کو دور کرنے کا آسان ٹوٹکا ہے چینی اور نمک کا مکسچر۔ ایک گلاس پانی میں ایک چٹکی نمک اور بڑا چمچ چینی شامل کر لیں ۔ اس پانی کو پینے سے جسم میں سیال کا توازن ٹھیک ہو جائے گا اور الٹی بھی رک جائے گی۔
*6۔ سیب کا سرکہ*
الٹی کو روکنے کے لیے اس کی وجہ بننے والے آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنا ضروری ہے ۔ اس کے لیے سیب کا سرکہ بے حد مفید ہے ۔ اس میں اینٹی مائیکر وبیئل خصوصیات ہوتی ہیں جو جسم سے نقصان پہنچانے والے جراثیم کو مار بھگا تی ہیں ۔ الٹی لگنے پر ایک چھوٹا چمچ سیب کا سرکہ ایک کپ پانی میں شامل کر کہ پی لیں ۔ اسے آپ دن میں دو تین بار بھی ا ستعمال کر سکتے ہیں ۔
*7۔ پیاز کا عرق*
پیاز کے عرق کو الٹی کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ایک چھوٹا چمچ پیاز کا عرق لیں اور پی لیں ۔ اس کے علاوہ پیاز کے عرق کو ادرک کے رس کے ساتھ ملا کر بھی پیا جاسکتا ہے
الٹی کی حالت میں ان ٹوٹکوں کو آزمانے کے ساتھ ساتھ بھاری غذا کھانے سے بھی گریز کریں ۔ ٹھنڈا پانی اور تازہ پھل کا جوس پئیں ۔ دودھ یا دودھ سے بنی ہو ئی چیزیں نہ کھائیں ۔ اس کے علاہ تیل سے بنی ہوئی اشیا اور جنک فوڈ وغیرہ سے بھی پرہیز بہتر ہے ۔ الٹی محسوس ہونے پر چائے یا کافی غیرہ نہ پئیں چونکہ کیفین الٹی کی کیفیت کو مزیدبڑھا سکتی ہے ۔
05/03/2020
*نفسیاتی بیماریاں اور علاج*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
ذہنی بیماریاں آج کل کے دور میں عام ہوتی جارہی ہیں۔ ذہنی بیماریوں میں ڈپریشن، شیزوفینا، سٹریس ، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ، بہت زیادہ سوچنا، انسومنیا، پینک اٹیک، بے وجہ اداسی، انزائٹی، بیجا خوف، نیند بالکل نہ آنا، بہت زیادہ نیند آنا، باتیں بھولنا، طرح طرح کے فوبیاز، گھبراہٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اس تیز دور میں تقریبا ہر 20 میں سے 3 لوگ ذہنی و نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں اور ہر عمر کے لوگ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچے بھی ان سے محفوظ نہیں۔ زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔
روزانہ کی سرگرمیوں میں دلچسپی ،افسوس یا خوشی کے احساسات سے ہم سب واقف ہیں لیکن اگر وہ ہماری زندگی کو مسلسل طور پر برقرار اور اثر انداز کرتے ہیں تو یہ شاید ڈپریشن ہو یا کوئی اور ذہنی بیماری۔نفسیاتی بیماریاں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کی کیا وجہ ہے لیکن یہ مختلف وجوہات کی بناء پر ہوسکتی ہیں۔ کچھ لوگ ایک سنگین طبی بیماری کے دوران ڈپریشن کا تجربہ کرتے ہیں۔ دوسروں کو زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ ڈپریشن یا کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہوسکتا ہے۔
*وجوہات:*
ذہنی بیماریاں مختلف وجوہات کی بنا پر پھیل رہی ہیں۔ جیسے کہ بہت زیادہ سوچنا، زیادہ حساس ہونا، بلاوجہ کی روک ٹوک، موبائل کا حد سے زیادہ استعمال، کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن کا زیادہ استعمال، ناقص غذا ، تنہا رہنا، شورزدہ ماحول میں رہنا، لوگوں کا رویہ، خود سے لاپرواہ رہنا وغیرہ شامل ہیں۔ غیر معمولی بلندی سے کوئی حادثہ، نیند کی کمی، ڈرا دینے والے خیالات ، خطرناک فیصلے جو خطرے سے متعلق رویے کا سبب بن سکتے ہیں، غیر مناسب سماجی رویے ،موڈ کی خرابی خاندانی رویوں پر، چھوٹی عمر میں والدین کو کھو دینا، سوشل سپورٹ سسٹم کی کمی یا اس طرح کے نقصان کا خطرہ، نفسیاتی اور سماجی کشیدگی جیسے کام کے نقصان، تعلقات میں کشیدگی، علیحدگی یا طلاق، بچوں یا خواتین کا جسمانی یا جنسی حراس کا شکار ہونا، احساس جرم کا شکار ہونا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایسے عوامل جن میں خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے مثلا تولیدی، جینیاتی، یا دیگر حیاتیاتی عوامل ہیں۔
*علامات* :
ذہنی بیماریوں کی علامات کچھ کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔باتیں بھول جانا، نسیان، ہاتھ بار بار دھونا، اندھیرے سے ڈرنا، عجیب آوازیں سنائی دینا، ہر وقت اداسی چھائی رہنا، کوئی کام کرنے کا دل نہ کرنا، ہر وقت تھکے تھکے سے رہنا، بیزاری چھائی رہنا، بات بات پر غصہ آجانا، چڑچڑاپن حد سے بڑھ جانا، بھوک نہ لگنا، نیند نہ آنا، تنہا رہنا، ہجوم سے گھبرانا، مایوسی چھائے رہنا، وغیرہ ہیں۔
*علاج:*
کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو۔ تو ان بیماریوں کا شکار لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان بیماریوں سے لڑنے کے لیے بہت ہمت کے ساتھ ساتھ خاندان کے مثبت رویے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو لگے کوئی ایسا مریض آپ کے اردگرد موجود ہے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔لیکن ہمارا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ ایسا کوئی بھی مریض اگر ہے کوئی جتنا بھی قریبی ہے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے اس کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس کو باتیں سنائی جاتی ہیں۔ اس سے مقابلہ بازی کی جاتی ہے ان باتوں سے مریض زیادہ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ ایسے سنگدل معاشرے میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر یا تو مریض جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے یا خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یا پھر انتہائی شکل میں خودکشی کرلیتا ہے۔
خاندان کے ارکان کو تعلیم دینے کے لیے معاون حل کے بارے میں بات چیت کی جانی چاہیے۔ ماہر نفسیات کو اپنے مریض کے ماحول سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ماہر نفسیات، بھی بات چیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جیسے ڈپریشن کے لیے نفسیاتی رویے سے متعلق بات چیت کے ذریعے تھراپی میں سنجیدگی(سی بی ٹی) اور دشواری حل کرنے کے علاج شامل ہیں۔ ڈپریشن کے ہلکے معاملات میں نفسیاتی علاج کے لئے پہلا اختیار ہے۔
شدید معاملات میں اعتدال پسندی اور وہ دوسرے علاج کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ایروبک مشق ہلکی نفسیاتی بیماریوں کے خلاف مدد کرسکتی ہے کیونکہ یہ endorphin کی سطح کو بڑھاتا ہے اور نیوروٹرانٹرٹر نوریپینفائنین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو موڈ سے متعلق ہے۔ اس کے ساتھ میڈیسن بھی دی جاتی ہیں۔
*تجاویز*:
ایسے مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے خاندان والوں کو ازحد توجہ دینے کی ضرورت ہے اگر گھر والے ساتھ ہوں تو آدھی بیماری تو ویسے ہی ختم ہو جاتی۔ اگر گھر کا ماحول ٹھیک ہونے میں رکاوٹ بنتا ہو تو کچھ عرصے کے لیے مریض کو ماحول بدل لینا چاہیے۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ اپنی غذا کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے ماہر نفسیات سے رجوع کرتے رہنا ہے۔ ورزش کا معمول بنانا ہے۔ نماز ادا کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔ تلاوت قرآن کرنا ہے۔ ایسا مریض خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھے۔ ان بیماریوں سے چھٹکارا پا کر صحت مند ہو کر ہی وہ معاشرے کا قابل فرد بن سکتا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
460661