Legal Desk
Legal information desk
28/04/2026
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جہاں قتل کا مقدمہ Unwitnessed Occurrence ہو، یعنی وقوعہ کسی نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، اور Prosecution کا سارا مقدمہ صرف Extrajudicial Confession پر مبنی ہو، وہاں صرف الزام کی بنیاد پر ملزم کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
مقدمہ میں FIR 14.09.2025 کو درج ہوئی، جبکہ مقتول کی شناخت 21.10.2025 کو ہوئی۔ اس کے بعد 22.10.2025 کو ایک Supplementary Statement کے ذریعے پہلی بار ملزمان کے خلاف Extrajudicial Confession سامنے لایا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک ماہ سے زائد تاخیر سے سامنے آنے والا ایسا material شکوک پیدا کرتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ Extrajudicial Confession ایک weak evidence ہے، کیونکہ اسے آسانی سے گھڑا یا arrange کیا جا سکتا ہے۔ اس کی truth اور evidentiary value کا فیصلہ ٹرائل کے دوران ہوگا، اس لیے صرف اسی بنیاد پر Bail deny نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب اہم incriminating material بعد میں Supplementary Statement کے ذریعے سامنے آئے، تو یہ کیس کو Section 497(2) Cr.P.C. کے تحت Further Inquiry میں لے جاتا ہے، کیونکہ یہ محض suspicion پیدا کرتا ہے، جرم ثابت نہیں کرتا۔
عدالت نے Presumption of Innocence کا اصول بھی دہرایا اور کہا کہ ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ تصور ہوتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ صرف offence کی seriousness کی وجہ سے کسی کی liberty سلب نہیں کی جا سکتی۔
ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ Further Inquiry کا ہے، لہٰذا Petitioners Post-Arrest Bail کے مستحق ہیں۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ weak اور delayed evidence کی بنیاد پر کسی شخص کو مسلسل حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔
26/04/2026
یہ ایک دلچسپ اور اہم نوعیت کا مقدمہ تھا جس میں وراثت، وصیت اور اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیا گیا۔ مقدمہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاندان میں ایک شخص کا انتقال بغیر اولاد کے ہو گیا۔ اس کے بعد اس کے قریبی رشتہ دار بطور وارث اس کی جائیداد میں برابر کے حق دار تھے اور طویل عرصہ تک سب اپنے اپنے حصوں کے مطابق قابض بھی رہے۔
کئی برس بعد اچانک یہ انکشاف ہوا کہ ایک فریق نے خفیہ طور پر ایک پرانی بنیاد پر اپنے حق سے زیادہ حصہ اپنے نام منتقل کروا لیا تھا، جس کی بنیاد ایک مبینہ وصیت کو بنایا گیا۔ دوسرے فریق کو اس کا علم بعد میں ہوا تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور اس اندراج کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔
مدعا علیہ نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ انتقال وصیت نہیں بلکہ کسی اور قانونی طریقے (تملیک) کے تحت ہوا تھا، جبکہ وقت گزر جانے، حدِ میعاد، اور دیگر قانونی اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔ تاہم ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ جو مؤقف تحریری جواب میں اختیار کیا گیا، وہ پیش کردہ ثبوتوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ مزید یہ کہ جس بنیادی دستاویز (وصیت) پر انحصار کیا گیا، وہ نہ تو عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی اس کو قانونی طور پر ثابت کیا جا سکا۔
عدالت نے اس اہم قانونی نکتے پر غور کیا کہ آیا کسی وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ابتدائی طور پر وصیت کی اجازت تھی، لیکن بعد ازاں قرآنِ مجید میں وراثت کے حصے مقرر ہونے اور نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کے بعد یہ اصول طے ہو گیا کہ کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے ایسی وصیت نہ صرف غیر مؤثر بلکہ اسلامی احکام کے بھی منافی ہے۔
مزید برآں عدالت نے یہ اصول بھی بیان کیا کہ وراثت کے معاملات میں ایک وارث کا قبضہ تمام ورثاء کے لیے تصور کیا جاتا ہے، اس لیے دعویٰ صرف اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت نہیں ہو سکتا کہ قبضہ طلب نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایسے معاملات میں حدِ میعاد کا اطلاق بھی مختلف انداز میں ہوتا ہے، خاص طور پر جب وراثتی حقوق متاثر ہو رہے ہوں۔
بالآخر عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ اندراج غیر قانونی، بے بنیاد اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ تاہم جہاں دعویٰ ثابت نہ ہو سکا، وہاں نچلی عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔ نتیجتاً متعلقہ جائیداد ورثاء میں قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ مقدمہ اس اصول کو مضبوطی سے واضح کرتا ہے کہ اسلامی قانونِ وراثت ایک حتمی اور غالب قانون ہے، اور اس کے برخلاف کوئی بھی وصیت یا اقدام قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
25/04/2026
کیا وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد بھی کیا جا سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ جس نے برسوں پرانے وہم ختم کر دیے!
Citation Name: 2025 PLD 581 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
MUHAMMAD HAFEEZ VS MUHAMMAD RAMZAN
عدالت کا حتمی فیصلہ: قانون خواب غفلت میں سونے والوں کے لیے نہیں ہے
لاہور ہائیکورٹ نے اس تاریخی فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ وراثت کا نام لے کر آپ دہائیوں پرانی رجسٹرڈ دستاویزات کو جب چاہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص کے بزرگوں نے اپنی زندگی میں کسی جائیداد کے انتقال یا گفٹ (ہبہ) کو چیلنج نہیں کیا، تو ان کی وفات کے بعد ان کے وارث محض وراثت کا سہارا لے کر "قانونِ میعاد" (Limitation) سے بچ نہیں سکتے۔ عدالت نے 34 سال کی تاخیر کے بعد دائر کیے گئے دعوے کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور یہ اصول واضح کیا کہ جہاں تیسرے فریق (Third Party) کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں، وہاں محض وراثت کی بنیاد پر سالوں کی خاموشی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیس کا پس منظر: 1981 سے 2015 تک کی قانونی جنگ
اس کیس کی بنیاد 1981 میں رکھے گئے ایک "رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ" پر تھی، جس کے ذریعے نانا نے زمین اپنے بیٹوں (ماموں) کے نام کر دی تھی۔ ان بیٹوں نے 1984 میں وہ زمین آگے دوسرے لوگوں کو بیچ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گفٹ دینے والے کی بیٹی (درخواست گزار کی والدہ) 2009 تک زندہ رہی لیکن اس نے اپنی زندگی میں کبھی اس گفٹ یا زمین کی فروخت کو چیلنج نہیں کیا۔ والدہ کی وفات کے 6 سال بعد، یعنی 2015 میں، اس کے بیٹے (نواسے) نے اچانک وراثت کا دعویٰ کر دیا کہ اسے حصہ نہیں ملا اور نانا کا وہ گفٹ جعلی تھا۔ ٹرائل کورٹ نے کیس چلانے کا کہا، لیکن ہائیکورٹ نے سول ریویژن میں اس کیس کو جڑ سے ختم کر دیا۔
اہم قانونی نکات: جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں
وراثت اور میعاد: ہر وراثت کے کیس میں "قانونِ میعاد" (Limitation) غیر متعلقہ نہیں ہوتی؛ حالات و واقعات دیکھنا ضروری ہیں۔
بزرگوں کی خاموشی: اگر مورث (والدین) نے اپنی زندگی میں کسی ٹرانزیکشن پر اعتراض نہیں کیا، تو اولاد کو اسے چیلنج کرنے کا حق محدود ہو جاتا ہے۔
تیسرے فریق کا تحفظ: جب جائیداد آگے فروخت ہو جائے اور خریداروں کے حقوق بن جائیں، تو سالوں بعد کا چیلنج "حقِ وراثت" کے نام پر قبول نہیں ہوگا۔
خواتین کے حقوق کے استثنیٰ: عدالت نے 5 ایسی صورتیں بتائیں جہاں میعاد اثر انداز نہیں ہوگی (مثلاً دھوکہ دہی، جائیداد سے آمدن ملتے رہنا، یا قبضہ برقرار ہونا)۔
دعوے کا وقت: وراثت کے نام پر قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا؛ حق کے لیے وقت پر عدالت آنا لازمی ہے۔
عوامی اثرات: یہ فیصلہ آپ کے لیے کیوں ضروری ہے؟
یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جائیداد کا جھگڑا "سو سال" بعد بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سے جائیداد کے خریداروں کو تحفظ ملے گا تاکہ وہ پرانے وراثت کے جھگڑوں سے بچ سکیں۔ عام عوام کو اب سمجھنا ہوگا کہ اگر وراثت میں حق نہیں ملا، تو فوری آواز اٹھائیں؛ سالوں کی خاموشی آپ کے قانونی حق کو "ویور" (Waiver) یا دستبرداری تصور کروا سکتی ہے۔
عدالتی حوالہ جات
موجودہ فیصلہ (خلاف): 2025 PLD 581 Lahore High Court (جس میں تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ خارج ہوا)۔
فیصلہ (حق میں): 1990 SCMR 1529 اور PLD 1990 SC 1 (جہاں ثابت شدہ دھوکہ دہی کی صورت میں خواتین کو ریلیف دیا گیا)۔
تلخ مگر سچی حقیقت
میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ ججمنٹ "لٹیگیشن کے کلچر" کو لگام ڈالنے کے لیے بہترین ہے۔ لوگ اکثر جائیداد کی قیمت بڑھنے پر دہائیوں پرانے گڑے مردے اکھاڑتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو "پراپرٹی بلیک میلنگ" کے لیے وراثت کا کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ انصاف ان کا حق ہے جو بیدار ہیں، ان کا نہیں جو حق ضائع ہونے کے 30 سال بعد جاگتے ہیں۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وراثت کا حق کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے، چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے؟ یا آپ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے متفق ہیں کہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ زیادہ ضروری ہے؟
:
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی جائیداد کا ریکارڈ کتنا پرانا اور درست ہے؟
کیا 34 سال بعد کسی دستخط کو چیلنج کرنا انصاف ہے یا زیادتی؟
کیا خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے بعد "میعاد" کا سہارا لینا اخلاقی طور پر درست ہے؟
اگر آپ کوئی زمین خریدیں اور 30 سال بعد کوئی وارث آ جائے، تو آپ پر کیا گزرے گی؟
اس فیصلے کے بعد، کیا آپ اپنے وراثتی معاملات کو فوری حل کرنے کی کوشش کریں گے؟
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں
Like & Share
#ریونیو Court
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Multan