A.Dansari Studio
اگر آپ کو ہمارے پیج کی پوسٹیں پسند آتی ہیں تو براہ مہربانی لائیک،کمنٹ اور شئیر ضرور کیا کریں۔شکریہ ❤️
12/08/2025
آج بدھ کا دن ہے اور اس وقت رات کے دس بج رہے ہیں۔ مجھے اچانک سے یاد آیا کہ آج کے پرچے کی روداد تو لکھی ہی نہیں۔۔۔
جیسے جیسے رمضان المبارک اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے میری مصروفیات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا۔ ایک کام ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا کام اپنی طرف بلا لیتا ہے۔
آج 19 مارچ کو میرا اردو کا پرچہ تھا۔ تیاری کے لیے مشکل سے دو تین گھنٹے ہی مل سکے تھے۔ معروضی یاد کی اور مختصر سوالات پر سرسری سی نظر ڈال لی تھی۔ باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
اردو شاید کہنے کو آسان زبان ہے مگر ہے نہیں۔۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ مجھے گرامر سے شناسائی نہیں ہے سو تبھی اردو کا پرچہ کچھ پریشان کر رہا تھا۔
آج بھی صبح اٹھ کر ایک گھنٹے تک ماڈل پیپر پڑھتا رہا پھر ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکل آیا۔ جب سینٹر پہنچا تو آٹھ بجکر پینتیس منٹ ہو چکے تھے۔ پانچ منٹ کھڑا رہنا پڑا پھر لسٹ لگ گئی۔ آج میرا رول نمبر لسٹ میں موجود تھا اور حسب معمول مجھے گیلری میں بیٹھنا تھا۔
نقل والا نگران آج پھر دور ایک کمرے کے سامنے کھڑا گیلری والے نگران کی منتیں کر رہا تھا کہ آپ نے میرے لڑکے کا خیال رکھنا ہے۔
اگر بندہ ایک ہفتہ بھی غور سے پڑھ لے تو پرچہ دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ اب میں محض ایک دو گھنٹہ پڑھ کر پرچے دے رہا ہوں اور اندازہ ہو جاتا ہے کہ رعایتی نمبروں سے زیادہ نمبرز ہی آئیں گے۔ ان شاءاللہ!
جب انسان پڑھے ہی نہ اور امتحان میں آ کر بیٹھ جائے یا پھر کسی نگران پر بھروسہ کرے تو پھر پاس ہونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
جوابی کاپی فِل کر ہی رہا تھا جب معروضی کا پرچہ تھما دیا گیا۔ میں نے نظر ڈالی تو دیکھا زیادہ تر جوابات میں ٹھیک لکھ سکتا ہوں۔ البتہ ایک گرامر والے سوال کی سمجھ نہیں آئی۔ خیر پورے پندرہ نہیں تو چودہ نمبر تو مل ہی جائیں گے۔
جیسے ہی معروضی کا پرچہ بیس منٹ بعد واپس لیتے ہیں تو اسی وقت سپرنٹینڈنٹ ببل شیٹ چیک کرتے ہیں اور زبردستی پورے پندرہ نشانات فِل کرواتے ہیں بھلے ٹھیک ہوں یا تکے سے۔۔۔
آج نگران نے سب کی کاپیاں چیک کیں، جب وہ میرے پاس آئے تو میں نے بھی دکھا دی۔ چودہ نشانات لگا چکا تھا اور ایک چھوڑ دیا تھا کہ بعد میں غور و خوض کے بعد اس کو فِل کروں گا۔
نگران نے کہا تم بڑے چالاک ہو۔ جس پر نشان نہیں اس پر انگلی رکھی ہوئی ہے۔ چلو جلدی سے اس کو بھی فل کرو۔
نادانستگی میں ایسا ہو گیا، میرے تو سان گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ایک خانے کو چھپانا ہے۔🙄
خیر میں نے اب انشائیہ کا پرچہ شروع کر لیا۔
ایک حصے میں سے پانچ سوالوں کے جوابات دینے تھے اور میں نے اوپر کی سطر پڑھے بغیر چھ سوالات کو نشان زد کر دیا کہ ان کے جواب لکھوں گا۔ پہلے ہر پرچے میں چھ ہی کا جواب لکھنا ہوتا تھا لیکن اس بار مختلف تھا۔ بعد میں غور کیا اور چھ کے بجائے پانچ سوالوں کے جواب لکھے۔
میرا اردو کا پرچہ تو اچھا ہوا کیوں کہ پورا ہی حل کیا تھا لیکن جلدی میں یا پھر نا سمجھی کی وجہ سے مجھے دو جگہ الفاظ کاٹ کر دوبارہ لکھنے پڑے اور مجھے امید ہے اس کے نمبر کٹ جائیں گے۔
نظم کے اشعار کی تشریح کے بعد غزل کے دو اشعار کی تشریح کرنا تھی اور پھر بقیہ پرچہ حصہ دوم تھا۔ غزلوں کے اشعار کی تشریح کرنا بھول گیا اور میں نے اگلے صفحے پر بڑا بڑا سا”حصہ دوم“ لکھ دیا۔
بعد میں غلطی کا احساس ہوا تو اس کو”حصہ غزل“ بنانے کی کوشش کی اور ”سوال نمبر ۳، جواب(الف)“ یہ سب بھی لکھ چکا تھا ان کو بھی کاٹ دیا۔
ایسا ہی کچھ پیراگراف کی تشریح کے وقت ہوا۔ اوپر والا مضمون سجاد حیدر یلدرم کا تھا اور جلدی میں، میں نے اس کی جگہ نیچے والے پیراگراف کے مصنف شفیع عقیل کا نام لکھ دیا پھر بعد میں اس کو کاٹنا پڑا۔
مجھے غصہ بھی آ رہا تھا کہ آج ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
اگر چیکر نے یہ غلطیاں پکڑ لیں تو پھر نمبرز کٹنا پکا ہے۔میرا اچھا خاصا پرچہ ضائع ہوگیا۔ 😕
خیر اب ایک آخری پرچہ مطالعہ پاکستان کا رہ گیا ہے جو پرسوں ہوگا۔ اس کی تیاری ابھی تک نہیں کی۔ کل چھٹی ہے اور میں سوچ رہا ہوں جتنے سوٹ آئے ہوئے ہیں سب کی کٹنگ کروں اور بازار سے ان کا سامان لا کر بکرم بھی چپکا دوں۔ یہ کام ہوا ہو تو بندہ رات کو بھی مشین پر بیٹھ کر کام کر سکتا ہے۔ پچیس مارچ سے نویں کے امتحانات شروع ہو جائیں گے پھر میرے لیے دونوں کاموں کو مینج کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ حق ہاہ!
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
10/08/2025
آخر کار مجھے آج کی روداد لکھنے کا وقت مل گیا۔
آج 17 مارچ ہے۔ میرا جنرل ریاضی کا پرچہ تھا۔ جنرل ریاضی اور انگریزی کی کتب میں نے نہیں پڑھیں تو ظاہر ہے تیاری بھی بالکل نہیں ہے لیکن سب یہی کہہ رہے تھے کہ آپ کو بیشک کچھ نہ آتا ہو مگر پرچہ ضرور دینے جانا اور جوابی کاپی پر جو سمجھ آئے لکھ آنا، انگریزی کا پرچہ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیا تھا اور آج بھی میں نے اتنے اعتماد سے پرچہ حل کیا جیسے مجھے سب کچھ آتا ہے۔
آس پاس بیٹھے طلبہ ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے اشارے کرنے اور اپنے پرچے ایک دوسرے کی طرف کرنے میں مشغول تھے اور مابدولت سر جھکائے پوری تند دہی سے کاغذ پر پین گھسیٹ رہے تھے۔ چھ+چھ+چھ+تین سوالات کے جوابات لکھنے میں ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تھا۔ معروضی کے نشانات بھی جو سمجھ آیا ویسے ہی لگائے تھے۔
صبح ساڑھے آٹھ بجے سینٹر پہنچ جاتا ہوں لیکن سوائے پہلے دن کے باقی سبھی پرچوں میں پندرہ منٹ تک مجھے ہال کے باہر کھڑا ہونا پڑا ہے۔ پونے نو بجے لسٹ لگتی ہے اس کے بعد طلبہ اپنی نشستوں پر بیٹھتے ہیں۔
دو پرچوں سے لسٹ میں میرا نام ہی نہیں آ رہا۔ یہ آرٹس والوں اور پرائیوٹ والوں سے کیسا سوتیلا برتاؤ کرتے ہیں نا؟
کمروں اور ہال کے بجائے زیادہ تر مجھے گیلری میں بیٹھنا پڑا اور لگتا ہے باقی پرچوں میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
جیسا کہ کچھ دن پہلے لکھا تھا اب کچھ چہروں سے آشنائی ہونے لگی ہے اور وہ بھی مجھے دیکھ کر حال احوال دریافت کرتے ہیں۔
جو سرائیکی طلبا ہیں ان سے انہی کی زبان میں گفتگو کرتا ہوں اور چند دنوں میں ہی میرا لہجہ رواں ہوگیا ہے۔ جب دکان پر کام کرتا تھا تو زیادہ تر وقت سرائیکی زبان بولنا پڑتی تھی اور اس وقت گھر میں بھی بعض دفعہ منہ سے اردو کے بجائے سرائیکی زبان کے الفاظ نکل آتے تھے۔
آج بھی نقل والے نگران دوسرے نگران کی منتیں کر رہے تھے کہ میرے فلاں بچے کی مدد کر دینا۔ دوسرے بندے نے کہا کہ سختی بہت زیادہ ہے میں اس کو پرچہ نہیں بتا سکتا۔
پہلے والا آہستہ سے بولا کہ چکر لگاتے ہوئے چپکے سے بتا دیا کرنا۔
اب پتا نہیں دوسرے نگران اس لڑکے کی مدد کر پائے یا نہیں۔۔۔
آج سپرنٹینڈنٹ صاحب بھی نئے تھے اور دوسرے ضلع سے آئے ہوئے تھے۔ پہلے والے شاید کسی وجہ سے چھٹی پر تھے۔ اللہ جانے۔۔۔
جوابی کاپی جمع کروا کر میں واپس گھر آ گیا۔
گھر میں عید کے لیے صفائی ستھرائی چل رہی ہے اور پورا گھر بکھرا پڑا۔ سامان ٹھکانے پر نہیں اور مجھے اپنی چیز جگہ پر نہ ملے تو شدید غصہ آتا ہے۔
سلائی کا کام بھی ساتھ ساتھ کر رہا ہوں کیوں کہ اب وقت مختصر ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ آج پرچے کے بعد اگلے پرچے کی تیاری کروں گا جو مبادیات تعلیم( ایجوکیشن)کا ہے لیکن پھر ایک سوٹ مکمل کیا اور ایک قمیص بھی بنا لی۔
درمیان میں جب بجلی جاتی تھی تو کتاب اٹھا کر سبق پڑھنے لگتا تھا۔
شام کو امی نے کہا دہی بھلے بنا دو۔ میں نے کہا اللہ میاں! میری اس نیکی کی بدولت کل کا پرچہ اچھا کروا دیجیے گا۔
اب کل دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
08/08/2025
الحمدللہ آج چوتھا پرچہ بھی ہو گیا ہے جو سوکس یعنی شہریت کا تھا۔
آج 13 مارچ ہے۔ دن ہے جمعرات کا اور سال چل رہا ہے دو ہزار پچیس۔۔۔
کل جب میں اسلامیات کا پرچہ حل کر رہا تھا تو نائب سپرنٹینڈنٹ نے مجھے کہا تھا کہ کل آپ نے ایک بجکر کر پینتیس منٹ پر فلاں بینک کے پاس پہنچ جانا ہے۔ وہیں سے آپ کا پرچہ اٹھائیں گے اور پھر ہم واپس سینٹر آ جائیں گے۔
مجھے فکر ہونے لگی کہ پتا نہیں یہ عجیب سچویشن کیونکر بن رہی ہے۔ سوکس کا پرچہ سیکنڈ ٹائم تھا۔ دسویں اور نویں کے یہ دونوں پرچے دوپہر کے وقت ہوئے تھے باقی سبھی صبح کے وقت۔
آج دوپہر میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ بینک پہنچ گیا۔ وہاں سپرنٹینڈنٹ صاحب آئے اور انھوں نے مجھے پہچان کر اپنی جانب بلایا پھر بولے کہ میں اندر سے پرچہ لے کر آ رہا ہوں پھر ہم واپس سکول جائیں گے۔
میں نے کہا جی ٹھیک ہے۔
وہ بینک کے اندر چلے گئے اور چند منٹوں بعد ایک لفافے کے ہمراہ باہر نکلے۔ اس کے بعد ہم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر امتحانی سینٹر پہنچ گئے۔
ہائی سکول بہت وسیع و عریض ہے۔ ایک طرف کھیل کے میدان ہیں اور دوسری طرف مختلف عمارتیں۔۔۔ یعنی برآمدے اور کمرے الگ الگ اور کہیں اکٹھے۔۔۔ کوئی کسی کونے میں اور کوئی کسی کونے میں۔۔۔ ہمارا جہاں سینٹر ہے وہاں ایک ہال ہے اور پھر ایک برآمدہ اور اطراف میں چند کمرے۔۔۔
آج وہاں ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ سر نے کہا کہ آج تو بس آپ اکیلے ہی پرچہ حل کریں گے۔
مجھے توقع تھی کہ شاید سیکنڈ ٹائم بھی طلبا پرچے دینے آئیں گے مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔
سر نے پہلے ایک کمرہ کھولا اور وہاں سے کچھ دفتری سامان نکالا۔۔۔
پھر ہم ہال میں آگئے۔ چھوٹے بھائی کو میں نے کہا کہ تم کچھ دیر باہر ہی انتظار کر لو پھر ہم اکٹھے واپس چلے جائیں گے۔
سر نے پہلے مجھ سے ایک پارسل کے لفافے پر دستخط لیے اور رول نمبر لکھوایا۔۔۔ پھر جوابی کاپی مجھے دے دی اور میں اس کو پُر کرنے لگا۔
ذرا دیر بعد نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب بھی آگئے اور مجھے دیکھ کر خوش ہوئے اور کہا کہ واہ واہ۔۔۔ آج تو ہم سب ایک بچے کے لیے ہال میں بیٹھیں گے۔😃
ذرا تصور کریں ایک بڑے سے سکول کے ایک بڑے ہال میں صرف ایک طالب علم بیٹھا پرچہ حل کر رہا ہو؟ اور سامنے دو افسران اور چند سکول ملازمین بیٹھے گپیں مار رہے ہوں۔
اب اس بات پر بھی حیران ہو جائیں کہ سوکس کی کتاب میں نے کل شام ہی مکمل پڑھی تھی۔ پہلے پہل تو میں بہت پریشان تھا کہ صبح پرچہ کیسے دے سکوں گا جب کہ پڑھا کچھ بھی نہیں ہے۔
پھر دل پر جبر کرکے سب سے پہلے معروضی یاد کی پھر سارے ابواب پڑھے اور موٹی موٹی چیزوں پر دو تین مرتبہ پھر سے نظر مار لی۔ جب رات سونے لگا تو کچھ حد تک مطمئن تھا کہ پرچہ حل کر سکوں گا۔
آج صبح کچھ دیر سوکس کی کتاب پڑھی پھر جنرل سائنس کی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا کیوں کہ اس کو بھی میں نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور کل اسی کا پرچہ ہوگا۔
جیسے جیسے پرچے کا وقت قریب آ رہا تھا میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اللہ کا شکر ہے پرچہ بہت اچھا ہوگیا۔ مجھے امید ہے پچھتر میں سے پچپن یا ساٹھ نمبر تو مل ہی جائیں گے۔ اللہ کرے۔🤗
لکھتے لکھتے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہو پایا تھا۔ اچانک دروازے کے سامنے چھوٹا بھائی آیا اور کہا مزید کتنا وقت ہے؟
نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب نے کہا کہ بھئی ایسا نہ کرو۔ بچے کو لکھنے دو۔
بھائی پھر گھومنے نکل گیا۔ دور گراؤنڈ میں بچے کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔
تفصیلی سوالات میں سے تین کے جوابات لکھنے تھے مگر مجھ سے صرف ایک ہی لکھا گیا۔ پاک بھارت تعلقات پر ۔۔۔
قائد اعظم کے چودہ نکات تو شاید ہر سال آتے ہیں اور مجھے بالکل یاد نہیں تھے سو نہیں لکھ پایا۔ باقی موضوعات بھی زیادہ مشکل تو نہیں تھے مگر مجھے اب یاد ہی نہیں آ رہا تھا۔ سوچا جتنا لکھ چکا ہوں یہ پاس کروانے کے لیے کافی ہے۔ میں نے کون سا ٹاپ کرنا ہے۔
جوابی کاپی سر کو دے کر ہال سے نکل آیا۔ چھوٹا بھائی غائب تھا۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو چند لمحوں بعد وہ آتا دکھائی دیا۔ ہم موٹر سائیکل پر بیٹھے اور واپس گھر آ گئے۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Multan