Ahl e sunnat media

Ahl e sunnat media

Share

یہ پیج بنانے کا مقصد صرف اور صرف قرآن و سنت کی اشاعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فہم کے مطابق!!

21/04/2026

قل خوانی، دسواں، بیسواں اور چالیسواں جیسی رسومات پر میت کا مال خرچ کرنے کے حوالے سے شرعی حکم درج ذیل نکات میں واضح کیا گیا ہے:
1. میت کے مال کی تقسیم کا اصول
اسلامی شریعت کے مطابق جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے، تو اس کے مال پر سب سے پہلے درج ذیل حقوق ہوتے ہیں:
کفن و دفن کے اخراجات۔
میت کے ذمے واجب الادا قرض کی ادائیگی۔
اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو (جو کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو)۔
باقی تمام مال ورثاء کا حق ہوتا ہے جو شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونا ضروری ہے۔
2. میت کے مال سے قل خوانی اور چالیسواں
علماء اور فقہاء کی اکثریت کے مطابق میت کے مال سے ان رسومات پر خرچ کرنا ناجائز اور گناہ ہے، خاص طور پر درج ذیل صورتوں میں:
یتیم کا مال: اگر ورثاء میں کوئی بھی نابالغ (یتیم) بچہ شامل ہو، تو اس کے حصے کے مال سے کھانا پکوانا یا ان رسومات پر ایک روپیہ بھی خرچ کرنا سخت حرام ہے۔ قرآن مجید میں یتیم کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ورثاء کی ناپسندیدگی: اگر تمام ورثاء بالغ ہوں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اس خرچ پر دل سے راضی نہ ہو، تب بھی میت کے مال سے یہ اخراجات کرنا جائز نہیں ہے۔
رسم و رواج: میت کا مال صدقہ و خیرات کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ برادری کو کھانا کھلانے یا دکھاوے کی محافل کے لیے۔
3. ایصالِ ثواب کا صحیح طریقہ
میت کو ثواب پہنچانا (ایصالِ ثواب) برحق ہے، لیکن اس کے لیے دن مقرر کرنا (جیسے تیسرا یا چالیسواں) اور میت کے مال سے ضیافتیں کرنا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے۔
بہتر طریقہ: میت کے مال سے اگر صدقہ کرنا ہے تو وہ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں یا کسی دینی مدرسے کو دیا جائے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو۔
بغیر مال کے ثواب: قرآن خوانی، تسبیحات اور دعا کے لیے کسی خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر والے یا رشتہ دار کسی بھی وقت انفرادی طور پر تلاوت کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچا سکتے ہیں۔
4. خلاصہ حکم
میت کے مال سے قل خوانی یا چالیسویں کا کھانا پکوانا ایک بدعت اور غیر شرعی عمل سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایصالِ ثواب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ذاتی حلال مال سے بغیر کسی نام و نمود کے غریبوں کی مدد کرے، نہ کہ میت کے اس مال سے جو اب اس کے یتیم بچوں یا بیوہ کا حق بن چکا ہے۔
کمنٹ میں اپنی رائے دیں

21/04/2026

اسلامی تعلیمات کے مطابق، جب کسی کے ہاں وفات ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ رشتہ دار اور ہمسائے میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں، کیونکہ وہ غم کی وجہ سے کھانا بنانے کی حالت میں نہیں ہوتے۔
​احادیثِ مبارکہ کے ارشادات
​اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنا:
جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
​"جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا معاملہ (غم) آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔" (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل سنت یہ ہے کہ دوسرے لوگ میت کے گھر کھانا بھیجیں۔
​میت کے گھر ضیافت کا حکم:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میت کے گھر جمع ہونے اور وہاں کھانا کھانے کو "نوحہ" (ممنوعہ ماتم) کا حصہ شمار کرتے تھے۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
​"ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کرتے تھے۔" (مسند احمد، ابن ماجہ)
​فقہی و اخلاقی پہلو
​رشتہ داروں کے لیے گنجائش: اگر کوئی مسافر ہو یا بہت دور سے آیا ہو اور وہاں کھانے کا کوئی اور انتظام نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت کھانے میں حرج نہیں، لیکن اسے میلہ یا ضیافت کی شکل دینا درست نہیں۔
​یتیم کا مال: اگر میت کے ورثاء میں یتیم بچے ہوں، تو ان کے مال سے کھانا تیار کرنا اور عام لوگوں کا اسے کھانا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔
​نمود و نمائش: میت کے گھر پر بڑے پیمانے پر دیگیں پکانا یا رسم و رواج کے طور پر کھانا کھلانا سنت کے خلاف اور ایک قسم کی بدعت شمار ہوتا ہے۔
​خلاصہ:
سنت یہ ہے کہ میت کے گھر والے کھانا نہ کھلائیں، بلکہ محلے دار اور قریبی عزیز ان کے گھر کھانا پہنچائیں۔ میت کے گھر جا کر اسے ضیافت سمجھ کر کھانا کھانا ناپسندیدہ عمل ہے۔

13/04/2026

قرآنِ کریم کی آیات میں من مانی تبدیلی ناقابلِ قبول ہے
قرآنِ مجید کی ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مقدس اور ناقابلِ تغیر ہے۔ حالیہ سامنے آنے والی ایک تصویر، جس میں خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کا بینر دکھایا گیا ہے، اس میں کلامِ الٰہی کی جس طرح توہین اور تحریف کی گئی ہے، وہ کسی بھی طور قابلِ برداشت نہیں ہے۔

بینر پر سورہ مریم کی آیات کو مسخ کر کے لکھا گیا ہے۔ جہاں قرآن میں حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے لیے "وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا" (جس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا) کے الفاظ ہیں، وہاں اپنی مرضی سے "وَيَوْمَ قُتِلْتَ" کے الفاظ شامل کر دیے گئے ہیں۔ کسی انسان کی عقیدت میں قرآن کے الفاظ کو بدل دینا صریحاً گمراہی اور بے ادبی ہے۔
سخت احتجاج اور سوالات:
مذہبی قیادت کی خاموشی: نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اس تقریب کے اسٹیج پر سراج الحق صاحب جیسے بزرگ سیاستدان اور دیگر جبہ و دستار والے علماء موجود تھے، لیکن کسی نے اس کھلی تحریف پر آواز نہیں اٹھائی۔ کیا سیاسی مصلحتیں اتنی غالب آگئی ہیں کہ قرآن کی حرمت کا پاس بھی نہیں رہا؟
عقیدت یا غلو؟ کسی بھی شخصیت کی قدر و منزلت اپنی جگہ، لیکن کیا اب شخصیات کو (معاذ اللہ) انبیاء کے برابر درجہ دے کر ان پر قرآنی آیات کو تبدیل کر کے چسپاں کیا جائے گا؟ یہ غلوِ فی الدین کی بدترین مثال ہے۔
انتظامیہ کا جرم: جامعہ عروۃ الوثقیٰ جیسے ادارے میں ایسی فاش غلطی کا ہونا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جسارت معلوم ہوتی ہے۔
مطالبہ:
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تقریب کے منتظمین اور وہاں موجود تمام مذہبی قیادت اس سنگین غلطی پر فی الفور توبہ کریں اور عوامی سطح پر اس کی وضاحت پیش کریں۔ کلامِ پاک کے ساتھ یہ کھلواڑ امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن کی حفاظت اللہ کا ذمہ ہے، لیکن اس کی حرمت کا پہرہ دینا ہمارا ایمانی فریضہ ہے۔

Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Multan
60000