I Love Pakistan Army

I Love Pakistan Army

Share

🇧🇫 All Pakistan PTI Youth 🇧🇫

09/04/2026

آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

29/03/2026

خلیجی ممالک کی “سرخ لکیر”؟
جنگ وجدل نے نہایت خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ جب اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ پارس (South Pars) کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کو جنگی اہداف سے آگے بڑھ کر اہم شہری اور معاشی تنصیبات پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر کے شہر رأس لفان (جو دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (LNG) برآمدی مرکز ہے) کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔ ان اقدامات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اب تنازع براہِ راست خلیجی توانائی نظام تک پہنچ چکا ہے۔
خلیجی حکمت عملی:
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اسی لیے وہ تاحال محتاط سفارتی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم، توانائی کے مراکز پر حملوں کو ایک “سرخ لکیر” قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ لیکن اپنی معاشی اور قومی سلامتی پر حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ اگر حملے جاری رہے تو فوجی ردعمل خارج از امکان نہیں۔ امریکا واسرائیل کی بھی یہی دیرینہ خواہش ہے۔
“یہ صرف جنگ نہیں، بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے”
کویتی تجزیہ کار زہیر العباد کے مطابق، ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ محض عسکری کارروائی نہیں، بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا ہے۔ اسرائیل خلیجی ممالک کو جنگ میں شامل کروانا چاہتا ہے۔ ایران کے خلیج پر حملے اسرائیل کو مداخلت کا جواز دے سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک اب تک دانشمندی سے اس جال میں پھنسنے سے بچ رہے ہیں۔
ایران کے لیے ممکنہ نقصان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران خلیجی ممالک کو نشانہ بناتا رہا تو وہ مستقبل کے اہم علاقائی شراکت دار کھو دے گا۔ جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں اسے مشکلات پیش آئیں گی اور خطے میں اس کی سفارتی تنہائی بڑھ سکتی ہے۔
سفارتی کوششیں:
خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور عمان، مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اب تک کئی اہم اقدامات کئے ہیں: جیسے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھانا، بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا اور دفاعی نظام کو مضبوط بنانا۔
ریاض میں 12 ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس میں مصر، اردن، ترکی، آذربائیجان اور پاکستان جیسے ممالک نے شرکت کی۔
قانونی پہلو: دفاع کا حق محفوظ
اجلاس کے اعلامیے میں ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، شہری تنصیبات، سفارتی مراکز اور توانائی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی گئی، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا گیا، یہ آرٹیکل کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، جسے ماہرین ممکنہ فوجی ردعمل کی قانونی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
خلیجی پیغام: صبر کی بھی حد ہوتی ہے
موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کا مؤقف واضح ہے: ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم سفارتی حل کے حامی ہیں، لیکن ہماری توانائی تنصیبات اور قومی مفادات پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ایران نے توانائی کے شعبے کو مسلسل نشانہ بنایا تو یہ ایک بڑی علاقائی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خلیجی ممالک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک طرف سفارت کاری، دوسری طرف دفاعی تیاری۔
لیکن اگر “سرخ لکیر” عبور ہوئی، تو یہ تنازع صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan
32200