Tooba Sajid
طوبی' ساجد
سر! پلیز، مجهے ایک بات بتائیے۔۔
وہ میرے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹهہ کر بڑے اعتماد سے بولی،
جو عورت پچهلے پانچ سال سے آپ کے ساتهہ ہے، اور آپ کے دو بچوں کی ماں بهی ہے، اس
میں اچانک ایسی کیا برائی ،کیا خرابی یاکمی واقع ہو گئی کہ آپ اس کی ساری محبتیں
خدمتیں اور قربانیاں بهلا کر، میری طرف مائل ہو گئے ؟
ایسا کچهہ بهی نہیں،
بات صرف اتنی سی ہے کہ مجهے تم سے محبت ہے.
اور آپ نے اس محبت کو ملکیت سمجهہ لیا، مجهے بتائے بغیر، مجهہ سے پوچهے بغیر۔۔
پوچهہ تو رہا ہوں، تم مان جاؤ، میں اسے چهوڑ دوں گا ،
یعنی آپ کی خوشی کی خاطر اپنے جیسی عورت کا گهر تباہ کر دوں، جو بالکل بے قصور ہے،
یہ جانتی بهی نہیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ،
مجهہ میں تو اتنی ہمت نہیں سر! وہ حتمی فیصلہ سنانے لگی، میں بے حد پریشان ہو گیا. سمجهہ میں نہیں آ رہا تها کہ اسے کیا کہوں، مجهے خاموش دیکهہ کر بولی
کیا سوچنے لگے سر ؟
سوچ رہا ہوں، رب کو منانا کتنا آسان ہے لیکن اس کے بندوں کو منانا کتنا مشکل .
پهر تو آپ جانتے ہیں کہ رب نارا ض بهی ہو جاتا ہے.
میں خاموش رہا تو میرے چہرے پر نظریں جما کر بڑے سکون سے بولی:
میرے رب کو وہ انسان سب سے زیادہ نا پسند ہے، جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالے،
یا ان کے بیچ نفرت پیدا کر کے ان کی علیحدگی کا سبب بنے،
کیا آپ چاہتے ہیں سر۔۔ کہ میں خدا کے ان ناپسندیدہ بندوں میں شامل ہو جاوں ؟
میں غور سے اسے دیکهنے لگا،
یہ کیسی محبت ہے آپ کی، جو مجهے میرے رب کے حضور شرمندہ کرنا چاہتی ہے ؟
میرے پاس اس کی کسی بات کا معقول جواب نہیں تها، میں بس اسے حاصل کرنا چاہتا تها، لیکن وہ کسی صورت راضی نہ تهی.
کچهہ عرصہ اسی کشمکش میں گزرا، پهر لاسٹ سمسٹر ہوئے اور وہ چلی گئی. جانے سے پہلے میرے پاس آئی اور بولی،
سوری سر! میں نے آپ کا دل دکهایا، محبت میں ہم کبهی کبهی اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ
قریب کے رشتوں کی کوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی، لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر تهے،
آپ کے ساتهہ بهی ایسا ہی ہو گا، میں چلی جاؤں گی تو آپ بهی نارمل ہو جائیں گے.
اس کے جانے کے بعد کافی عرصہ بے چینی میں گزرا، پهر میں نے اپنی پوسٹنگ دوسرے شہر کروا لی، ماحول بدلا، زندگی کی مصروفیات بڑهیں تو آهستہ آهستہ اس کی یاد میں کمی آنے لگی. آخر وہ وقت بهی آیا، کہ وہ ذهن کے پردے سے بالکل محو ہو گئی.
کافی عرصے بعد ایک تقریب میں نظر آئی، اسے دیکهہ کر ماضی یاد آگیا۔۔
میں اپنی احمقانہ محبت کی داستان اسے سنا کر زور زور سے ہنستا رہا، اپنی بیوقوفیوں
کے قصے دلچسپ انداز میں سنا کر خوش ہوتا رہا. اور وہ خاموشی سے سنتی رہی.
پهر پوچها سناؤ گهر بار کیسا ہے ؟ تو زور سے ہنس کر بولی،
گهر بار کیسا سر! اکیلی بڑے مزے میں ہوں،
مطلب ؟ میں حیران ہوا،
شادی نہیں کی تم نے ؟ ؟ میں نے سر سری انداز میں پوچها،
تو پهیکی سی مسکراہٹ لئے بولی،
کیا کرتی سر! آپ کے بعد کوئی اور اچها ہی نہیں لگا.
چائے کا کپ میرے ہاتهہ میں لرزنے لگا، احساس ندامت نے قوت گویائی چهین لی، ماضی آهستہ آهستہ زخم کریدنے لگا.
جسے بهولے ہوئے مجهے زمانہ گزر گیا، وہ آج بهی میری یاد کے ساتهہ رہ رہی تهی.
الفاظ حلق میں اٹکنے لگے۔۔ خود کو سنبهال کر بڑی مشکل سے کہہ پایا
مگر تم نے تو کبهی ------ میری بات کاٹ کر بڑے کرب سے بولی۔۔۔
جنہیں اللّٰہ کی رضا کی خاطر چهوڑتے ہیں، انہیں جذبوں کا احساس نہیں دلایا جاتا بس لاتعلقی کا گمان ہی کافی ہوتا ہے.
چائے چهلک کر میرے کپڑے داغدار کر گئی..............
نقل شدہ
اسلام آباد میں ورکنگ وومن سیمینار تھا جس میں اسلام آباد کی (خصوصاً اور باقی علاقوں کی عموماً) خواتین مدعو تھیں۔
روس کی دو خواتین جو اردو سیکھنے کی غرض سے اسلام آباد آئی ہوئی تھیں انہیں بھی تقریب کی شان بڑھانے کیلئے بلا لیا گیا۔
تقریب سے خطاب کے دوران خواتین نے روس کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے اس کا سہرا وہاں کی ورکنگ وومن کے سر پر رکھ دیا۔ خیر پھر روس کی خاتون کو بھی بات کرنے کا موقع دیا گیا۔
روسی خاتون نے روس کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہاں اٹھانوے فیصد خواتین گھر سے باہر نکلتی ہیں، اور شاید یہی ہماری ترقی کا راز بھی ہے۔
تمام ہال تالیوں کی آواز سے گونج گیا، پاکستانی خواتین تو ایسے خوش ہورہی تھیں کہ جیسے "ترقی" کا زینہ ہاتھ لگ گیا ہو۔
روسی خاتون نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، لیکن ابھی ہمارے پاس دو فیصد گھریلو خواتین ہیں اور مجھے فخر ہے کہ میں بھی ان دو فیصد خواتین میں سے ایک ہوں۔
اچانک تمام ہال پر سناتا چھا گیا۔
اس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "دراصل ہم نے معاشی لحاظ سے تو ترقی کرلی ہے جبکہ معاشرتی لحاظ سے ہمارا معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔ شراب نوشی، قتل و غارت، زنا بالجبر اور ڈاکہ زنی عام ہو چکی ہے۔ اور ایسا صرف اس لیے ہوا ہے کہ مائیں بچوں کی تربیت نہیں کر رہیں، بچے بچپن سے آزاد ماحول میں زندگی گزارتے ہیں جہاں انہیں کارٹون، گیمز اور تفریح کی دوسری چیزیں مہیا کی جاتی ہیں لیکن یہ چیزیں انہیں شدت پسند اور قانون کا باغی بنا دیتی ہیں۔
اب ہمارے معاشرے میں ان عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو گھروں میں رہتی ہیں اور بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔
وہ اور نہ جانے کیا کیا کہتی گئی لیکن سامنے بیٹھی عورتیں ایسے سن رہی تھیں جیسے ہم آپ اپنے ابو، امی یا بڑے بھائی کا پڑھائی کے بارے میں دیا گیا لیکچر سنتے ہیں۔
جس میں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں پڑھ لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گے، اور ہم ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔۔۔
27/08/2016
بلا عنوان...
عنوان آپ خود commentمیں دیں جزاک اللہ
اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
'' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ''
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ''
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ''
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ''
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ''
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ''
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر
ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ = ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺻﻔﺤﮧ = 59 ﺗﺎ 61
سبحان اللہ......
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan