Dilenadan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dilenadan, Sport & recreation, mehransparrow@yahoo. com, Multan.
بیوی کو شوہر سے کتنا جنسی لگاؤ ہوتا ہے
میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی نازک بھی ہے
عورتوں میں بہت کم ایسی عورتیں ہیں جن کو مرد سے صرف دولت کی طلب ہوتی ہے جبکہ بیوی اپنے شوہر سے قلبی لگاؤ اور محبت و عزت کی طلب گار ہوتی ہے ۔لیکن اس کے مقابلے میں شوہر ہمیشہ بیوی سے جنسی طور پر لذت حاصل کرنے کو زیادہ پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھے بغیر ازدواجی تعلقات بھی مسائل کا باعث بنتے ہیں
میاں اور بیوی میں ایک بڑا نازک اور اہم فرق یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے جسمانی و جنسی لگاﺅ کا خواہش مند توہو تا ہے لیکن صرف اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیےجبکہ بیوی کو اپنے شوہر سے جذباتی اور قلبی لگاﺅ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ نازک فرق میاں اور بیوی کے درمیان ناچاقی کا باعث بھی بن جا تاہے ۔ جو مرد اپنی بیویوں سے کم کم بولتے ہیں ۔ ان کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے ، ان کے لیے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اس بات پر خاص توجہ دیں کہ ان کی بیوی ان کی آواز سننے کے لیے بے تاب رہتی ہے ۔ حتیٰ کہ اگر دفتر سے ان کے شوہر کا فون آجائے اور انہیں ایک جملہ ہی سننے کو مل جائے تو گھنٹوں شوہر کی آواز ان کے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے ۔ شوہر کو چاہیے کہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آتے وقت چند جملے دل لگی اور چاہت کے انداز میں ضرور کریں تاکہ وہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کی باتوں کو سوچ کر خوش و خرم رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی پوائینٹس نوٹ کر لیں ۔
گھریلو اشیا ءکے تحفے
تحفہ دینا اور لینا یقینا محبت بڑھا تا ہے اور الفت پیدا کرتا ہے اور میاں بیوی کے درمیان تعلق میں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے لیکن تحفے کا انتخاب ہی اصل چیز ہے ۔ شوہر اپنی بیوی کو کوئی گھریلو چیز تحفے میں دے تو اس سے بیوی کو خاص دلچسپی نہیں ہوتی ۔ اس قسم کے تحفوں میں بیوی سے انس اور پیار و محبت کا عکس نظر نہیں آتا ۔ جب آپ اس قسم کا کوئی تحفہ اپنی بیوی کو دیتے ہیں تو بیوی پر یہ ظاہر ہو تاہے کہ آپ کو اپنی بیوی سے زیادہ اپنی پسند اور خواہش کی پرواہ ہے ۔ بیوی اپنے شوہر سے ایسا تحفہ چاہتی ہے جس سے یہ اظہار ہو کہ شوہر نے بیوی کی خواہش کا احترام کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اپنی بیوی کو اس کی پسند کی کوئی کتاب ، رسالہ یا اس کی پسند کے کپڑے اور جیولری کا تحفہ دینا بیوی کے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہوگا ۔ اس لیے شوہر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی پسند کو جانے اور پھر جان لینے کے بعد جب بھی موقع ملے ، چاہت سے پیش کر دے یقینا آپ کی بیوی جھوم اٹھے گی ۔یہاں پر ایک بات ضرور سوچیں کہ دنیا میں کہا جاتا ہے کہ بیوی کو خوش کرنا مشکل کام ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ بیوی کو خوش کرنا بہت آسان کام ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔کیونکہ اگر آپ اسے تحفے میں پیار کے دو بول ہی اپنی زبان دے ادا کر دیں گے تو وہ سارے دن کی تھکاوٹ کو ایک سائیڈ پر رکھ کر پھر سے آپ کی خدمت کرنے کے لیے تروتازہ ہو جائے گی جیسے کہ ایک گلاب کے پھول کو پانی دیا ہو۔
اولین ترجیح کی تمنا
یہ با ت ذہن میں رکھئیے کہ میاں اور بیوی کے حسد کی وجہ الگ الگ ہو تی ہے ۔ مثلا ًجنسی طور پر زیادہ فعال بیوی سے شوہر بدگمان ہو سکتا ہے ۔ جب کہ بیوی اس وقت کڑھتی ہے جب اس کا شوہر اس سے دور ہوتا ہے ۔ خواہ دوستوں میں بیٹھا ہو یا اخبار پڑھ رہا ہو ۔ ایک بیوی یہ محسوس کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پہلی ترجیح ہے ۔ آپ ایک شوہر ہیں اور یقینا آپ کی بیوی آپ کی اولین ترجیح ہے ۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ میری بیوی یہ جانتی ہے کہ وہ میری اولین ترجیح ہے ۔ لیکن جب آپ گھر سے باہر ہوتے ہیں تو آپ کی بیوی کئی قسم کے وسوسوں کا شکار ہو کر بعض اوقات اس شک میں مبتلا ہو سکتی ہے کہ شائد وہ آپ کی اولین پسند نہ ہو۔ یہی معاملہ اس وقت بھی پیش آسکتا ہے جب آپ گھر پر ہوتے ہوئے بھی بیوی پر بھر پو ر تو جہ نہ دے رہے ہو ں ۔ وہ ایسے میں خیا ل کر تی ہے کہ آپ اسے مسترد کر چکے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ جب آپ گھر پر ہوں تو اپنی بیوی پر بھرپور توجہ دیجئے ۔ اس کے کاموں کی تعریف کیجئے اور زیادہ سے زیادہ سے وقت اس کے ساتھ گزارئیے تاکہ آپ کی بیوی کسی بھی قسم کے وسوسے یا شکوک و شبہات میں مبتلا نا ہو سکے ۔کامیاب زندگی گزارنے کے لیے یہ ایک اہم اصول اور بنیادی نقطہ ہے ۔
بیوی کا ہا تھ بٹائیں
آپ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں ۔ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے بیوی کے ساتھ کام کاج میں شرکت مفید ہے ۔ وہ چا ہتی ہے کہ چھٹی کے دن اگر وہ سالن بنا رہی ہے تو آپ سلاد کاٹ لیں وہ برتنوں پر صابن لگا کر پانی سے دھو رہی ہے تو آپ یہ بر تن اٹھا کر الماری میں رکھتے جائیں ۔ بیوی کو اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے شوہر کو اپنے ساتھ گھریلو کام کاج کرتے دیکھتی ہے ۔ عام طور پر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ امور خانہ داری محض بیویوں کی ذمہ داری ہے اور وہ گھر میں کھانا کھانے ، اخبار پڑھنے اور صرف سونے آتے ہیں۔ سوچ کا یہ اندا ز بالکل غلط ہے ۔ گھر کی زندگی ایک جماعت اور ٹیم کی طر ح ہے۔ چنانچہ یہ گھریلو کام جس طرح عورت کی ذمہ داری ہے ، اسی طرح شوہر کی بھی ہیں ۔
یاد رکھئیے ! آپ کی بیوی آپ کو محض اپنا شریک حیات ہی تصور نہیں کرتی بلکہ وہ آپ کو اپنا شریک کار بھی بنانا چاہتی ہے۔ روزگار کے لیے گھر سے جانے سے پہلے اور آنے کے بعد ایک کونے میں پڑے رہنا یعنی بے اعتنائی والا رویہ ظاہر کرنا اور بیوی کو اپنے ذاتی کاموں کی فرمائشیں کر کے گھر یلو کام کاج میں بے وقت مخل ہوتے رہنا ، بیوی کو ہر گز پسند نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں مکان کو گھر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پیار محبت کے ساتھ وقت گزارہ جائے گھر والوں کو وقت دیا جائے ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے ان سے رائے لی جائے اور ایسے ہی ان کی رائے کو اہمیت دی جائے تا کہ انہیں بھی اس گھر کا فرد ہونے کا احساس ہو ۔۔
امید ہے آج کے آرٹیکل سے آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو مل سکے گا۔اگر میری کوئی غلطی ہو یا کوئی بات بری لگے تو اس کے لیے معزرت چاہتا ہوں۔
آخر پر ایک اور بات کہنا چاہوں گاکہ آج شوہر حضرات جب گھر جائیں تو جاتے ہی پہلے سب کو سلام کریں اس کے بعد اپنی اپنی بیوی کو دیکھیں کیا کر رہی ہے اگر وہ کچن میں مصرف بھی ہے تو اس کے پاس جا کر صرف اتنا کہ دیں کہ آج بہت پیاری لگ رہی ہو اور پھر چپ چاپ واپس آ جائیں۔۔۔۔آپ کے صرف اتنا کہنے پر ہی پھر جادو ہوتا محسوس کریں گے آپ کہ کس طرح پھر وہ آپ کے آگے پیچھے پھرتی نظر آئے گی صرف یہ جاننے کے لیے اللہ خیر ہی کرے پتا نہیں کس انسان نے میرے میاں صاحب کو یہ پٹی پڑھائی ہے۔خیر جب آپ یہ روزانہ کی روٹین بنا لیں گے تو پھر اسے یہ عجیب بھی نہیں لگے گا اور پھر آپ دونو ں میرے لیے دعائیں ضرور کرو گے۔
(یاد رکھیں شروع میں یہ کہا تھا میں نے کہ اپنی اپنی بیوی کو دیکھنا ہے کہیں پڑوسن کو نا دیکھنے لگ جانا) پھر کہیں ایسا نا ہو جائےکہ خود بھی جوتے کھاو اور مجھے بھی اپنے ساتھ بدنام کروا دو۔
اللہ آپ سب لمبی زندگی عطا کرے اور سب کو مشکلات سے نکال دے۔۔
آمین۔
18/09/2024
"____ سب سے درد ناک روانگی اُس شخص کی ہے،
جو میرے پاس سے تو چلا گیا مگر میرے اندر سے نہ جا سکا۔!" 🙂💔🥀
Sparoow. . .
💐
جب ایک انسان بہت سارے نامحرم سے باتیں کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور نامحرم سے دوستی لگا لیتا ہے تو پھر شادی کے بعد اسے اپنا ہمسفر صرف چند دن ہی اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔۔
پھر اس انسان کو اپنے ہمسفر سے بوریت محسوس ہونے لگتی ہے اور پھر انسان کو اپنی پرانی نامحرم سے دوستیاں یاد آتی ہیں اور وہ پھر اپنے ہمسفر کو دھوکہ دے کر ان ہی پرانی دوستیوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔۔۔
یہ بلکل حقیقت ہے کہ جو بھی شخص شادی سے پہلے بہت ساری دوستیاں لگا لیتا ہے تو پھر شادی کے بعد اسے صرف اپنے ہی شوہر یا اپنی ہی بیوی کے ساتھ ٹائم پاس کرنا ، باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔۔
زیادہ تر یہ بیماری مردوں میں لگی ہوئی ہوتی ہے لیکن اگر اس بیماری میں کوئی خاتون لگی ہوئی ہو تو اسے شادی کے بعد اپنا شوہر بلکل بھی اچھا نہیں لگتا ، کیونکہ شادی کے بعد بیوی شوہر کے ماتحت رہتی ہے اور شوہر بیوی پر غلط بات پر غصہ بھی کرتا ہے اور شوہر بیوی کے وہ نخرے نہیں اٹھاتے جو نامحرم دوست مزے لینے کے لیے اٹھا رہے ہوتے ہیں
تو بیوی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اپنے پرانے نامحرم دوست کو شوہر کی باتیں بتاتی ہیں
اور یہ نامحرم شخص اس خاتون سے بہت ہی زیادہ ہمدرد بن کر نرم اور اچھے مزاج کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔۔۔۔ ایسی ایسی میٹھی میٹھی باتیں کرتا کہ کہ عورت اسے اپنے شوہر سے زیادہ اپنے لیے ہمدرد سمجھ لیتی ہے ۔۔۔۔
حالانکہ یہ نامحرم مرد صرف مزے حاصل کرنے کے لیے اس شادی شدہ خاتون سے میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہوتا ہے اور اشارۃ یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔حالانکہ یہ پیار نہیں ہوتا ۔۔۔صرف گناہ کا مزا ہوتا ہے جسے شیطان پیار کی صورت میں عورت کو دکھا رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اور پھر اس گناہ کی نحوست سے بیوی کو اپنا شوہر بلکل بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔شوہر کی ہر بات بیوی کو زہر لگنے لگتی ہے۔۔۔اور پھر بیوی بس یہیں چاہتی ہے کہ شوہر گھر سے باہر زیادہ رہا کریں تاکہ میں اپنے ہمدرد آشنا سے باتیں کر سکوں
شاید میری اس تحریر پر خواتین یا مرد حضرات کو مجھ سے اختلاف ہو لیکن میں یہ بات وضاحت کر دوں کہ میری یہ باتیں سب کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کے لیے ہیں جو ایسے کرتے ہیں
آج ہی سے توبہ کرلیں
شادی ہوئی ہے یا نہیں کسی بھی نامحرم سے بات نہیں کرنی ۔۔
میرے نزدیک من پسند شخص وہ ہے
جس کو آپ دیکھیں تو آپکی رگ رگ میں سکون بھر جائے، جس کو دیکھیں تو دنیا کی کوئی شے آپکو دکھائی نہ دے، جسکو آپ دیکھیں دھڑکنیں تیز ہو جائیں
اور سانس سینے میں اٹک جائے
من پسند شخص وہ ہے
جو ' من کو بھائے اور پھر
کوئی اور نہ بھائے ❤️
Meari con ❤🌹
15/08/2024
ایک شوہر کے ہاتھوں میں ہوتا ہے کہ وہ جتنا چاہے بیوی
کو خوبصورت بنا سکتا ہے
۔
کیونکہ شوہر جتنے حسیں طریقے سے اسے دیکھے گا، بولے گا ،
اور سنے گا بیوی اتنی ہی حسیں ہوتی جائے گی.♥
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Mehransparrow@yahoo. Com
Multan
BORGETE