Aziz Law Consultancy

Aziz Law Consultancy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aziz Law Consultancy, Criminal lawyer, Multan.

05/07/2019

※※کڑواسچ※※ 2

تین دن بڑی مُشکل سے گزرے میں بہُت کنفیوز تھا پھر میں نے Dsp علی اکبر گجر سے اجازت لی کہ DIG کے پیش ھونا ھے اور حوصلہ کرکے آفس پُنہچ گیا
بذریعہ PA اطلاع بھجوائی مجھے انتظار کا کہا گیا کوئی تین چار گھنٹے بعد میری باری آئی پیش ھوا لیکن صاحب کے موڈ میں کوئی فرق نہ تھا بولے تمہاری حرکتیں ھمشہ سے غلط ھیں
مزید فرمایا کیونکہ ابھی تک تمہارے خلاف چارج شیٹ نہیں آئی تم انتظار کرو اور ایک ھفتہ بعد آنا

میں نے عرض کیا سر میری فیمیلی رحیم یار خان ھے مجھے لیو دے دیں مجھے یہاں بھی کوئی کام نہیں میری اور میری فیمیلی کی لائف کو تھریٹس ھیں میرے پاس کوئی گن مین نہیں کوئی اسلحہ نہیں مہربانی کریں
مجھے DIG صاحب کی آنکھوں میں تھوڑی سی ھمدردی نظر آئی اور بولے چلو ایک دن کے لیئے چلے جاو پر کسی کو پتہ نہ چلے کہ تم رحیم یار خان آئے ھو

ایک دن رخصت گزارنے کے بعد میں واپس بہاول پور آگیا راستے میں اپنے شہر احمد پور شرقیہ والدہ کے پاس گیا اُن سے دعا کروائی اور بہاول پور آگیا
اسی طرح ایک ھفتہ گزر گیا میں پھر DIG کے آفس گیا اُس دن صاحب کا موڈ کافی بہتر تھا مجھ سے پوچھا کیا ھوا تھا میں نے ساری کہانی سُنائی کہنے لگے چلو آپ کی چارج شیٹ آجائے پھر دیکھتے ھیں اور میں IG صاحب سے بھی بات کروں گا
پر مجھے یقین تھا کہ نہ DIG میں اتنی ھمت ھے کہ وہ IG سے بات کریں اور اگر وہ بات کر بھی لیں تو جو سلوک ھم نے اپنی آنکھوں سی IG جہانزیب برکی کے ساتھ شہباز شریف کا دیکھا تھا ایسا ممکن نہ تھا

اسی طرح ایک ماہ گزر گیا میں پھر DIG کے سامنے پیش ھوا اور وہ دن مجھے آج بھی یاد ھے جب میں نے اپنے DIG کی انکھوں میں بے بسی اور شرمندگی دیکھی

بولے میں نے اپنی پوری کوشش کی ھے مگر مہدی صاحب PS چیف منسٹر کوئی بات نہیں سُننا چاھتا تمہارے خلاف کوئی شکایت نہیں پر MPA تمہاری کہیں بھی پوسٹنگ نہیں ھونے دے گا کیونکہ تمہاری شکایت چیف منسٹر شہباز شریف کو ھوئی ھے اور اُس کو تم ھم سب اچھی طرح جانتے ھیں
ھمارے بس سے باھر ھے تم کوئی سیاسی سفارش کروا لو
میں حیرت سے اپنی رینج کے پولیس کمانڈر کی بے بسی کو دیکھ رھا تھا کُچھ عجیب سے جزبات تھے میرے
میں نے کہا سر آپ صرف اتنی مہربانی کر دیں مجھے دس دن رخصت دیں اور میرے رحیم یار خان جانے پر پابندی ختم کر دیں اگر میں دس دن میں کُچھ کر سکا تو ٹھیک ورنہ میں استعفیٰ دے دوں گا

دس دن رخصت بھی مل گی اور رحیم یار خان جانے کی اجازت بھی

اب مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ کیا کروں رحیم یار خان کے سارے سیاستدانوں میں جانتا تھا کہ کون کتنے پانی میں ھے کیونکہ MPA کافی جوان اور ھینڈ سم تھے اس لیے شریف فیمیلی میں خود کو کافی ان بتاتے تھے
اور پھر یہ سوچ بھی آتی تھی کہ جس سیاستدان نے میری سفارش کی اور پوسٹنگ کرا دی میں تو پھر ساری عمر اُس کا احسان ھی اُتارتا رھوں گا؟؟
دو دن گزر گے تو میرے دوست محمود بخاری اُن کے بھائی مظہر بخاری اور تصدق بخاری جو کہ MPA کے مخالف گروپ کے تھے ملنے آئے

اُنہیں سارا ماجرہ بتلایا دل نہیں چاھتا تھا مگر مجبوریاں انسان کا بعض دفعہ ضمیر بھی مار دیتی ھیں یا سُلا دیتی ھیں

بخاری صاحبان نے مشورہ دیا کہ یہ کام صرف MNA مخدوم عماد الدین ھی کر سکتے ھیں مگر اُن سے کام کروانا بہُت مشکل ھے بہت خودار ھیں اگر CM نے کام نہ کیا تو وہیں لڑائی شروع ھو جائے گی اور کام خراب ھو جائے گا

لیکن اگر اُن کے بڑے بھائی مخدوم مشرف صاحب اُنہیں کہی دیں تو پھر وہ انکار نہیں کر سکتے

میری مخدوم مشرف مرحوم سے پہلے بھی مُلاقات تھی انتہائی شریف اور ملنسار آدمی تھے دوستوں کے ھمراہ اں سے ملا سارا ماجرہ بتایا وہ بولے نیا خون ھے انہیں ھماری خاندانی روایات کا خیال رکھنا چاھیے تھا
امخدوم عماد کو ٹیلی فون کیا اور بولے کہ عزیز خان میرا بھائی ھے اس کے ساتھ زیادتی ھوئی ھے مجھے نہیں پتہ اس کا تبادلہ واپس کوٹ سمابہ کروائیں یا پارٹی چھوڑ دیں
مخدوم عماد صاحب نے ھمیں کہا کے لاھور آجائیں میں اور میرے دوست بخاری صاحبان بھی میرے ساتھ تھے

لاھور پُنہچ کر مخدوم صاحب سے ملاقات ھوئی CM کا پتہ کیا تو وہ تین دن کے لیے چائنہ گے ھوے تھے مخدوم صاحب نے ایک مہربانی کی کہ اپنے نام سے چمبا ھاوس میں ھمارے لیے رومز کروا دیے

تین دن بعد CM شہباز شریف واپس آگے جنہوں نے اپنے MNA کو دو دن بعد کا 7 کلب روڈ پہ وقت دیا اور MPA صاحب کو بھی پابند کیا گیا

مقررہ تاریخ پر ھم سب MNA صاحب کے ساتھ 7 کلب روڈ پُنہچ گے مخدوم صاحب کو اور MPA صاحب کو بلوایا گیا ھم لوگ باھر بیٹھے رھے
کافی دیر بعد مخدوم صاحب باھر آئے اور مبارک دی کہ MPA جھوٹا ثابت ھو گیا ھے اور شہباز شریف نے سیکریٹری کو کہا ھے کہ جو مخدوم صاحب کہتے ھیں کر دیں لیکن جب میں نے واپس کوٹ سمابہ تبادلہ کا بولا تو MPA صاحب نے میری منت کی کہ رحیم یارخان اور جس تھانہ پر لگا دیں پر میری عزت کُچھ رکھ لیں کوٹ سمابہ نہ لگوائیں
میں نے کہا سر کوئی بات نہیں میری MPA سے نہ کوئی ذاتی دشمنی ھے نہ مقابلہ

مجھے پتہ چلا کہ رانا سعید انسپکٹر مرحوم ایڈوانس کورس پر جا رھے ھیں اور تھانہ صدر رحیم یار خان خالی ھو رھا ھے میں نے رانا سعید کو کال کی اور اجازت مانگی جنہوں نے کہا کہ وہ کورس پر جا رھے ھیں آپ تبادلہ کروا لیں

یہ بات میں نے مخدوم صاحب کو بتا دی اگلے ھی لمحے DIG بہاولپور کو بذریعہ فیکس آرڈرز کیے گے کہ انسپکٹر کا تبادلہ بہاول پور سے رحیم یار خان کیا جائے اور SHO تھانہ صدر لگایا جائے
شام ھو چُکی تھی ھم مخدوم صاحب کا شکریہ ادا کر کے چمبا ھاوس پُنہچے اور واپس رحیم یار خان روانہ ھو گے

دوران سفر راستے میں مجھے رات دس بجے DIG کے دفتر سے کال آئی کہ DIG نے میرا تبادلہ رحیم یار خان اور SHO صدر کے آرڈر کر دیے ھیں

اور میں سوچ رھا تھا کہ یہ ھے وہ ڈپارٹمنٹ جس کی خاطر ھم اپنی جانیں قربان کرتے ھیں اپنی عیدیں بچوں کے بغیر گُزارتے ھیں راتوں کو جاگتے ھیں عزیز رشتہ دار ھم سے دور ھو گے
کیا یہی ھے وہ ڈپارٹمنٹ جس کے افسران بالا اپنے ماتحت کو نہیں بچا سکتے اور کہتے ھیں ھمارے بس سے باھر ھے

تو انہیں ھم پر حکم چلانے کا بھی کوئی اختیار نہیں ھے
ویسے بھی پولیس سیاستدانوں حکمرانوں کے در کی غلام بن چُکی ھے اس کو MNA,s اورMPA,s کے ماتحت کر دیں ھمارے لیے بھی آسانی اور افسران بالا کے لیے بھی آسانی جو حکمرانوں کے سامنے لمبے لیٹ جاتے ھیں

مجھے لگا تھا کہ نواز شریف حکومت اور زرداری حکومت میں ان حکمرانوں کا پولیس اور دیگر محکموں پر زیادہ اثرورسوخ تھا مگر اس حکومت نے سب سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ھیں
اُس دور میں پولیس صرف حکمرانوں کے در کی غلام تھی پر اب تو لونڈی ھو گی ھے جس کی سب سے بڑی مثال شیخ عمر DIG DPO پاکپتن اور DCO بہاول پور کا OSD بنانا ھے اللہ پاک ھم پہ اور اس مُلک پہ رحم فرمائے امین

عزیز اُللہ خان
ڈی ایس پی (ریٹائرڈ )
ایڈوکیٹ ملتان
03008689990

03/07/2019

بلا عنوان
ایک دن ایک لڑکی نے رات کو سوتے ھوئےاپنی ماں کو کہا کل ھمارے گھر سے ایک فرد کم ھو گا
سب گھر والے سو گے اگلی صُبح وہ لڑکی گھر سے غائب تھی تمام گھر والے بھائی باپ پریشان تھے کہ لڑکی کہاں گی پر لڑکی کی ماں مطمعن تھی اور بار بار کہہ رھی تھی میری بیٹی ولی تھی
اُسے پہلے علم تھا کہ ایک فرد گھر سے کم ھو گا
یہی حال آجکل ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ھے ھر وہ سیاستدان اور شخص جس نے کوئی حرکت فرمائی ھے اُسے یہی یقین ھے کہ اگلا نمبر اُس کا ھوگا
اور وہ خود کو مظلوم بنانے کا رانا ثنا اُللہ نے پہلے کہہ دیا تھا کہ میں مروا دیا جاوں گا یا گرفتار ھو جاوں گا کیونکہ رانا صاحب کا فرنٹ مین پکڑا ھوا تھا
یہی بیان شاھد خاقان عباسی ،احسن اقبال ، خواجہ آصف بلاول زرداری جیسے دیگر A ,Bاور C کلاس سیاستدان فرما رھے ھیں کہ وہ کل گرفتار ھو جائیں گے کیونکہ کُچھ تو ھے جس کی پردہ داری ھے؟؟

※※جناں کھادیاں گاجراں ڈھڈ اُناں دے پیڑ※※

عزیز خان
ایڈوکیٹ مُلتان

28/06/2019

※※میں بولوں کہ نہ بولوں※※

""فالواپ""

میرے ایک دوست ھیں جو بنک سے سینیر وائس پریزیڈنٹ ریٹائر ھوے ھیں یہ اُن کی کہانی ھے میرے یہ دوست بُہت پڑھے لکھے ھیں اور ان کی پوری زندگی ایمانداری اور ڈسپلن سے گزری ھے

کہانی کُچھ یوں ھے کہ مُلتان کے ایک بُہت بڑے وکیل صاحب کے بھائ کے جنازے میں میرے دوست شریک تھے جنازہ ختم ھوا تو پتہ چلا 8/10 لوگوں کی جیب سے قیمتی موبائل فون نکال لیے گے جن میں سے ایک میرے دوست بھی تھے فوری طور پر تھانہ شاہ رکن عالم فرنٹ ڈسک پر رپٹ درج کرائی گی جس پر اُنہیں ایک سلپ ھاتھ میں پکڑا دی گئ یہ مورخہ 11 اپریل 2019 کا وقوع ھی

میرے بنک مینیجر دوست کیونکہ پڑھے لکھے ھیں اور پوری زندگی آفس ورک میں گزری ھے کو لگا تین دن بعد دروازہ پہ بل بجے گی اور SHO مُسکراتے ھوے ان کا فون لیکر دروازے پر کھڑے ھوں گے

تین دن بعد تشویش ھوی تو تھانہ گے بڑی مُشکل سے SHO سے مُلاقات ھو ی کمال آدمی تھے SHO اُنہیں فرشتہ معلوم ھوے چائے پلائی گی اور فرمایا یہ تو مثلہ ھی کوئی نہیں جلد چور پکڑے جائیں گے

میرے دوست نے عرض کیا اگر FIR درج ھو جاتی تو اچھا ھو جاتا SHO مُسکراتے ھوے بولے آپ نے آم کھانا ھے یا پیڑ گننے ھیں تو کیونکہ میرے دوست کو آم پسند ھیں تو اُنہوں نے آم کا انتخاب ھی کیا

اسی دوران مسجد/جنازہ گاہ کے CCTV کی فوٹج مل گی جس میں صاف طور پر دو اشخاص لوگوں کی جیبوں سے موبائل فون نکالتے صاف نظر آرھے تھے فوری طور پر تمام تصاویر اور فوٹیج USB میں ڈال کر SHO کو دیے تو اُنہوں نے تمام چیزیں رکھ کر فرمایا
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

میرے دوست کو کسی نے بتلایا کہ اگر تصاویر نادرہ کو بھجوائی جائیں تو آپ کے چور پکڑے جا سکتے ھیں لیکن اس کے لیئے FIR ضروری ھے لیکن FIR تھی کہ ھونے کا نام ھی نہیں لے رھی تھی

میرے دوست کا یہ قیمتی فون اُن کے بیٹے نے انگلنڈ سے اُنہیں فادر ڈے پر تحفہ دیا تھا اس لیے وہ اپنے فون کو بھولنے پر بلکل تیار نہیں تھے

آخرکار مجبور ھو کے میرے پاس آئے اور ساری کہانی سُنائی کیونکہ اُنہیں معلوم تھا کہ مُلتان میری پوسٹنگ بھی رھی ھے اور میں IT کے بارے میں کُچھ بھی جانتا ھوں اور دوست کا دوست پہ حق بھی ھوتا ھے

میں بولا مثلہ ھی کوئی نہیں اور SHO صاحب کو فون کیا اُنہوں نے بڑے تپاک سے فون سُنا اور بولے سر جلدی چور پکڑ کے آپ کے دوست کا موبائل برآمد ھو جائے گا آپ کیوں اتنے لمبے چکر میں پڑتے ھیں کسی اور مقدمہ میں IMEI بھجوا کر ٹریس کروا لوں گا آپ تھوڑا ٹائم دے دیں

ایک ھفتہ بعد دوست کے یاد کروانے پر SHO کو کال کی تو اُنہوں نے فون Busy کر دیا مطلب وہ مصروف ھیں میرے دوست بولے بھائی اگر DSP صاحب کو فون کیا جائے تو FIR ھو سکتی ھے

چناچہ ھم نے DSP نیو مُلتان کا نمبر تلاش کیا DSP صاحب کے گن مین نے فون اٹینڈ کیا تعارف پر اُس نے تین چار منٹ بعد بات کروائی تو DSP صاحب نے فرمایا وہ میلہ بہاراں کے سلسلہ میں ڈیوٹی پر کھڑے ھیں دوست کو کل میرے آفس بھجوا دیں

تین دن بعد دوست کی کال آئی کے آج بڑی مُشکل سے DSP سے مُلاقات ھوئی ھے اور اُنہوں نے SHO کو کال کردی تھی اور جب میں SHO سے ملا تو وہ بہت ناراض ھوے اور بولے آپ نے میری شکایت کی ھے مزید بتلایا کہ جب میں نے DSP کو بولا کہ سر میں فالو اپ میں بہت مضبوط ھوں تو اُنہیں یہ بات سمجھ ھی نہ آئی اور بولے یہ کیا ھوتا ھے تو میں نے انہیں بتلایا کہ فالو اپ کیا ھوتا ھے اورکُچھ ھو جائے میں جان چھوڑنے والا نہیں

یہ ساری باتیں میرے لیئے بڑی توھین آمیز تھیں چناچہ میں نے اپنے ایک دوست SP کو فون کیا جن کی پوسٹنگ مُلتان میں ھے اور میرے بیج میٹ بھی ھیں اُنہیں ساری روداد سُنائی تو اُنہوں نے وعدہ فرمایا کہ مقدمہ درج ھو جائے گا آپ فکر نہ کریں میں نے بینکر دوست کو بتا دیا کہ فالو اپ جاری رکھیں

تقریباً دس دن بعد دوست کی کال آئی کہ وہ باقاعدگی سے SP صاحب کے دفتر جاتے رھے ھیں وہ بہت مصروف ھوتے ھیں وعدہ بھی فرماتے ھیں مگر FIR نہیں ھوئی آپ ایک دفعہ پھر فون کریں

میرے لیئے یہ بات پڑی تکلیف دہ تھی کہ ایک 379pp کی جائز FIR کا نہ ھونا؟؟

بڑے جرائم جیسے ڈکیٹی یا گھر کی بڑی چوری پر تو اکثر پولیس والے مقدمہ درج کرتے ھوئے ھچکچاتے ھیں پر عام چوری کا مقدمہ بھی درج نہ کرنا ایک سوالیہ نشان تھا

میں نے SP صاحب کو فون کیا تو اُنہوں نے معزرت کی اور بولے کہ SHO عجیب آدمی ھے میں نے دو دفعہ فون پر اُسے کہا بھی
ھے پتہ نہیں کیوں مقدمہ درج کیوں نہیں کر رھا

آخر کار ھماری کوششیں رنگ لائیں اور 7 مئی کو بل آخر Fir درج ھو گئی

اب اگلا مرحلہ نادرہ کے نام لیٹر لکھوانے کا تھا تفتیشی جو کہ کنسٹیبل سے Asi بنے تھے کو فون کر کے سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ لیٹر کےسے اور کہاں سے لکھوانا ھے مگر ان کی سمجھ میں کُچھ نہ آیا مجھے بھی ان کی گفتگو سے اُن کی قابلیت کا اندازہ ھو گیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں

SHO کیونکہ مدعی سے ناراض تھے اس لیے اُن سے بات کرنا بےسود تھا

پھر ھمیں اپنے SP دوست یاد آئے میں نے اُنہیں کال کیا اور اُن کے آفس ھائیکورٹ سے اُٹھ کر چلا گیا کیونکہ میں ایڈوکیٹ کی یونیفارم میں تھا پہلے تو مجھے پہچانے نہیں پھر پہچاننے پر بڑے تپاک سے ملے اُن کا شکریہ ادا کیا کہ میری عزت رکھ لی FIR دلوا کے

پھر اُنہیں عرض کیا ایک عدد لیٹر بنام نادرہ لکھوانا ھے اور اُنہیں بریف بھی کیا SP صاحب نے وعدہ فرمایا کہ تفتیشی کو بلوا کر یہ کام ھو جائے گا میرے دوست بڑے خوش تھے میں نے اُنہیں فالو اپ کی ھدایت کی

ھمارے ھاں روایت ھےکہ اگر کسی کا کام ھو جائے تو وہ دوبارہ فون نہیں کرتا میں بھی بھول گیا کہ بینکر دوست کا کام ھو گیا ھو گا

عید پر دوست کی کال آئی مبارک کے بعد میں نے کام کا پوچھا تو بُہت غمزدہ ھو کہ بولے میرے مُستقل فالو اپ کے باوجود ابھی تک لیٹر نہیں لکھا جا سکا دل کو دھچکہ لگا انتہائی شرمندگی محسوس ھوئی

میں نے فوری اپنے دوست SP کو فون کیا تو موصوف بڑی شرمندگی سے بولے حالات ایسے ھو گے تھے ماہ رمضان اور پھر عید ڈیوٹیاں آپ کا کام نہیں ھو سکا عید کے فوری بعد ھو جائے گا

عید کی چھٹیاں بھی گزر گیں SP صاحب کی کوئی کال نہیں آئی نہ ھی میں نے اُنہیں دوبارہ فون کیا عجیب سی بے بسی اور شرمندگی محسوس ھو رھی تھی

میرے بینکردوست کی کال آئی کہ ایک دفعہ پھر Sp کو فون کر لیں اب میرا دل بھی فون کرنے کو نہیں کر رھا تھا عجیب سی فیلنگ تھی

آخر کار دل کو مضبوط کرکے ایک عدد میسیج SP صاحب کو کیا اور شاید انہیں مُجھ پر ترس آگیا

شام کو مجھے میرے دوست کی کال آئی کہ مجھے تھانہ سے کال آئی ھے اور مجھے بلوایا ھے

اور پھر مورخہ 4جون 2019 کو آخرکار ایک ریٹائرڈ بنک آفیسر ایک ریٹائرڈ DSP کی محنت اور اللہ کے بعد جناب SP صاحب کی مہربانی سے Fir درج ھونے کے بعد ایک عدد لیٹر بنام نادرہ لکھا جا سکا

میں خود حیران ھوں کہ اتنے تعلقات اور اسی محکمہ میں اتنی سروس کے بعد یہ عزت ھے ایک سینیر سٹیزن کی تو ایک عام آدمی کے ساتھ کیا رویہ ھوتا ھے ان جیسے پولیس افسران کا ؟؟
شاید ھم سب کے لیے یہ لمحہ فکریہ ھے ؟؟
کیا ان سوالوں کا جواب ھے اور ان پولیس والوں کے خلاف کیا کاروائی ھو گی؟

فرنٹ ڈسک پر رپوٹ کے بعد FIR کیوں درج نہیں ھوئی ؟
جبکہ FIR پر تاریخ وقت وقوع 11 اپریل درج ھے اور وقت رپورٹ 7 میی درج ھے

ایک نالائق پولیس والے کو تفتیش دینا

SHO اور DSP کا مقدمہ درج نہ کرنا

کیونکہ ان کو کوئی پوچھتا نہیں اس لیے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا

اب آگے کیا ھوگا ؟؟

لیٹر کے جواب کے بعد ملزمان اگر ٹریس بھی ھو گے کون پکڑے گا اُنہیں ؟

اگر پکڑے بھی گے تو کیا عرفان علی Asi کی اتنی ھمت ھے کہ اُن سے برامدگی کر پائے گا یاکوئی سیاستدان یا پولیس ٹاوٹ ان کو چھڑوا لے گا

چالان کے بعد اتنی پیشیاں وکلا کی ھڑتال جج کی چھُٹیاں وکلا کی فیس جرائم پیشہ افراد کی دھمکیاں کیا میرا پڑھا لکھا بینکر بزرگ دوست کر پائے گا یہ سب ؟

یا اپنے فالو اپ سے توبہ کر لے گا؟؟

کہانی ختم نہیں ھوئی دوستو ابھی جاری ھے

عزیزاُللہ خان
ڈی ایس پی(ریٹائرڈ)
ایڈوکیٹ ھائیکورٹ مُلتان
03008689990

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan
66000