Mooltan Numismatics
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mooltan Numismatics, Library, Nishtar Hospital, Multan.
07/07/2023
مہا بھارت کے فارسی زبان میں ترجمے کا قلمی نسخہ۔ یہ نسخہ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ملتان میں لکھا گیا تھا۔
18/03/2022
ملتان کی مہم
جب ملتان میں مول راج کی بغاوت پھوٹی تو مسٹر Vans Agnew نے ایک خط بھیجا جو 21 اپریل 1848ء کو پولیٹکل ایجنٹ پیرابراہیم خان تک پہنچا۔ اس میں بغاوت اور کیپٹن اینڈ رسن کے زخمی ہونے کے متعلق بتایا گیا تھا اور درخواست کی گئی کہ توپ خانے اور رسد کے ہمراہ ایک دستہ ریاست کی طرف سے ملتان بھیجا جائے۔ 22 اپریل کو درستہ روانہ ہونے والا تھا کہ Vans Agnew کا ملازم یہ خبر لے کر پہنچا کہ کیپٹن اینڈرسن اور Agnew کو قتل کر دیا گیا تھا لہذا کوچ کا حکم واپس لے لیا گیا۔ 27 اپریل کونواب کو لاہور کے ریذیڈنٹ کی جانب سے پیغام ملا کہ کسی قابل کمانڈر کی زیر قیادت ایک طاقت ور دستہ ملتان روانہ کیا جائے اور 29 اپریل کو دوسرے پیغام میں کہا گیا کہ مول راج کی تمام جائداد ریاست سے منسلک کر دی جائے اور اس کے وکیل کو بہاولپور سے نکال دیا جائے۔ دریں اثنا مول راج نے بھاری معاوضے پر نئے آدمی بھرتی کرنے کی خاطر دو آدمیوں کو بہاولپور بھیجا تھا۔ ان آدمیوں کوریاست سے نکال دیا گیا۔ 17 مئی کو نواب کو لاہور میں اپنے وکیلوں سے خبرملی کہ ریذیڈنٹ کی خواہش ہے کہ بہاولپور کی افواج ستلج پار کریں اور امام الدین اور راجا شیر سنگھ کی مدد کریں۔ نواب نے جواب میں کہا کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ پھر نواب کو ریذیڈنٹ سے ایک اور پیغام آیا کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ اپنے قبضے میں رکھا جائے اور خبر دار کیا کہ اس کی فوج برطانوی فوج کے آجانے تک لوگوں کو تحفظ دینے، ربیع کا محصول جمع کرنے اور ملک کے عمومی امن کی ذمہ دار ہو گی۔ نواب سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ وہ ستلج میں چلنے والی کشتیاں اپنے قبضے میں لے لے۔ 25 مئی کولیفٹیننٹ ایڈ ورڈز نے درخواست کی کہ فوج کا ایک دستہ غلام علی خان خاکوانی کی مدد کے لیے کورٹ کموں بھیجنا چاہیے جس نے دیوان مول راج کے خلاف علم بلند کیا تھا۔ اس نے لکھا کہ باغی لیہ پر حملے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور دریائے سندھ پار کر کے ڈیرہ اسمعیل خان پر دھاوا بولنے والے تھے۔ اس کا تدارک کرنے کی خاطر اس نے نواب سے کہا کہ اپنی فوج دریا کے پار ملتان بھیجے تا کہ دیوان لیہ کے متعلق اپنے منصوبے ترک کرنے پرمجبور ہو جائے۔ چند دن بعد ایڈورڈ نے نواب کو (جسے لاہور کے ریذیڈنٹ نے کہا تھا کہ وہ ستلج میں موجود فیریز سے لے کر ملتان کے بھاٹکوں تک سارے ملک کے لیے زمہ دار تھا) بتایا کہ بہتر ہوگا اگر وہ جلالپور فیری عبور کر کے براست شجاع آباد ملتان کی طرف بڑھے بشرطیکہ اس کے خیال میں یہ حرکت دیوان کو ہربھگوان (جو ڈیرہ غازی خان کے لیے خطرہ بنا ہوا تھا) کو واپس بلانے پرمجبور کر دے گی وگرنہ نواب کو چاہیے کہ خان گڑھ کے مقام پر دمروالا فیری کو پار کرے اور اس کے ساتھ آن ملے۔ نواب نے شجاع آباد کی طرف بڑھنا بہتر خیال کیا۔ اس نے ریاست میں فریز کے ذریعے سے ملتان کی طرف اسلحہ، پانی وغیرہ بھیجے جانے کا بھی تدارک کر دیا اور کوٹلی عادل میں 500 گھوڑ سوار اور 100 پیدل سپاہی تعینات کیے تا کہ اسے دیوان کے افسروں کی دست درازیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ 27 مئی کو مقامی ایجنٹ پیر ابراہیم خان نے ریذیڈنٹ کے حکم پر نواب سے درخواست کی کہ ملتان کی تسخیر کے لیے ایک دستہ بجھوائے۔ 28 مئی کو دو رجمنٹیں، 200 کیولری اور 5000 جاگیردار لیویز 9 توپوں اور 100 بارود کی دیگنوں کے ساتھ فتح محمد خان غوری کی زیر قیادت احمد پور سے کوچ کر گئیں۔ 31 مئی کو جل پور سے گزر کر 2 جون کو بلوچاں اور 3 کوجلالپور سعادت والا پہنچی۔ اس کی روانگی کی خبرلیفٹینٹ ایڈ ورڈز کوبھجوائی گئی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ پندرہ سو آدمی معزالدین کی زیر قیادت سیت پور بھیجے گئے تھے اور جھارکنڈ مل کی زیر قیادت 400 سردار واہ نالہ کی جانب بھجوائے گئے تھے تا کہ ان علاقوں میں امن یقینی بنایا جا سکے۔ 31 مئی کو ریذیڈنٹ کی جانب سے موصول ہونے خط میں اس سے کہا گیا کہ ملتان میں مول راج کا محاصرہ کرے۔ جب معزالدین اور دین محمد شاہ کی زیر قیادت فوج على پور پہنچی تو مول راج کا ڈپٹی جواہر مل حیران رہ گیا۔ وہ 100 گھوڑ سواروں اور 100 پیدل سپاہیوں کے ساتھ محصول جمع کرنے میں مشغول تھا۔ نتیجتاً ہونے والی لڑائی میں جواہر مل کو شکست ہوئی اور 100 آدمی مارے گئے اور وہ بقیہ کے ساتھ بھاگ گیا۔ اب لاہور سے موصولہ ہدایات کی روشنی میں تہیہ کیا گیا کہ بہاولپور کی فوج شجاع آباد کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ایڈورڈز کے لیویز سے مل جائے۔ چنانچہ 12 جون کوفوج نے فتح محمد خان کی زیر قیادت گوبن کی طرف مارچ کیا۔ ایڈورڈز بھی اس جگہ پر پہنچا جہاں اس کی درخواست پر نواب نے لیویز کو چناب پار کروانے کے لیے کشتیاں فراہم کی تھیں اور پھر وہاں سے خان گڑھ روانہ ہوا۔ یہاں اس نے 14 جون کولکھا کہ وہ بہاولپور کی فوج سے ملنے کے لیے بڑھ رہا تھا اور یہ کہ اسے خبر ملی کی کہ مول راج ریاست کی افواج اس کے ساتھ ملنے سے پہلے ہی ان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ چنانچہ ریاستی دستوں نے 17 جون کو بسوری میں مورچے بنا لیے۔ دریں اثنا ایڈورڈز خان گڑھ میں جزل Van Cortlandt کے پہنچنے کا منتظر تھا۔ 18 جون کو افواج نے گھیاں والا فیری نزد کنبیری کی طرف پیش قدمی کی تا کہ قریب آ چکے دشمن کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ایڈورڈز کے لیویز کی تعداد دو ہزار گھوڑ سوار اور پیدل تھے اور اس کی مدد کے لیے بھیجی کئی بہاولپوری افواج کی کل تعداد 7129 انفنڑی، 2449 کیولری، 14 ہارس آرٹلری اور 108 اونٹ سوار تھے۔ اس کے بعد ریاستی افواج نے ردان نزد بسوری کی طرف مارچ کیا جس پر مول راج کی فوج کنبیری سے نونار کی طرف بڑھی اور ان پر حملہ کر دیا لیکن وہ بہادری اور استقامت سے لڑے جب ایڈورز بھی پہنچ گیا اور ان کے حالات دیکھ کر Van Cortlandt سے 6 توپوں اور ریگولر انفنٹری کی دو رجمنٹوں کا ایک دستہ لیا اور لڑائی میں شریک ہو گیا۔ یہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہنے والے ایک حملے کے بعد دشمن نے پسپائی اختیار کی۔ ریاستی لیویز نے 6 توپیں اپنے قبضے میں لیں جبکہ ایڈورڈز نے دو توپوں اور رسد کی کافی مقدار پر قبضہ کیا۔ ریاستی افواج کے 34 گھوڑ سوار اور 14 پیدل سپاہی مارے گئے۔ 19 جون کو Van Cortlandt نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کرجنکشن بنایا اور ایڈورڈز کے حکم پر بہاولپور کی فوج نونار سے شجاع آباد کے تین میل اندر تک پہنچ گئی۔ ایڈورڈز 20 جون کو ان کے پڑاؤ میں پہنچا۔ اس نے پیر ابراہیم خان اور فتح محمد خان کو قلعے پر حملہ کرنے کی ہدایت کی لیکن ہندو مکھیے اور چودھری ایڈورڈز اور پیر ابراہیم کے نام درخواستیں لے کر آئے جن میں غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینکنے کی پیش کش کی گئی۔ چنانچہ شہر پر قبضہ کر کے فوج تعینات کر دی گئی۔ 2 جون کو ایڈرورڈز اور Van Cortlandt بقیہ ریاستی افواج کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ 26 جون کو اتحادی افواج نے سکندر آباد کی طرف مارچ کیا جہاں دشمن فوج کا چھوٹا سا دستہ تعینات تھا، لیکن انہوں نے سر تسلیم خم کر لیا اور وہ مقام بلا مدافعت قبضے میں آ گیا۔ اگلے روز افواج ادھی والا پہنچیں اور 27 جون کو سورج کنڈ ۔ یہاں 28 جون کو لیفٹیننٹ لیک بطور پولیٹکل ایجنٹ ریاستی فوج سے ملا۔ اس نے 26 جون کو احمد پور میں نواب سے ملا قا ت کی تھی۔ 29 جون کو اتحادی کایان پور اور یکم جولائی کو عربی پنچے۔ دوپہر کے وقت مول راج ان پر حملہ کرنے کے لیے ملتان سے باہر فیض باغ میں آیا لیکن کانٹے دار مقابلے کے بعد اسے واپس دھکیل دیا گیا اور قلعے میں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ چند سپاہی اس کے ساتھ تھے جنہوں نے سدوحسام میں درختوں کے پیچھے مورچے بنا رکھے تھے۔ معرکے میں 2 توپیں اور 30 قیدی ہاتھ لگے اور ریاستی افواج میک فرسن سے محروم ہوئیں، اس کے 14 آدمی کام آئے اور 4 زخمی ہوئے۔ اتحادی فوج 2 جولائی کو حامد شاہ باغ کی طرف بڑھی۔ 26 تاریخ کو باغی ولی محمد کے قریب پہنچے تاکہ ان کی پانی کی فراہمی منقطع کی جا سکے لیکن بہاولپوری افواج اور ایڈورڈز کی فوج کے ایک جھن آموہانے کھودڈالے اور چناب سے پانی ایک نالے میں لائے جو ان کے پڑاو کے قریب سے گزرتا تھا۔ یکم ستمبر کو لیک اور ایڈورڈز سورج کنڈ سے باغ کٹا بیراگی چلے گئے اور جب دشمن نے جوگ مایا سے گولہ باری شروع کی تو بہاولپور افواج نے لیک کی زیر قیادت اس مقام کو بھی نشانہ بنایا اور دشمن شیدی لال ٹیلے پر پیچھے ہٹ گیا۔ ریاستی افواج کی 11ہلاکتیں ہوئیں اور 25 زخمی ہوئے۔ لیک نے ان کے طرزعمل کو ناجائز طور پر بہت سراہا ۔ 12 ستمبر کو لیک نے اتحادی افواج کے ہمراہ اوکھارا گوپال داس پر عمل کر کے سکھوں کو شکست دی جن کے 800 آدمی مارے گئے۔ لیک اس لڑائی میں خود بھی زخمی ہوا۔ اس کے بعد 3 اکتوبر تک غیر مسلسل لڑائی جاری رہی۔ لیک نے محاصرے میں خدمات پیش کرنے پر ہر بہاولپوری توپچی کو ایک سو روپے کا انعام دیا۔ 7 اکتوبر کو مول راج اور شیر سنگھ نے 18 توپیں جوگ مایا کے قریب نصب کیں اور اتحادی ولی محمد نہر مورچہ زن ہو گئے اور حملہ آوروں کو بھگایا۔ کٹا بیراگی پر حملے کی ایک اور کوشش 31 اکتوبر کو ناکام بنائی گئی اور یکم تا 5 نومبر تک مختلف مقامات پرحملوں کو روزانہ نا کام بنایا گیا۔ 6 نومبرکولیک کی زیر قیادت ریاستی افواج پر ایک بہادرانہ یلغار کی گئی مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔ یکم سے 6 نومبر تک ان کے نقصانات صرف 2 ہلاک اور 15 زخمی تھے۔ 7 نومبر کو جنرل whish نے دو ہزر آدمی منتخب کیے جن میں نصف بہاولپوری فوج کے اور نصف ایڈورڈز کے لیویز سے تا کہ دشمن کے مورچوں پر حملہ کیا جا سکے لیکن Van Cortlandt کی زیر قیادت سپاہیوں کی چار کمپنیوں نے بغاوت کر دی اور امام الدین اور ایک بہاولپوری رجمنٹ پر دھاوا بولا۔ اگرچہ باغیوں کو جلد ہی منتشر کر دیا گیا لیکن کافی گڑ بڑ پیدا ہوئی۔ بایں ہمہ لیک ریاستی افواج کی مدد سے دشمن کے مورچوں کوتباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس روز ان کے 5 آدمی ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔ 20 جنوری تک ملتان قلعے کے آس پاس لڑائی جاری رہی۔ آخر کار مول راج نے مزید مدافعت بیکارخیال کر کے جزل Whish کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ 8 نومبر سے لے کر مہم کے اختتام تک ریاستی افواج کے کل 24 آدمی مارے گئے اور 2 زخمی ہوئے۔ 29 جنوری کو لیک نے بہاولپور کمانڈرنٹ کو ایک طلائی کڑا، ایک موتیوں کا ہار اور بیش قیمت تلوار پیش کی۔ جنوری 1851ء میں چیمبرلین نے بورڈ آف ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 49 افسروں کو انعامات دیے۔ نواب کی خدمات کے اعتراف میں لارڈ ڈلہوزی نے نواب محمد بہاول خان سوم کے لیے تا حیات ایک لاکھ روپے سالانہ وظیفہ جاری کیا اور نواب کے علاقے اور اس کی فوج کی خدمات کے لیے آٹھ لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
(https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D9%88%D9%85)
20/04/2021
MEHRGARH (مہرگڑھ)
Mehrgarh is located near the Bolan Pass, to the west of the Indus River valley and between the present-day Pakistani cities of Quetta, Kalat and Sibi.
Period I
7000 B.C.E.– 5500 B.C.E.
It was Neolithic and aceramic (that is, without the use of pottery)
Mehrgarh Period II and Period III
5500 B.C.E.– 4800 B.C.E. & 4800 B.C.E.– 3500 B.C.E.
These were ceramic Neolithic (that is, pottery was now in use)
MEHRGARH POTTERY
Photo courtesy My daughter Shayan Sajjad
19/07/2020
Ancient Bronze animal head
21/06/2020
Ancient Stone seal
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Website
Address
Nishtar Hospital
Multan
60000