M USAMA Shayan
Do The Right Fear No Man
18/01/2021
18 جنوری 1955 کو محض 42 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوجانے والے عظیم افسانہ نگار کی آج 66ویں برسی ہے۔
اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے، جن کی زندگی تو تمام ہوگئی مگر ان کے قلم کی سیاہی کبھی ختم نہ ہوئی اور وہ تب تک افسانے لکھتے رہے جب تک انہوں نے اپنے بستر پر ہی ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند نہ کیں۔
منٹو آج بھی بہت سے لوگوں کے ناپسندیدہ افسانہ نگار ہونے کے باوجود وہ بہت سوں کے پسندیدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔
لیکن ان حضرات کے بارے میں کیا کہا جائے جو ہمیشہ منٹو کے پڑھنے والوں کو یہی تاکید کرتے رہتے ہیں کہ "بچوں کو منٹو کی کہانیوں سے دور رکھیں"، مگر وہ خود ان کے افسانے چھپ چھپ کر پڑھتے رہتے ہیں، اور ان کے افسانوں میں جنسی لذت کا پہلو تلاش کرتے ہوئے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔
شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ "مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہا جاتا ہے، میرا مقام کیا ہے، میرا اپنا مصرف کیا ہے؟"
سعادت حسن منٹو کو 14 اگست 2012 کو بعد از مرگ نشانِ امتیاز سے نوازا گیا.
10/12/2020
#ہاۓ
26/10/2020
Tag your friends
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
65900