Aijaz Rao frnds

Aijaz Rao frnds

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aijaz Rao frnds, Library, Okara.

17/09/2020

#حدتِ_عشق


" آتشِ عشق یہ عبادت ہے,
زہد و تقویٰ کی راہ سے آگے,
خالی کشکول ہیں جدھر دیکھو,
آنکھ اشکوں سے خون ہو بیٹھی,
بن جلے راہ عشق میں نہ ملیں,
وصلِ محبوب کا تقاضہ ہے,
خاک ہو, خون ہو, فنا ہوجا,
عشق ہستی ہے ذات سے آگے۔"
( از صالحہ منصوری ) آنکھیں بند کئے وہ زیر لب جملے ادا کر رہا تھا جیسے ان الفاظ میں اپنا سکون ڈھونڈ رہا ہو۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس, عمامہ بازو میں رکھے, خوبرو سا دکھنے والا وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ یسین تھا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں سمندر سی گہرائی کی جھلک تھی۔ باتوں میں پختگی اور چہرے پر اکثر سنجیدگی طاری رہتی۔ اپنے گروہ کا سب سے طاقتور اور ظاہری, باطنی تمام خوبیوں سے مالا مال جن۔
ہاں وہ جن تھا۔۔ ابنِ آتش۔۔ جس کی اہلیت و شہرت نہ صرف اس کے اپنے گروہ بلکہ کئی سارے گروہوں میں پھیل چکی تھی۔ جس کی زبان سے نکلا ہوا لفظ حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ وہ خاصوں میں خاص تھا اور کیوں نہ ہوتا وہ گروہ کے سردار محمود کا اکلوتا بیٹا تھا۔
آج وہ اکیلے سیر و تفریح کی خاطر لوگوں کے ہجوم سے دور نکل آیا تھا۔ اس نے ایک ویران جگہ پر موجود درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھنا مناسب سمجھا۔ ابھی اسے کچھ دیر ہی گزری تھی جب کسی انسان کے دوڑنے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں اور ارد گرد دیکھا تو اسے ایک لڑکی دکھائی دی۔ عبایا میں ملبوس, نوس پیس کندھے پر حمائل کیے چھوٹے سے بیگ کی اسٹریپ پر باندھے, وہ روتی ہوئی دوڑ رہی تھی۔ اپنے حال سے بےخبر وہ لڑکی یسین سے کچھ فاصلے پر آکر رک گئی۔ یسین کی نظر اس کے پاؤں پر گئی جو برہنہ تھے اور اس سفید خوبصورت پاؤں پر صرف انگلیوں پر موجود مہندی کا رنگ بہت بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ اس کی نظر لڑکی کے چہرے پر گئی۔ سرخ و سفید چہرہ مسلسل رونے سے گلابی مائل ہو چکا تھا۔ اس کی آنکھیں گرے رنگ کی تھیں اور ہونٹ قدرتی طور پر ہلکے زرد سے تھے۔۔ وہ لڑکی اب روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بلک بلک کر رونے لگی۔ اس کی آہیں یسین کے دل کو بےچین کرنے لگیں مگر وہ اسے نہیں دیکھ سکتی تھی کیوں کہ یسین نے خود کو اس کی نظروں سے اوجھل کر رکھا تھا۔

" اللہ۔" بالآخر اس لڑکی نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ " انت تدری من حبیبی, ( تو جانتا ہے کہ میرا محبوب کون ہے۔)
من حبیبی انت تدری, ( کون ہے میرا محبوب تو جانتا ہے۔)
قد کتمت حب حتی, ( میں نے اپنی محبت کو چھپایا۔)
ضاق بالکتمان صدری۔ ( یہاں تک کہ اس کی راز داری سے میرا سینہ تنگ ہو گیا۔)" وہ روتی جاتی اور کہتی جاتی جب کہ یسین خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کس محبت کی بات کر رہی تھی۔؟ اسے علم نہ تھا لیکن لڑکی کے اگلے جملے نے یہ عقدہ بھی کھول دیا۔

" مجھے کچھ نہیں چاہیے اللہ, مجھے صرف تو چاہیے, مجھے اپنی محبت کے ایک ذرّے سے نواز دے الٰہی, مجھے اس دنیا اور اس دنیا کے لوگوں سے وحشت ہوتی ہے۔ مجھے لوگوں کی نہیں صرف تیری ضرورت ہے۔ اے معاون حقیقی تو میرا معبود ہے مجھے اکیلے نہ چھوڑ۔" یسین اس کے انداز میں کھو سا گیا۔ ابھی وہ اس فسوں سے نکل ہی نہیں پایا تھا کہ کسی کے آنے کا گمان سا ہوا۔ لڑکی نے جلدی جلدی اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

" تقدس۔۔ تقدس۔۔ کہاں ہو۔؟" وہ کوئی عورت تھی جو اسے ڈھونڈتے ہوئے پکار رہی تھی۔

" ہاں۔" وہ خود کو سنبھال چکی تھی کہ اتنے میں وہ عورت بھی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہیں آگئی۔ یہ عورت تیکھے انداز اور بھدے سے جسم کی مالک تھی۔ عمر لگ بھگ تیس کے قریب رہی ہوگی۔ دوپٹہ ندارد اور شلوار قمیض میں ملبوس وہ تقدس کے قریب آ کھڑی ہوئی۔

" میں نے تمہیں کھڑکی سے یہاں آتے دیکھا تھا۔ تم کیا کر رہی تھی۔؟" تیز آواز میں پوچھنے کے ساتھ ہی اس نے ادھر اُدھر بھی دیکھا۔ تقدس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا۔

" ابھی میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوئی ہوں سلیمہ۔" تقدس اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ سلیمہ خود بھی جانے کے لیے مڑ گئی۔ یسین ماجرا جاننے کے لیے تقدس کے پیچھے ہی چلا آیا۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ لوگ اب ایک گھر میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ گھر کچھ اس طرح سے بنا تھا کہ دروازہ کھلتے ہی ہال سا تھا جس کے آگے کچن تھا۔ اوپری منزل پر تین کمرے تھے۔ جن میں ایک تقدس کا, دوسرے اس کے بابا امانت کا اور تیسرا کمرہ اس کے بھائی فہد اور فہد کی بیوی سلیمہ کا تھا۔ چھوٹا سا یہ گھر ان چار افراد پر مشتمل تھا۔ گو کہ امانت صاحب اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنے بچوں میں برابر پیار و حق تقسیم کرتے تھے لیکن سلیمہ کی چرب زبانی کبھی اتنی غالب آ جاتی کہ تقدس کا وجود کہیں بہت پیچھے چھپ سا جاتا۔ سلیمہ اس سے نہ صرف حسد کرتی تھی بلکہ وہ صرف اپنا آپ منوانے کے چکر میں رہا کرتی تھی۔ امانت صاحب کبھی سمجھتے اور اکثر نہ سمجھتے۔ فہد بیوی کے ہاتھوں کا کھلونا تھا جسے وہ جب چاہتی, جس طرح چاہتی نچا سکتی تھی۔ فہد کے لیے اس کی بیوی ہی سب کچھ تھی۔

•••••

" آخر تم کر کیا رہی تھیں۔؟" سلیمہ تقدس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوئی۔ فہد کام پر گیا ہوا تھا اور امانت صاحب اپنے کسی دوست سے ملنے گئے ہوئے تھے۔

" مجھے برائی پر مجبور مت کرو سلیمہ, جب ایک بار کہہ دیا کہ میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوں تو کیوں پریشان کر رہی ہو۔؟" تقدس مڑ کر بولی۔

" تو تم کچھ بھی کرو ہم بولیں بھی نہ۔؟"

" سلیمہ۔" تقدس کا ضبط جواب دینے لگا تھا۔ " میں تمہاری طرح شادی سے پہلے کسی کے بستر کی زینت نہیں بننے گئی تھی۔ سن لیا اب میرا پیچھا چھوڑ دو۔" وہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور زور سے دروازہ بند کر لیا۔ سلیمہ غصّے سے لال ہوا چہرہ لیے وہیں کھڑی رہ گئی۔ یہ سچ تھا کہ شادی سے قبل وہ کسی دوسرے کے ساتھ رہ چکی تھی لیکن فہد نے جانتے ہوئے بھی سلیمہ سے شادی کی۔ یہ اور بات ہے کہ امانت صاحب کو اس کی کوئی خبر نہ تھی مگر تقدس واقف تھی۔
" آج تمہیں رلا کر نہ چھوڑا تو میں بھی سلیمہ نہیں۔" وہ سخت غصّے سے گویا ہوئی۔

•••••

تقدس کمرے میں آئی۔ عبایا اور بیگ ایک طرف رکھا۔ اسے تکلیف ہو رہی تھی کہ اس نے اپنی زبان جھگڑ کر آلودہ کیوں کی۔؟

" اللہ۔" وہ دیوار سے لگ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ " میں اپنی زبان پاک رکھنا چاہتی ہوں لیکن یہ لوگ۔۔" اس کے آنسو بہہ نکلے۔ " میں اپنی ریاضت ضائع نہیں کرنا چاہتی میرے اللہ, یا تو انہیں ہدایت نصیب فرما یا مجھے اس قید سے رہائی عطا فرما۔" وہ رو رہی تھی اور اس کے سامنے بیٹھا یسین اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ ان چھوئی, پاکیزہ, سادہ اور دنیا کی رنگینیوں سے دور رہنے والی لڑکی اس کی آنکھوں میں سماتی دل میں اترتی چلی گئی۔ یسین کو اسے روتے دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ خود اپنی کیفیت سے انجان تھا کہ آخر تقدس کو روتا دیکھ کر اسے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔؟ تقدس کچھ دیر اور روتی رہی پھر وہیں روتے روتے سو گئی۔ اس کے سونے کے بعد یسین بھی کھڑکی سے باہر چلا گیا۔
تقدس بچپن سے ایسی بی تھی۔ ہر حال میں حق کی راہ چننے والی۔ بڑھتی عمر کے ساتھ وہ اکیلے رہنے لگی تھی کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ ہجوم کے ذریعے زبان فضول گوئی سے آلودہ اور گناہوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسے ہمیشہ اس بات کا دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں اس کی وجہ سے کچھ غلط نہ ہو جائے۔ اس کی زبان سے کوئی غلط جملہ نہ ادا ہو, اس کے ہاتھ سے کسی کو ضرر نہ پہنچے, مگر شاید وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی ذات کے شر سے ڈرنا ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا, اور جن کے نصیب میں ہوتا ہے وہ بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تو اللہ کے محبوب ہوتے ہیں جن کے دل پرندوں کی طرح نرم و نازک ہوں اور خوش قسمتی سے تقدس بھی ایسی ہی تھی۔

•••••

وہ جس وقت اپنے گروہ میں واپس آیا شام کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وہ گروہ میں ادھر اُدھر بے مقصد گھومتا رہا۔ بار بار آنکھوں کے سامنے وہی اُداس چہرہ آجاتا۔ وہ خود کو مصروف ظاہر کرتا ہوا مختلف کاموں میں لگا ہوا تھا کہ اچانک کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ یسین نے مڑ کر دیکھا تو اس کا سب سے قریبی دوست حرمان مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

" اُلجھے ہوئے لگ رہے ہیں۔؟"

" ایسی کوئی بات نہیں میرے دوست۔" یسین نے بھی مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

" دل تو نہیں مانتا میرا۔" حرمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ " پھر بھی آپ بتانا نہیں چاہتے تو میں اصرار نہیں کروں گا۔"

" میرے دوست کبھی کبھی ہم وقتی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں شاید میں بھی ہو رہا ہوں۔۔ خیر ماسون کی کوئی خبر ملی۔؟" اس نے بات گھماتے ہوئے گفتگو کو دوسرا رخ دے دیا۔

" ابھی تک تو کوئی خبر نہیں ملی۔"

" اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔" یسین نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو حرمان بھی " بیشک۔" کہہ کر خاموش ہو گیا۔

•••••

رات کے کھانے پر وہ لوگ اکھٹے ہوئے تو سلیمہ کے چہرے پر پہلے سے ہی غصّے کی جھلک تھی۔ جب وہ لوگ کھانا کھا چکے تو سلیمہ نے سب کو روک لیا۔

" مجھے کچھ بات کرنی ہے۔"

" بولو۔" فہد نے کہا۔ سلیمہ نے پہلے اسے دیکھا پھر امانت صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی۔

" بابا یہ اکیلے جنگل میں چلی جاتی ہے اگر کچھ ہوگا تو نام میرے اوپر نہ آئے, میں پہلے ہی بتا کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہوں۔"

" میں کسی کی غلام نہیں ہوں جو ہر ایک کے سامنے جواب دوں۔" تقدس نے کہا۔

" ایک منٹ۔۔" فہد بیچ میں بول پڑا۔ " تُجھے کیا ہو رہا ہے کوئی مرے جئے, کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو تُجھے کیا۔؟ دوسروں کے معاملے میں مت پڑ۔" وہ بظاھر سلیمہ کو کہہ رہا تھا لیکن تقدس بچی نہ تھی جو ان لفظوں میں چھپے طعنے نہ سمجھ پاتی۔ فہد کو سلیمہ نے تقدس سے اس قدر بدظن کر رکھا تھا کہ وہ اس کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔

" لڑو نہیں۔" امانت صاحب جو اب تک خاموش تھے فہد کی بات پوری ہوتے ہی گویا ہوئے۔ " تم لوگوں کو تقدس سے سوال جواب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں, اور تقدس تم مجھے بتا کر جاؤ گی جہاں بھی جانا ہو اگر میں کبھی گھر میں نہیں رہا تو تم کمرے میں رہو گی۔" اُنہوں نے اپنے تئیں بات ہی ختم کردی اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔ سلیمہ بھی فہد کے کندھے پر سر رکھے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی لیکن جاتے جاتے وہ تقدس پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ڈالنا نہ بھولی۔ تقدس خاموش کھڑی تھی۔ سب کے جانے کے بعد اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر زمین پر گرے اور وہیں جذب ہونے لگے۔ اس نے ہال کی لائٹس بند کیں اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

•••••

جاری ہے,
کیسا رہا نیا ناول۔؟ کمنٹ کر کے اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں,
جزاک اللّہ,
نیکسٹ ایپی جلد ہی 🌺
Aijaz Rao

Want your organization to be the top-listed Government Service in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Okara