Ehd - e - Amrooz
محبت
ہر ایک فطرتِ عورت سمجھ نہیں سکتا
یہ شاعری ہے جو بد ذوق پر نہیں کھلتی
زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
ہم کہ مامور ہیں دنیاؤں کی دلجوئی پر
ہم کسے جا کے سنائیں جو ہمارا دکھ ہے
شاہد ذکی
16/08/2025
جل بجھ کے راکھ ہو گیا سرمایہء حیات
وہ آگ پانیوں نے لگائی ہے شہر میں
ذیشان
.
بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا
بکھرا بھی اس طرح کہ سمیٹا نہیں گیا
ایڑی پہ ناچتی رہی آزادیوں کی دھوپ
لیکن ہمارے سر سے اندھیرا نہیں گیا
سینا پٹخ رہے تھے میرے گلستاں کے پیڑ
لیکن چمن سے کوئی پرندہ نہیں گیا
آنکھوں کی پتلیاں بھی دھماکے میں اُڑ گئیں
منظر وہ آخری تھا کہ دیکھا نہیں گیا
ملتا نہیں ہے ملک میں ڈھونڈیں اگر کہیں
ایسا کوئی بشر جسے لُوٹا نہیں گیا
بینائیوں کو کھا گئیں دیمک کی ٹولیاں
آنکھوں سے آج بھی ترا چہرا نہیں گیا
تتلی نے پنکھ سونپ دئیے باغبان کو
پھولوں کا حال اس سے بھی دیکھا نہیں گیا
ماؤں نے اپنے لال کراۓ پے دے دئیے
اس سے بھی اس وطن کا کرایہ نہیں گیا
انعم ظامی
تم جیت تو آئے ہو مگر یہ نہیں سوچا؟
جو ہار گیا ہے وہ شکاری تو نہیں ہے
نایاب کوئی چیز گزرتی ہے تو ہم لوگ
یہ سوچنے لگتے ہیں ہماری تو نہیں ہے ؟
احمد کمال پروازی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar