Gain knowledge
wikipedia CS in progress
12/06/2021
محمد بن سلمان آل سعود
سعودی ولی عہد
محمد بن سلمان سعودی عرب کے ولی عہد، نائب صدر وزراء كابينہ اور وزیر دفاع ہیں۔ آپ سياسی اور سیکورٹی امور کونسل کے صدر اور سعودی اقتصادی اور ترقياتی امور کی کونسل کے بھی صدر ہیں۔آپ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی اہلیہ فہدہ بنت فلاح آل حثلین العجمی سے ان کے فرزند ہیں۔
اجمالی معلومات محمد بن سلمان آل سعود, (عربی میں: محمد بن سلمان بن عبد العزيز آل سعود) ...
آپ نے كنگ سعود یونیورسٹی سے قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔آپ اپنے والد کی حكومت کے آغاز (جنوری 2015 ) سے (اپریل 2015م) تک ديوان ملکی کے صدر ر رہے۔29 اپریل 2015 کو آپ کو شاہی حکم نامہ سے ولی عہد اور سعودی وزراء کابینہ کے صدر کا نائب دوم متعین کیا گیا۔ آپ کو آپ کے چچا زاد ولی عہد اور وزیر داخلہ محمد بن نایف بن عبد العزیز آل سعود کی سعودی بيعہ اتھارٹی کی طرف سے معزولی کے بعد جون 2017 کو ولی عہد مقررکیا گیا۔
امیر محمد بن سلمان مكہ مکرمہ اور مشاعر ِ مقدسہ کے لیے رائل کمیشن کے صدر ہیں، جس کا مقصد مکہ مکرمہ شہر اور مشاعرِ مقدسہ میں سروسز کے معیار کو ان مقامات کی قدسیت اور مکانت کی وجہ سے بہتر بنانا اور اللہ کے گھر کے مہمان معتمرین اور حجاج کرام کے لیے سروسز کے حصول کو آسان بناناہے۔
امير محمد بن سلمان نے تاریخی مساجد ترقیاتی منصوبہ لاؤنچ کیا، جس کا مقصد دین اسلام میں ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کی حفاظت اور ان کو عبادت کے لیے تیار کرناہے۔
آپ نے سعودی ويژن 2030 پیش کیا ، جس کا مقصد تیل پر انحصار کی بجائے دیگر معاشی راہ داریوں کو وسعت دینے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ، آپ نے اپنے اس عزم کا اظہار فرمایا کہ سعودی حکومت کا تیل پر سے انحصار ختم کر دیا جائے گا جسے آپ نے " لَت" سے تعبیر کیا ہے۔
آپ نے حوثيوں کے خلاف یمن میں جنگ کی قیادت کی۔ آپ نے ایران کے جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی صلاحیت کی صورت میں سعودیہ کو ایٹمی ملک بنانے کی دھمکی دی۔
دی ایکونومسٹ میگزین نے آپ کو اپنے والد شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی حکومت کے پیچھے ایک طاقتور شخصیت سے تعبیر کیا۔
2017 میں امریکی ٹائم میگزین نے آپ کو قارئین کی طرف سے سالانہ شخصیت منتخب كيا۔اسی طرح امریکی فارن پالیسی میگزین نے اپنے 2015م کے 100 اہم مفکرین کی سالانہ فہرست میں آپ کو دنیا کے مؤثر رہنما کے طور پر منتخب کیا۔2018 م میں فوربس میگزین نے دنیا کے موثر ترین شخصیات کی فہرست میں آپ کو منتخب کیا۔
09/06/2021
سید احمد خان
برطانوی ہند کے ماہر ماہر تعلیم، مصنف اور اصلاح پسند
سید احمد بن متقی خان (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید انیسویں صدی کا ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کا حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ آپ کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے جو کے آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنی۔
اجمالی معلومات خان بہادر, سر سید احمد خان ...
1838ء میں اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور 1867ء وہ چھوٹے مقدمات کے لیے جج مقرر کیے گئے۔ 1876ء میں وہ ملازمت سے مستعفی ہوئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا وفادار رہے اور یورپیوں کی جانیں بچانے میں اس کے کردار کی سلطنت برطانیہ کی طرف سے ستائش کی گئی۔ بغاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اسباب بغاوت ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں ہندوستان کی رعایا کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا۔ اس رسالہ کا فائدہ سلطنت برطانیہ کو ہوا جس نے اس کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی سے برصغیر کا تمام قبضہ لے لیا اور ہندوستان کے تمام معاملات براہ راست اپنے قبضہ میں لے لیے۔ مسلمانوں کے راسخ الاعتقاد طرز کو ان کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے سرسید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا اپنے کلامی مکتبِ فکر کی بنیاد ڈالی جو معتزلہ کے افکار کا چربہ تھا مگر اس کے کلامی نظریات مقبول نہ ہو سکے اس لیے صرف سائنسی علوم کی اشاعت تک محدود رہا۔
1859ء میں سر سید نے مرادآباد میں گلشن اسکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور 1864ء میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔ 1875ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج جو جنوبی ایشیا میں پہلی مسلم یونیورسٹی بنا۔ اپنے کردار کے دوران میں سر سید نے بار بار مسلمانوں کو سلطنت برطانیہ سے وفاداری پر زور دیا اور تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اردو کو بطور زبانِ رابطۂ عامہ اپنانے کی کوشش کی۔۔ وہ اپنی برطانوی وفاداریوں کے سبب انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے گہری تنقید کا نشانہ بنا۔
سر سید کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اکثر دو قومی نظریہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے دوقومی نظریے کو سترہویں صدی کے غیر اہم کردار حضرت مجدد الف ثانی کے سرمنڈھ دیتے ہیں۔ جس کا کوئی ٹھوس علمی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اثر اور متاثر کی اتنی نسبت ہے جتنی کہ سکندراعظم اور نپولین میں موجود ہوسکتی ہے۔ سر سید کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کے لیے عقلیت پسند (معتزلہ) روایت کی وکالت نے عالمی طور پر اسلامی اصلاح پسندی کو متاثر کیا اور ناقابل تلافی نقصان دیا۔ پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں۔
ابتدائی زندگی
سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم میں آپ نے قرآن پاک کا مطالعہ کیا اور عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل کی۔ جریدے القرآن اکبر کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ان کے بڑے بھائی نے شہر کے سب سے پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد رکھی۔ ورژن کی ضرورت سر سید نے کئی سال کے لیے ادویات کا مطالعہ کی پیروی کی لیکن اس نے کورس مکمل نہیں ہے۔
08/06/2021
عوامی نیشنل پارٹی
عنوان کی وضاحت درج کریں
عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے۔ اس جماعت کا زیادہ اثر و رسوخ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ہے۔ اس کے علاوہ یہ جماعت صوبہ سندھ اور پنجاب میں بھی چھوٹے پیمانے پر اپنا اثر رکھتی ہے۔ یہ جماعت ماضی میں قائم کی گئی نیشنل عوامی پارٹی کی تبدیل شدہ شکل ہے، جو برصغیر کی مشہور خدائی خدمتگار تحریک جو برطانوی دور حکومت میں چلائی گئی تھی سے اخذ شدہ ہے۔
اجمالی معلومات عوامی نیشنل پارٹیملي عوامي ګوند, اردو نام ...
قیام و تاریخ
1986ء میں قومی جمہوری پارٹی دوسری سیاسی جماعتوں اور دھڑوں میں ضم ہوئے تو ایک نئی جماعت تشکیل دی گئی جس کا نام عوامی نیشنل پارٹی رکھا گیا۔ عبدالولی خان اس جماعت کے صدر جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو جنرل سیکرٹری منتخب کیے گئے۔ اس جماعت نے 1986ء سے 1988ء تک چلائی گئی تحریک برائے بحالی جمہوریت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
1988ء کے انتخابات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبائی اور وفاقی سطح پر اتحاد قائم کیا۔ یہ اتحاد 1989ء میں اس وقت ختم ہو گیا جب صوبائی معاملات و مالیاتی تقسیم پر سیاسی اختلافات نے جنم لا۔ 1990ء کے انتخابات کے بعد جب نواز شریف کی جماعت نے برتری حاصل کی تو عوامی نیشنل پارٹی نے مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ یہ اتحاد تادیر قائم رہا اور 1998ء تک قائم رہا۔ 1998ء میں یہ اتحاد کالا باغ ڈیم اور خیبر پختونخوا کے نام کی تبدیلی کے موضوعات پر اختلافات کی وجہ سے جاری نہ رہ سکا۔ اس جماعت نے تب متحدہ جمہوری اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی اور نواز شریف کی حکمرانی میں کیے جانے والی آمرانہ اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ پرویز مشرف نے جب فوج کی مدد سے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور یہ جماعت تب بھی اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی فعال رکن رہی، لیکن 11 ستمبر کے امریکا پر ہوئے حملوں کے بعد اتحاد کی طالبان کی حمایت کی وجہ سے الگ ہو گئی۔ 2002ء کے انتخابات میں اس جماعت نے پاکستان پیپلز پارٹی سے دوبارہ اتحاد قائم کیا لیکن صوبہ خیبر پختونخوا میں تب متحدہ مجلس عمل کے نام سے قائم مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے ہاتھوں اس اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔....... 🔗 https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%8C
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar