Engineer Muhammad Irfan Khan
to share my buisness and political analysis
تاریخی حقائق کےمطابق قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃاللہ علیہ آل انڈیاکانگریس پارٹی کو یہ کہہ کر چھوڑ دی تھی کہ گاندھی منافقت کررہا تھا اس کا سیاسی مقصد تاج برطانیہ یعنی انگریزوں کے زیرِ سایہ متحدہ ھندوستان میں صرف ھندوؤں کا راج چاہیئے تھا مسلمان لیڈروں کو وہ استعمال کررہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے سکھ حریت پسند نوجوان بھگت سنگھ( انگریزسامراجی افسر کو قتل کیا تھا) کا انگریزوں کے سامنے انگریزوں کے خلاف بھرپور سیاسی اور اخلاقی دفاع کیا تھا جبکہ گاندھی سمیت کانگریس لیڈروں نے بھگت سنگھ کو انگریز افسر کے مارنے پر مجرم قرار دیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے23 مارچ سنہء 1940 کے قرارداد پاکستان کے بعد انگریزوں کا ہر قسم کی پیشکشیں ٹھکرائی تھیں کہ ھندوستان کے مطالبے سے دستبردار ھوجائے لیکن قاید اعظم محمد علی جناح پاکستان کے مطالبے سے پیچھے نہیں ھٹے۔ گاندھی اور دوسرے کانگریس لیڈرز درپردہ انگریزوں اور تاج برطانیہ کے مضبوط حمایتی تھے جن میں مسلم کانگریسی لیڈرز بھی شامل تھے۔ یہ مسلمان کانگریسی لیڈرز دراصل گاندھی کے تابعداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاھتے تھے حالانکہ کانگریسی ھندو تاج برطانیہ کے زیرِسایہ لارڈماوونٹ بیٹن کو تادم مرگ بطورِ گورنر جنرل قبول کرکے صرف اور صرف ھندوؤں کی حکومت چاھتے تھے جس میں مسلمانوں کو برائے نام نمایندگی دی جانی تھی باقی اصل سیاسی اور حکومتی طاقت ھندوؤں کے پاس ھوتی جو کہ آج کے نریندرا مودی کی حکومت ہے جو مسلمانوں کو بالکل برداشت نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کی شناخت ھندوسماج کے ساتھ مکس کرکے ختم کرنا چاھتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو یہ بالکل قابل قبول نہیں تھا اسلئے وہ ببانگِ دہل کہتا تھا کہ مسلمان اور ہندو تہذیب رسم ورواج جدا جدا ہیں یہ کبھی ایک نہیں ہوسکتے لہذا مسلمانان ہند کیلئے علیحدہ خودمختار اسلامی ملک ہی ھماری منزل ہے اور پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک بن کر رہے گا اور الحمدللہ پاکستان بن کر ہی ثابت ھوا۔ اس وقت پاکستان بننے میں ادھر کے آج کے مغربی پاکستان کے جتنے بھی کانگریسی رہنما تھے انہوں نے پاکستان کو ناکام بنانے کیلئے بہت بڑی سازشیں بنائی تھیں لیکن الحمدللہ وہ سازشیں ناکام ھوئی تھیں کیونکہ ادھر کے تمام پختون قبائل بشمول اس وقت کے سرحدی قبائلی علاقوں کے پختونوں کے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی حمایت کررہے تھے اور پختونوں نے کانگریسیوں کو بتا بھی دیا تھا اور دکھا بھی دیا تھا کہ تمام پختونوں کا لیڈر بھی قائد اعظم محمد علی جناح ہیں وہ اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں اور تاقیامت رہے گا ۔ پاکستان زندہ باد اور کانگریسی نظریہ مردہ باد۔ ایک اور بات یہ ہے کہ ھماری آزادی کا دن اگرچہ15 اگست کو انگریز کے ساتھ دستخط ھوئے تھے لیکن چونکہ آزادی کا حتمی فیصلہ 14اگست1947کو ہی ھوا تھا اسلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش پر 15کی بجائے 14 اگست ہے یہ اسلئے ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو انگریزوں کی دی گئی تاریخ بھی پسند نہیں تھی جبکہ کانگریس پارٹی نے انگریز کے آرڈر کے مطابق 15اگست کردیا اورکانگریسی بانمبڑوں نے انگریز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کوہی اپنا حتمی لیڈر مان لیا جن سے پتہ چلتا ہے کہ گاندھی سمیت سب کانگریسی بانمبڑ سازشی تھے۔ والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Badaber
Peshawar