Big Bio
Big Bio is dedicated to popularization of Science in Pakistan
05/07/2025
"سائنس: محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ تنقیدی فہم کا نظام"
(کتاب: "آخری سوال کے جواب میں" کا ایک مجوزہ باب)
تحریر: مبارک علی خان
اکثر لوگ جب سائنس کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں راکٹ، موبائل فون، میڈیکل ٹیکنالوجی، یا روبوٹس آتے ہیں۔ گویا سائنس محض ایک "چیزیں بنانے والی فیکٹری" بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن درحقیقت سائنس کا اصل مقصد چیزیں بنانا نہیں، بلکہ حقیقت کو سمجھنا، سوال اٹھانا، اور شواہد کی بنیاد پر دنیا کی گتھیاں سلجھانا ہے۔
سائنس ایک علمی روایت (intellectual tradition) ہے، جو سوال، شک، تنقید اور تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔
سائنس دراصل ایک طریقۂ کار (methodology) ہے، جب کہ ٹیکنالوجی اس کا ضمنی نتیجہ (by-product) ہے۔
سائنس کا دائرہ سوالات، مشاہدات، تجربات، اور نظریات کے گرد گھومتا ہے۔ جبکہ ٹیکنالوجی ان نظریات کی اطلاقی شکل (applied form) ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال سائنس کے بغیر ممکن نہیں، لیکن سائنس کی بنیاد صرف آلات بنانے پر نہیں — بلکہ علم، فہم، تنقید، اور دریافت پر ہے۔
کارل پوپر (1902–1994) بیسویں صدی کے سب سے بااثر فلسفیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سائنس کو اس کی تنقیدی روح (critical spirit) کے ساتھ پرکھا۔ ان کے مطابق ایک سائنسی نظریہ وہی ہوتا ہے جو قابلِ تردید (falsifiable) ہو۔
یعنی سچ وہ نہیں جو تسلیم کر لیا جائے، بلکہ وہ ہے جو سوال اٹھانے کے بعد بھی قائم رہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی کہے "تمام ہنس سفید ہوتے ہیں"، تو یہ دعویٰ تبھی سائنسی ہوگا جب ہم اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں.. یعنی اگر کوئی کالا ہنس ملا، تو نظریہ رد ہو گیا۔
لیکن اگر کوئی نظریہ ایسا ہو جسے کبھی غلط ثابت ہی نہ کیا جا سکے، تو وہ سائنسی نہیں — بلکہ عقیدہ یا تصوراتی مفروضہ ہے۔
کارل پوپر کے نزدیک سائنس ہمیشہ عارضی صداقت (tentative truth) فراہم کرتی ہے — یعنی ہم کسی نظریہ کو درست مانتے ہیں، جب تک کوئی بہتر ثبوت اسے رد نہ کر دے۔
سائنس کا اصل جوہر کسی چیز کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ اس پر سوال اٹھانا ہے۔
مذہب، عقائد، یا سیاست میں اکثر سوالات کو دبایا جاتا ہے۔ لیکن سائنس کا حسن یہی ہے کہ وہ سوالات کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں سائنس زیادہ ترقی کرتی ہے، کیونکہ وہ آزادی، تنقید، اور شواہد پر مبنی بحث کی فضا فراہم کرتے ہیں۔
Science as a Social Construct
تاریخی طور پر، سائنس ہمیشہ تنہائی میں نہیں پھلی پھولی، بلکہ اس نے اپنے وقت کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی نظاموں سے گہرا اثر لیا۔ گلیلیو نے جب زمین کی حرکت کا نظریہ پیش کیا تو چرچ نے اسے دبانے کی کوشش کی۔ ڈارون کی ارتقا پر مبنی تھیوری آج بھی کئی مذہبی حلقوں میں متنازعہ ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں اکثر طلبا کو سائنس امتحان پاس کرنے کے ہتھیار کے طور پر پڑھائی جاتی ہے، نہ کہ دنیا سمجھنے کے ایک سوالی (inquisitive) طریقے کے طور پر۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سائنس کو صرف ٹیکنیکل یا پریکٹیکل فائدے کے لیے سکھایا جاتا ہے۔
سائنس بطور تنقیدی علم نہ تو یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے، نہ میڈیا یا معاشرے میں اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ایسی فضا میں نہ سائنسدان بنتے ہیں، نہ موجد — بلکہ محض ٹیکنیشن اور صارفین پیدا ہوتے ہیں۔
کارل پوپر نے سائنس کو ایک "اوپن سوسائٹی" کے لازمی جزو کے طور پر دیکھا۔ یعنی ایسی سوسائٹی جہاں لوگ سوال کریں، اختلاف کریں، تجربہ کریں، اور سیکھیں۔
اگر ہم صرف سائنس کی مصنوعات (products) سے متاثر ہو کر اسے اپناتے ہیں، لیکن سائنس کی سوچ (mindset) کو اپنانے سے کتراتے ہیں — تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔
سائنس وہ چراغ ہے جو ہمیں نہ صرف راہ دکھاتا ہے، بلکہ ہمارے سائے بھی سامنے لاتا ہے۔ اگر ہم سچ میں ترقی چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف سائنسی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ سائنسی ذہن پیدا کرنا ہوگا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Peshawar