Knowledge is Power
This Page will only share knowledge based contents which will benefit students to prepare itself for
WAPDA Assistant lineman test by KMU
17/06/2021
لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سو تجربے کیے، اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازو بنایا، وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا، مریض کے پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، ان کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ
"انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے" ابراہام کا کہنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں
کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے!!
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں؟؟
یہ ہے ہماری اور آپ کی اوقات اور اسی لیے تو کہتے ہیں ہوا نکل گئی تے بندہ ختم،
لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں.
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں، لالچ، ہیراپھیری، چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ہے؟؟؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar
25120