Sahar Aziz
My Way is different from others.
10/05/2026
مادی عروج اور ذہنی زوال
تحریر رحمت عزیز خان چترال ٹائمز
مادی لحاظ سے دنیا نے ایسی ترقی کی ہے کہ انسان کی ہر ضرورت اس کی دہلیز پر موجود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم سیاروں اور کہکشاؤں کی وسعتوں میں جھانک رہے ہیں۔ یہ ترقی یورپ اور امریکہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔
ایک دور تھا جب مسلمان ذہنی طور پر بیدار تھے۔ علم و عمل میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ یورپ کے مقابلے میں وہ فکری میدان میں بہت آگے تھے۔ یورپ نے انہی سے سیکھا، تحقیق و ایجاد کی راہ اپنائی اور مادی ترقی کی انتہا کو پہنچ گیا۔
آج ہم صرف دوسروں کی نقل کر کے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ اپنے اسلاف کی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ ہم سے مادی میدان میں زیادہ ذہین ثابت ہوئے، اگرچہ روحانی لحاظ سے وہ اکثر پسماندہ نظر آتے ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں تخلیق کی سوچ ہی نہیں رہی۔ اس لیے کہ ہمارے پاس اس کے لیے وقت ہی نہیں۔ ہم اپنی پوری ذہانت اور توانائی دوسروں کو نیچا دکھانے اور اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونسنے میں ضائع کر رہے ہیں۔ ہم اپنی عقل کو روحانی اور مادی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کا سوچتے ہی نہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ ہم متحد ہو کر مادی اور روحانی ترقی کا شعور پیدا کرتے۔ مگر ہم نے اس کے بجائے خود کو گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر کے اپنی طاقت گنوا دی۔ یورپ اپنے کام سے کام رکھ کر مادی عروج پر پہنچ گیا اور ہم آپس کے جھگڑوں میں الجھ کر پیچھے رہ گئے۔ حالانکہ ہمارا مذہب محنت، تفکر، تدبر اور یکجہتی پر زور دیتا ہے۔ دنیا ہو یا آخرت، دونوں کے لیے محنت اور سمجھ بوجھ لازم ہے۔ مثبت سوچ اور ذہانت کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
آج کا انسان اتنا تن آسان ہو گیا ہے کہ اپنا کام بھی دوسروں سے کروانا چاہتا ہے۔ اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت پر تکیہ کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر چیز اسے بنی بنائی مل جائے۔ اسے یہی ترقی لگتی ہے، حالانکہ یہی ذہنی پسماندگی کی علامت ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے ایک ایک چیز محنت سے ایجاد کی، اور آج وہ سب اکٹھی ہمیں میسر ہے۔
آج ہم میں سے اکثریت کتاب کا ایک پیراگراف پڑھنے کی اہل نہیں رہی۔ پرانے زمانے کے لوگ بیک وقت کئی علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے۔ اب کوئی ایک علم میں بھی پوری مہارت نہیں رکھتا۔ اور اگر رکھتا بھی ہے تو اسی کو کل کائنات سمجھ لیتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ذہنی پسماندگی کے دور میں ہر شخص گفتار کا غازی بنا ہوا ہے، مگر کردار میں صفر ہے۔ قدیم علماء نے مذہبی علوم کو جمع کر کے کتابی شکل دی، تشریح و تفسیر سے آراستہ کیا۔ ان کی تشریحات میں یکسانیت تھی۔ آج کے اکثر علماء ہمہ گیریت چھوڑ کر فرقہ واریت پر زور دیتے ہیں۔ پہلے ایک کلمہ گو مسلمان دوسرے کا بھائی تھا۔ اب مسلمانوں کے گروہ ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ یہی ذہنی پسماندگی کا معیار ہے۔
پرانے لوگ خیرخواہ اور نیک نیت تھے۔ علم کو دوسروں تک پہنچانا فرض سمجھتے تھے، اور سیکھنے والا اسے سعادت جانتا تھا۔ آج جائز و ناجائز طریقے سے پیٹ بھرنے کے لیے لوگ پیسے اور دکھاوے پر ایمان لے آئے ہیں۔ حقیقت کا ادراک نہیں۔ اسی کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ عالم ہوں یا تعلیم یافتہ، اکثریت پیٹ کی غلام ہے۔ ہر کوئی اپنی دکان چمکانے میں لگا ہے۔ یہ سوچ ہی ذہنی پستی کا ثبوت ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ سب کند ذہن ہیں۔ ذہین لوگ بھی ہیں، مگر آٹے میں نمک کے برابر۔
آج اکثریت کا ذوق اتنا گر چکا ہے کہ فضول اور بے ہودہ مشغلوں کو بڑے شوق سے اہمیت دی جاتی ہے۔ کسی سنجیدہ بات یا اہم کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ ذہنی پسماندگی کا بدترین درجہ ہے۔
ذہنی پسماندگی کا شکار انسان خود کو برتر اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ وہ تحقیق سے سچ اور جھوٹ کا فرق جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ چند رٹی ہوئی باتوں پر اکتفا کرتا ہے جو اسے اس کے اکابرین سے ملی ہوں۔ اسی کو کل سچ مان کر دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ یہ رویہ مذہبی فرقوں میں نمایاں ہے۔ ایسے لوگ سوچنے سمجھنے سے غافل ہو کر دوسروں کے محتاج بن جاتے ہیں۔ یہ لکیر کے فقیر بن کر معاشرے کے لیے درد سر بنتے ہیں۔
ذہین لوگ اپنے کردار اور گفتار سے محبت بانٹتے ہیں۔ انسانیت کو جوڑتے ہیں اور دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے اپنی عقل اور علم جو آفاقی ہو استعمال کرتے ہیں۔ احمق انسانیت میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔ قرآن اور تمام آسمانی کتابیں انسانیت کو ایک آدم کی اولاد قرار دیتی ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ حکم سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا ہے۔ مگر کچھ مختلف سوچ لوگوں نے ایک دوسرے کی ضد میں گروہ بنا کر لوگوں کو فرقوں میں بانٹ دیئے۔ اس سے ہمہ گیریت کو نقصان پہنچا۔ مسلمان تقسیم ہو کر مختلف فرقوں میں محدود ہوتے گئے۔ یہ ان فرقوں کے اکابرین کی ذہنی پسماندگی اور ان کے پیرو ۔کاروں کی حماقت ہے
یہ تقسیم فطری قوانین سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تفرقے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ذہنوں کا اختلاف بہتری کی نوید نہیں لاتا، صرف ٹینشن پیدا کرتا ہے۔ یہی مذہبی ذہنی پسماندگی انسان کو وسیع مطالعے اور حقیقت بینی سے دور کر کے کوزے کا مینڈک بنا دیتی ہے۔ وہ کوزے کو ہی کل کائنات سمجھتا ہے اور اس سے باہر دیکھنے کو تیار نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ مادی ترقی کے ساتھ ذہنی ترقی نہ ہو تو انسان کوزے کا مینڈک بن جاتا ہے۔ نجات کا راستہ صرف دین اسلام پر عمل کرکے پختہ علم، تفکر، اور جستجو سے مقصد حیات کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔
05/05/2026
Manage time and explore the world beauty.
lover
02/05/2026
Visit green spaces for mental relaxation and therapeutic benefits. Chapali upper Chitral
29/04/2026
No experience is more exceptional than spending time near the sea and in a green place.
26/04/2026
Greeny place, Mountain , Blue sky Mastuj upper chitral. lover
چمکتی ترقی، سکڑتی انسانیت
اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ انسان نے زمین کے فاصلے مٹا دیے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھا لیے۔ سیٹلائٹ نے دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا، لیکن انسان اس گاؤں میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
چمکتی ہوئی ترقی کے پردے کے پیچھے ایک سوال مسلسل سر اٹھاتا ہے: *کیا انسان کی انسانیت بھی اسی رفتار سے ترقی کر رہی ہے؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب سائنس کے روشن افق جیسا تابناک نہیں۔
ہم نے عقل کے زور پر بے شمار سہولتیں پیدا کیں۔ بیماریوں کا علاج ڈھونڈا، خلا کو مسخر کیا، لمحوں میں براعظموں کا سفر ممکن بنایا۔ لیکن اسی عقل سے ہم نے ایسی ہولناک قوتیں بھی تخلیق کر لیں جو پل بھر میں زندگی کو راکھ میں بدل دیتی ہیں۔ وہ جنگیں جو کبھی مہینوں اور برسوں لڑی جاتی تھیں، اب ایک بٹن دبانے سے ہزاروں سانسیں چھین لیتی ہیں۔ بارود اور میزائل نے انسان کو وہ طاقت دے دی ہے کہ وہ پوری بستیاں، تہذیبیں، تاریخیں لمحوں میں مٹا سکتا ہے۔
یہ عجیب تضاد ہے کہ جوں جوں سائنس آگے بڑھ رہی ہے، انسان کے دل سکڑتے جا رہے ہیں۔ رابطوں کی رفتار روشنی جیسی ہو گئی ہے، مگر تعلقات کی گرمی بجھتی جا رہی ہے۔ ہم اسکرین کے ذریعے پوری دنیا سے جُڑے ہیں، لیکن پاس بیٹھے انسان سے کٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے الفاظ کے لیے ایموجی بنا لیے، مگر آنکھوں کی زبان پڑھنا بھول گئے۔
انسان چاند کی مٹی چھان آیا، مگر پڑوسی کے دل کی زمین بنجر چھوڑ دی۔* ہم نے مریخ پر پانی تلاش کر لیا، مگر آنکھ میں اترنے والی نمی کھو دی۔ ہم نے آواز سے تیز جہاز بنا لیے، مگر ایک دوسرے کی سُننا چھوڑ دی۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس طاقت آ گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ طاقت کے ساتھ برداشت، علم کے ساتھ حلم، اور ترقی کے ساتھ تخلیق کا شعور نہیں آیا۔ ہم نے ایٹم توڑ لیا، مگر تعصب نہ توڑ سکے۔ ہم نے وائرس کا کوڈ پڑھ لیا، مگر نفرت کا کوڈ نہ مٹا سکے۔
آج دنیا کو نئے ہتھیار کی نہیں، *نئے شعور کی ضرورت ہے*۔ ایسا شعور جو بتائے کہ اصل ترقی اونچائی میں نہیں، گہرائی میں ہے۔ جو سکھائے کہ طاقت کا مطلب تباہی نہیں، ذمہ داری ہے۔ جو یاد دلائے کہ ترقی کا مقصد تیزی نہیں، تسکین ہے۔
ہمیں وہ تعلیم چاہیے جو ڈگری کے ساتھ درد بھی دے۔ وہ سائنس چاہیے جو ایجاد کے ساتھ اخلاق بھی سکھائے۔ وہ سیاست چاہیے جو کرسی کے ساتھ کردار بھی بنائے۔ کیونکہ قومیں ہتھیاروں کے ڈھیر سے نہیں، انسانیت کے معیار سے زندہ رہتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت نہیں مٹیں جب ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ تہذیبیں اس وقت مٹیں جب ان کے پاس دل مر گئے تھے۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے، سوائے اس ایک چیز کے جس نے ہمیں انسان بنایا تھا۔
احساس
اگر ہم نے اب بھی شعور کو ہتھیار پر فوقیت نہ دی، تو اگلی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ وہ پوچھے گی کہ تم چاند پر جھنڈے گاڑ آئے تھے، مگر زمین پر امن کیوں نہ لا سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar