Daily AAJ
For detailed news, features and latest articles visit dailyaaj.com.pk
ظلم حد سے گزرتا رہا
اشک فریاد کرتا رہا
17/10/2021
جناب عبدلواحد یوسفی (مرحوم) میرے والد بزرگوار۔
بانی #روزنامہ #آج
جن کی آج دوسری برسی ہے۔
آپکے ساتھ ہی آپکی ناموس کا بھی جنازہ پڑھ دیا گیا تھا۔
آپ کے بعد آپکے کہے کسی لفظ کی لاج نا رہی
آپکا کوئی بھی وعدہ وفا نا ہوا
آپکا ایک بھی دعوی درست ثابت نہیں ہوسکا۔
اور آپکی کی تمام پیشنگوئیاں بھی فقط دیوانے کی بڑ نکلیں۔
افسوس ہے کہ آپکی عمر بھر کی کمائی۔۔۔ آپکی نیک نامی، بھی آپکے جسد خاکی کے ساتھ ہی دفن کر دی گئی۔
آج آپ کی سمجھداری، معاملہ فہمی، مردم شناسی و دور اندیشی پر بھی ہمالیہ جتنے بڑے سوالیہ نشان کھڑے ہو چکے ہیں۔
جن سانپ اور بچھوؤں کو آپ تمام عمر اپنی آستینوں میں پالتے رہے، آج آپ دیکھ سکتے تو دیکھتے کہ وہی سنپولئے اپنی نوکریاں بچانے کی سازشوں میں کمینگی کی تمام حدیں عبور کر گئے۔
وہ جن کی اپنی اوقات آپ کی قدموں میں بیٹھنے کی بھی نہ تھی انہیں آپ کے نام لیواؤں نے اپنا مختار کُل بنا رکھا ہے.
آپ تک میری آواز پہنچے تو سُن لیجئے کہ اپنا حق لینے اورمظلوم کاساتھ دینے کی اگر مجھ میں ہمت نہیں تو میرا وجود زندگی کےگندے نالےمیں تیرتی لاش کےسوا کچھ بھی نہیں۔
سانپوں اور بچھوؤں کا تو پہلے بھی مقابلہ کیا ہے مگر اس بار ان کو معاف کرنے کا ارادہ چھوڑ چکا۔
چاہے جتنی بھی دیر لگے جب تک سانسیں ہیں اس بار انشاللہ سنپولیوں کے سرانکے پھن سمیت کاٹ ڈالنےکا پختہ عزم کررکھا ہے۔
علی یوسفزئی۔۔
19/09/2021
بنام نگہت شاہین،
روزنامہ آج
عنوان: کھلا خط نمبر ۱۔
ہر دور میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب باطل، حق نما دکھتا ہے جب بَدی اپنی بدصورتی پر جھوٹے نقاب چڑھا کر خود کو خیر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور جب برائی خود کو نیکی کے طور پیش کرتی ہے۔
مگر تاریخ کے بے رحم قلم کے آگے کسی بھی ظالم شخص کی نا چل سکی۔ باطل کو ہمیشہ باطل ہی لکھا گیا۔
محترمہ نگہت شاہین صاحبہ آپ نے بھی اپنے چہرے پر نیکی اور اچھائی کے جھوٹے نقاب اوڑھ رکھے ہیں جن کے اتر آنے میں اب بہت کم دنوں کا وقت رہ گیا ہے۔
کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والا بھی خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور یہ بھی کہ اس کے متواتر بولنے سے بھی جھوٹ کبھی سچ نہیں بن جاتا۔
آپ بھی جانتی ہیں کہ جو موقف آپ نے ڈیلی آج کے اثاثہ جات اور وسائل پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لئیے اپنا رکھا ہے وہ فقط جھوٹ کی بیساکھی کے سہارے کھڑا تھا اور اب اس بیساکھی میں دراڑیں پڑ چکیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب میرا موقف پہلے روز سے بالکل واضح رہا اور آج تک درست اور سچ ثابت ہوا ہے۔بہت ہی قریب ہے وہ وقت بھی جب آپ کے ہاتھ سوائے رسوائی اور پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جانے والا۔
محترمہ آپ کی بدقسمتی ہوئی کہ آپ نے اپنے شوہر کے مرض الموت میں مبتلا ہوتے ہی اپنے لالچ سے مجبور ہو کر محلاتی سازشوں کا آغاز کر دیا تھا اور مرحوم یوسفی صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی نا مِحرم مردوں کیساتھ مِل کر میرے خلاف وہ جنگ شروع کردی جو آپ کبھی جیت ہی نہیں سکتیں تھیں۔ نا ہی اخلاقی اعتبار سے اور نا ہی اصولی طور پر اور قانونی طور پر تو قطعی نہیں۔
میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھا گیا اور میری مصالحتی کوششوں کو میری مجبوری۔ ہائے افسوس کہ اب اسی چند کنال کی زمین کے لئیے اپنی بقیہ زندگی آہنی سلاخوں کے پیچھے گذارنے والی ہیں جس کے لئے اپنے شوہر سے بیوفائی کی مرتکب ہوئیں اپنی سگی اولاد کے حقوق مارے اور اپنے پوتی پوتوں کے حال پر بھی رحم نا کیا اور جن غیروں کے لئیے اپنی رسوائی کا سبب بنی ہو وہی آپ کو چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ پشاور اور صوبہ خیبر کی تاریخ میں لکھا جائگا کہ کیسے آپ نے خود اپنے خاندان کو اپنے لالچ اور ناجائز خواہشات کے بھینٹ چڑھا دیا ۔
محترمہ نگہت شاہین صاحبہ روزنامہ آج کو جعلسازی سے ہتھیانے کی جو سازش آپ نے تیار کی تھی اس کا بھانڈا نا صرف پھوٹ چکا ہے بلکہ یہ ثابت ہو چکا کہ آپ ہر طرح کی جعلسازی اور بد دیانتی کی مرتکب ہوئیں ہیں اور قانونی طور پر آپ کے جرائم کی فہرست میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف آپ کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا چرچہ بھی چہار دانگ پھیل چکا۔
چکنی چپڑی باتوں والے خوشامدی ہمیشہ آپ کی کمزوری رہے اور اب یہی چکنی چپڑیوں والوں کا ٹولہ آپ کو بری طرح پھنسا بیٹھا ہے۔وہ کہ جن کا جھوٹ اور نیت مرحوم یوسفی صاحب کی زندگی کے آخری دنوں میں ہی آشکار ہو چکا تھا اور جنہیں خود یوسفی صاحب آپ کے شوہر مرحوم نے دوغلا قرار دیا انہی کو آپ نے اپنا ساتھی بنالیا۔ اور جو میٹھی باتیں کرنے والے مددگار جو آپ نے پہرہ پر بٹھا رکھے ہیں تو وہ تو خود اپنے دانت تیز کئے بیٹھے ہیں۔ اگر آپکا یہ خیال ہے کہ یہ آپکے تحفظ کے لئیے بیٹھے ہوئے ہیں تو اپنی اس خام خیالی سے نکل آئیے۔ اگر آپکو پتہ ہو کہ وہ کیسے آپ کو مال غنیمت سمجھ کر اپنی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں تو آپ کبھی بھی چین سے نا بیٹھیں۔ گھس بیٹھیوں کے اپنے عزائم چارہ گری سے موافق تھے ہی نہیں اور آپ نے انہیں اپنے فیصلوں کا اختیار دے دیا۔
یہ تو بس تندور گرم دیکھ اپنے پیڑے لئیے روٹیاں لگانے والے ہیں اور ان میں ایک بھی آپکا خیر خواہ نہیں۔ جن پر آپ کا تکیہ ہے ان پتوں کے ہوا دینے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن سے نکال دیجئے کہ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ آپکو مظلوم سمجھ کر ہمدردی کرنے والے مٹھی بھر لوگ بھی آج میری صل حقائق سامنے لانے کی مسلسل کوششوں سےاب آپ پر انگلیاں اٹھانے لگے ہیں اور آئے دن ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو آپ کی اصلیت جاننے کے بعد آپ کو ہی قانونی طور پر مجرم گردانتے ہیں۔
بڑے سے بڑا پھنے خان مجرم بھی ایک دن قانون کی گرفت میں آ ہی جاتا ہے لہذا اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ کے گرد اکھٹے یہ ہکلے کھوٹے سکے آپ کو بچا لیں گے تو میری یہ بات یاد رکھیں یہ فقط آپ کی خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ڈیلی آج کو ناجائز طور پر ہڑپنے کی کسی فرد کی ناجائز خواہش و تمنا پر ایک مکمل ادارہ غیر قانونی طور طریقوں سےختم نہیں ہو سکتا۔ یہ جان لیں کہ آج نہیں تو کل دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو ہی جانا ہے آپ مگر یہ فکر ضرور کریں کہ روزنامہ آج کی ڈیکلیریشن کو ناجائز دستاویزات اور جعلی تعلیمی اسناد کے بل پر ہتھیانے کی سازش کے فاش ہونے بعد اب آپ کے پاس خود کو قانون کی گرفت سے بچانے کا کیا رستہ رہ گیا ہے ؟ آپ نے شاید یہ بھی نہیں سوچا ہے کہ آپ کے پاس زندگی کی مہلت کتنی باقی ہے جو سامان سو برس کا جمع کرتی ہو جبکہ اپنے بچوں کا اپنے پوتی پوتوں کا حق مارتی ہو ؟ کیا آپکو بھی لگتا ہے آپ کو موت نہیں آنی ؟
کیا اس دن کا تمہیں خوف نہیں جب روز محشر تمہاری عبادتیں تمہارے منہ پر دے ماری جائینگی۔
آپ کے خلاف ناقابل تردید ثبوت اکھٹے ہو چکے ہیں جو سب کی سب پاکستان بھر کے تمام میڈیا و سوشل میڈیا کو جاری کی جائینگی تاکہ دنیا کے سامنے آپکا اصل چہرہ اور جرائم کو لایا جا سکے۔ انشاللہ بہت جلد آپ سے عدالت کے کٹہرے میں ملاقات ہوگی۔
علی یوسفزئی۔
18/09/2021
۔
مہربان و قدر دان
خواتین و حضرات
ڈیلی آج کا یہ فیسبُک پیج کہیں غائب ہوا ہے نا ہی نگاہیں اپنے ہدف سے ہٹی ہیں۔
اِک بڑی تیاری کے بعد اب دوبارہ کرنے والے ہیں آغاز۔
حق و باطل کی اس جنگ کا ایک بڑا معرکہ تو سر ہوچکا
اب
جھوٹوں کو بے نقاب کرنے
ان کی اصلیت کو آشکار کرنے اور
بدی کو عریاں کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
کیا بڑے چور اور ان کے ساتھی بہروپئے، گماشتے، سہولت کار و اعانت کار تیار ہیں ؟
منجانب
علی یوسفزئی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Website
Address
Peshawar
25000