YA ALLAH YA RAB
میں صرف اللہ کے لیے کام کرتا ہوں.الحمداللہ☝
اللہ میرا حقیقی دوست اور حضرت محمد ﷺ حقیقی رہبر ہے.💞الله أكبر۔۔مُحَمَّد رسول الله ﷺ 💞 ۔۔
12/01/2026
گرین لینڈ شارک: 400 سال کی عمر!!
گرین لینڈ شارک دنیا کی سب سے طویل عمر پانے والی فقاری مخلوق سمجھی جاتی ہے، جس کی عمر بعض اندازوں کے مطابق 400 سال تک پہنچ جاتی ہے۔ طویل عرصے تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ اتنی زیادہ عمر اور آنکھوں پر طفیلی جانداروں کی موجودگی کے باعث یہ شارک تقریباً اندھی ہو جاتی ہے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ گرین لینڈ کے گہرے، تاریک سمندری پانیوں میں رہتی ہے جہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اَروائن (UC Irvine) کی نئی تحقیق نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ محققین کے مطابق گرین لینڈ شارک کی آنکھیں کمزور نہیں بلکہ خاص طور پر اندھیرے کے لیے ڈھلی ہوئی ہیں اور حیرت انگیز طور پر یہ بصری نظام سینکڑوں سال بعد بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس شارک کی آنکھ کی اہم تہہ، یعنی ریٹینا، عمر رسیدہ ہونے کے باوجود محفوظ رہتی ہے اور اس میں وہ بگاڑ نظر نہیں آتا جو عام طور پر عمر کے ساتھ انسانوں اور دیگر جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شارک زیادہ تر خلیاتِ عصویہ (rods) پر انحصار کرتی ہے جو کم روشنی میں دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ رنگ اور باریک تفصیل دکھانے والے خلیات (cones) کم استعمال ہوتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں، چونکہ اس مچھلی کو رنگوں اور باریک مناظر کی ضرورت نہیں، اس لیے اس کا بصری نظام سادہ مگر مضبوط ہے اور یہی سادگی اسے طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
مزید یہ کہ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ شارک کے جسم میں ڈی این اے کی مرمت کا نظام بھی غیر معمولی طور پر مؤثر ہے، جو خلیوں کو وقت کے ساتھ خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ آنکھ کی جھلیوں میں موجود خاص قسم کی چکنائیاں بصری پروٹینز کو سخت حالات میں بھی فعال رکھتی ہیں۔
یہ تحقیق نہ صرف اس نادر شارک کے بارے میں انسانی سوچ کو بدلتی ہے بلکہ بڑھاپے، بینائی اور طویل عمر کے راز سمجھنے میں بھی انسان کے لیے نئے سائنسی دروازے کھولتی ہے۔
ویسے بھی یہ مچھلی عجائبات قدرت میں سے ہے۔ یہ انڈے نہیں دیتی، بلکہ حمل سے بچے جنم دیتی ہے۔ حاملہ ہونے کے بعد تقریباً 12 سال بعد اس کے چھ سے دس بچے جنم لیتے ہیں۔ یہ دنیا میں کسی بھی جانور میں سب سے طویل مدت حمل کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ یہ بچے پھر 150 سال بعد بالغ ہوکر تولیدی صلاحیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔
فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
08/01/2026
ساری زندگی میں یہ سمجھتا رہا کہ حذیفہ (أبو عبیدۃ) کے ہاتھ میں پہلے سے لکھا ہوا خطاب تھمایا جاتا ہوگا،
وہ بس چند لفظ سنوارتا ہوگا
اور پھر اپنی پُرہیبت، دلوں میں اتر جانے والی آواز میں اسے پڑھ دیتا ہوگا…
مگر جب وہ رخصت ہوا،
تو ایک ایک کر کے ایسے راز کھلنے لگے
جنہوں نے عقل کو حیران اور دل کو خاموش کر دیا۔
حذیفہ صرف ترجمان نہیں تھا۔
وہ پورے بیانیے کا معمار تھا۔
اگر درست کہا جائے تو
وہ مزاااحمت کا وزیرِ اطلاعات تھا—
وہی منصوبہ بناتا،
وہی سمت متعین کرتا،
اور اس کے بعد ایک پوری ٹیم
اسی کے نقشِ قدم پر چلتی۔
یہاں تک کہ معرکوں کے نام بھی
اسی کے ذہن کی پیداوار تھے:
حجارة داوود
عصا موسیٰ
یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی—
نام تاریخ بن جاتے ہیں،
اور تاریخ صرف بڑے لوگ لکھتے ہیں۔
اسی لیے وہ قیادت کی اولین صف میں تھا،
اور اسی لیے
وہ ایک مکمل میڈیا اسکول تھا—
ایسا اسکول جس نے
مغربی، امریکی اور صہیونی میڈیا کی
طاقتور ترین مشینری کو ہلا کر رکھ دیا۔
اربوں ڈالر،
برسوں کی منصوبہ بندی،
اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کا پورا نظام—
سب اس کے ایک مضبوط بیانیے کے سامنے بکھر گیا۔
اور یہ سب کس نے کیا؟
کوئی شہزادہ نہیں،
کوئی بین الاقوامی تعلیم یافتہ اشرافیہ نہیں،
کوئی سیاسی خانوادے کا وارث نہیں—
بلکہ
جبالیا کے ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والا
ایک سادہ، خاموش، گمنام سا انسان۔
ذرا دیکھو آج
اسرائیلی فوج کے ترجمان کو—
جو خود دنیا میں ایک مذاق بن چکا ہے،
اور بالآخر اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔
اور پھر ذرا دیکھو
حذیفہ کی شـ..ـہااادت کے دن
دنیا کا ردعمل—
خاموشی، خوف، الجھن…
یہ سب اتفاق نہیں ہوتا۔
نہیں!
یہ محض اتفاق نہیں تھا۔
یہ سب ایک راز کا نتیجہ تھا—
ایک ایسا راز
جو اس کے معمولات میں چھپا تھا۔
اس کے بیٹے ابراہیم کا ایک جملہ
اس راز کو بے نقاب کر دیتا ہے:
“ابو ہر دو یا تین دن میں پورا قرآن مکمل کرتے تھے…”
سوچو!
وہ شخص جسے دنیا کی خفیہ ایجنسیاں ڈھونڈ رہی ہوں،
جو پوری جنگ کے میڈیا کی ذمہ داری اٹھائے ہو،
اور پھر بھی
ہر چند دن میں قرآن ختم کرتا ہو—
یہ عام انسان نہیں ہو سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ
اس کے خطابات سن کر
ایسا لگتا تھا
کہ ہم اسلام کو پہلی بار سن رہے ہیں۔
نبی ﷺ پر درود کا وہ اسلوب
جو نہ نعرہ تھا،
نہ خطابت—
بلکہ علم، ادب اور سلف کی خوشبو لیے ہوئے تھا۔
اور پھر
اس کی آخری للکار…
انگلی اٹھا کر
حکومتوں، جماعتوں، علما، طاقتوں—
سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے کہنا:
“تم سب قیامت کے دن
اللہ کے سامنے ہمارے فریقِ مخالف ہو گے!”
اور پھر…
کوئی جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ
جب سچ پورے یقین کے ساتھ بولا جائے
تو باطل کے پاس
خاموشی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔
عربی تحریر سے مترجم
#رفح
#فلسطيني
#غزة
#أبوعبيدة
#ابوعبيدة
YA ALLAH YA RAB
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Peshawar
AJ