Smart Chalk
Smart ideas. Real research. Meaningful change.
ایک دفعہ ہمیں خواتین کے ایک بڑے اجتماع سے عشائیے سے پہلے خطاب کرنے کا اتفاق ہوا۔ جس ہال میں ہمیں تقریر کرنے کے لیے کھڑا کیا گیا اس سے مُتصل ہال میں کھانے کا اہتمام تھا۔ چار پانچ منٹ تو اندھا دُھند جوشِ خطابت میں گزر گئے۔
اس کے بعد ہمیں ایسی خوشبوئیں آنے لگیں جن سے ہماری توجہ، تقریر کے تسلسل اور تلفظ میں فتور آنے لگا۔ خیر، شاہی ٹکڑوں اور زعفرانی قورمے کی مہک تو ہم برداشت کر گئے، لیکن سیخ کباب کا دھواں دار باربی کیو جھونکے نے ہمیں کچھ اس لیے بھی نڈھال کر دیا کہ ہم نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ پھر جب ہماری فیورٹ ڈِش یعنی پلاؤ کی لَپَٹ آئی تو ہمارے Salivary glands یعنی رال بنانے کے غدودوں کا فعل اتنا تیز ہوگیا کہ الفاظ لذتِ تصور میں لتھڑ کر زبان سے لپٹ گئے۔
سامعین کا حال ہمیں معلوم نہیں تھا، خود ہمارا جی بولنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ ہم نے پانی کے گھونٹ پیتے ہوئے سیکٹری صاحبہ سے کہا کہ
"بی بی، ان خوشبوؤں کی مجھ میں تاب نہیں۔ میں اس طرح تقریر نہیں کر سکتا۔"
وہ کچھ اور سمجھیں! انگریزی میں کہنے لگیں " آپ ذرا ضبط سے کام لیجئے۔ میں نوجوان خواتین کو Seductive perfumes لگانے سے بھلا کیسے روک سکتی ہوں؟"
😊😊😊
(مشتاق احمد یوسفی ___ شامِ شعرِ یاراں)
سٹیٹس اور دکھاوے کا قیدی انسان: 75 سال پہلے لکھی گئی وہ کتاب جو آج کے دور کا سب سے کڑوا سچ ہے
دنیا میں کچھ کتابیں اپنے زمانے سے بہت آگے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ اپنے دور کی نہیں بلکہ آنے والے وقت کی تصویر کھینچ دیتی ہیں۔ ان کتابوں کو اپنے زمانے میں پڑھنے والا اکثر انہیں صرف ایک نظریہ یا مبالغہ سمجھتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب وہی خیالات حقیقت بن جاتے ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ کسی نے اتنا پہلے ہمارے آج کو اتنی گہرائی سے کیسے دیکھ لیا تھا۔
تقریباً پچھتر سال پہلے لکھی گئی ایسی ہی ایک غیر معمولی کتاب ڈیوڈ ریزمین کی The Lonely Crowd ہے۔ یہ کوئی خشک سوشل تھیوری نہیں بلکہ انسان کے اندر جھانکنے والی ایک ایسی بصیرت ہے جو ہمیں آج کے انسان کی اصل کیفیت سمجھنے میں مدد دیتی ہے. اس کی بے چینی، اس کی اندرونی خالی پن، اور اس کی مسلسل جاری رہنے والی دوڑ۔
ریزمین نے انسانی سماج کے بدلتے ہوئے مزاج کو ایک بہت سادہ مگر بہت گہری تشبیہ میں بیان کیا تھا۔ اس کے مطابق جدید دنیا میں انسان کی رہنمائی کرنے والا اندرونی نظام بدل چکا ہے۔ پرانے انسان کے اندر ایک “قطب نما” تھا، جبکہ جدید انسان کے ہاتھ میں ایک “ریڈار” آ گیا ہے۔
قطب نما والا انسان اپنی زندگی کے فیصلے اپنے اندر سے کرتا تھا۔ اس کے پاس کچھ واضح اصول، کچھ مستقل اقدار اور کچھ مضبوط عقائد ہوتے تھے، جو اسے خاندان، مذہب اور روایتی معاشرے سے وراثت میں ملے تھے۔ وہ انہی بنیادوں پر اپنی سمت طے کرتا تھا۔ اس کے لیے یہ بات زیادہ اہم نہیں ہوتی تھی کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں یا معاشرہ اسے کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے اندر کی آواز کو سنتا تھا اور اسی کو صحیح یا غلط کا معیار سمجھتا تھا۔ اس کی زندگی میں ایک طرح کی ٹھہری ہوئی سمت تھی، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
اس کے مقابلے میں جدید انسان ایک ایسے ریڈار کے ساتھ جینے لگا ہے جو ہر وقت باہر کی دنیا سے سگنل لے رہا ہوتا ہے۔ وہ مسلسل اپنے اردگرد دیکھ رہا ہوتا ہے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کیا چیز مقبول ہے، کامیابی کا معیار کیا بن چکا ہے، اور مجھے کس سمت جانا چاہیے تاکہ میں اس ہجوم میں نظر آ سکوں، قبول ہو سکوں اور پیچھے نہ رہ جاؤں۔ اس کی رہنمائی اندر سے کم اور باہر سے زیادہ ہونے لگتی ہے۔
یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس نے جدید انسان کی پوری نفسیات کو بدل دیا ہے۔ اب ہم اپنے فیصلے خاموشی سے اپنے اندر نہیں کرتے، بلکہ غیر محسوس طریقے سے اپنے اردگرد کے شور سے لیتے ہیں۔ ہماری سمت اب اندر سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ باہر کے دباؤ اور اجتماعی رجحان سے بنتی ہے۔
آہستہ آہستہ انسان اپنے ہی اندر سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ جتنا زیادہ دنیا سے جڑتا ہے، اتنا ہی زیادہ اپنے اندر کے سکون سے کٹتا جاتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں جدید انسان کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
یہ تبدیلی صرف نظریے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ زندگی کے ہر فیصلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ انسان کا “ریڈار” پھر صرف سوچنے کا طریقہ نہیں رہتا، بلکہ ایک مستقل عادت بن جاتا ہے. ایک ایسا اندرونی نظام جو ہر وقت یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور مجھے اس کے مطابق کیسے خود کو ڈھالنا ہے۔
آج اگر ہم اپنی عام زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ایک خاموش لمحہ نہیں ہوتا، نہ ہی اپنے دن کی سمت طے کرنے کا کوئی شعوری عمل۔ اس کے بجائے ہاتھ خود بخود موبائل کی طرف جاتا ہے۔ سکرین کھلتے ہی ہم ایک ایسے بڑے ہجوم میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ہر کوئی کچھ نہ کچھ دکھا رہا ہے، بتا رہا ہے، اور اپنی زندگی کو ایک خاص زاویے سے پیش کر رہا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ریڈار والا انسان اپنی سب سے واضح شکل میں سامنے آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کس نے کیا حاصل کیا ہے، کون کہاں پہنچ گیا ہے، اور کون کس طرح اپنی زندگی کو “کامیاب” دکھا رہا ہے۔ اور پھر غیر محسوس طریقے سے ہم بھی اسی پیمانے کو اپنی زندگی کا معیار بنا لیتے ہیں۔
یہ ایپس صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں۔ یہ ایک ایسا اجتماعی آئینہ بن چکی ہیں جس میں ہر شخص روزانہ خود کو دیکھتا بھی ہے اور دوسروں سے اپنا موازنہ بھی کرتا ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی زندگی کا بہترین ورژن پیش کرتا ہے، اور ہم اس ایڈٹ شدہ حقیقت کو اصل زندگی سمجھ کر اپنے اندر سوالات پیدا کرنے لگتے ہیں۔
اسی طرح سٹیٹس اور دکھاوا ہماری روزمرہ عادت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم اکثر وہ چیزیں نہیں چنتے جو ہمارے لیے واقعی آسانی یا سکون کا باعث ہوں، بلکہ وہ انتخاب کرتے ہیں جو ہمیں دوسروں کی نظر میں بہتر بنا سکیں۔ لباس، فون، گاڑی، حتیٰ کہ طرزِ زندگی بھی ایک خاموش زبان بن جاتی ہے جس کے ذریعے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم پیچھے نہیں ہیں۔
یہی کیفیت کیریئر کے فیصلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ انہیں اندرونی طور پر کس کام میں سکون یا دلچسپی ہے۔ اس کے بجائے زیادہ تر فیصلے اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ کون سی فہلڈ اس وقت “ٹرینڈنگ یا ڈیمانڈ” میں ہے، کون سی ڈگری زیادہ عزت دلوائے گی، اور کون سا راستہ ہمیں ہجوم میں نمایاں کرے گا۔ یوں ہم اپنے مستقبل کے انتخاب کو بھی ایک خاموش مقابلے میں بدل دیتے ہیں۔
آہستہ آہستہ انسان اپنی زندگی کو جینے کے بجائے اسے دکھانے میں زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔ لمحے تجربہ کرنے کے بجائے محفوظ کیے جاتے ہیں، اور احساس کرنے کے بجائے پیش کیے جاتے ہیں۔ اور یہی وہ موڑ ہے جہاں زندگی اندر سے خالی مگر باہر سے مصروف دکھائی دینے لگتی ہے۔
یہی رویہ پھر آہستہ آہستہ ہماری زندگی کے صرف بیرونی فیصلوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہمارے اندر کے رشتوں، سوچوں اور احساسات تک پھیل جاتا ہے۔ انسان صرف یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا چاہتا ہے، بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اس کے چاہنے کا انداز دوسروں کو کیسا لگے گا۔ اس طرح زندگی ایک خاموش مقابلے میں بدل جاتی ہے، جہاں ہر شخص اپنی اصل کیفیت سے زیادہ اپنی “پیش کردہ تصویر” کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے۔
اس ریڈار کی سب سے گہری جھلک ہمارے رشتوں میں نظر آتی ہے۔ دوستی ہو، محبت ہو یا شادی جیسے فیصلے، بہت سے معاملات میں یہ سوال کم اہم ہو جاتا ہے کہ دل کو سکون کہاں ملتا ہے، اور زیادہ اہم یہ ہو جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ تعلقات بھی ایک طرح کی سوشل اسٹیٹس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم اکثر ایسے لوگوں کے قریب رہنا چاہتے ہیں جو ہماری تصویر کو بہتر بنائیں، ہمارے حلقے کو زیادہ متاثر کن دکھائیں، یا ہماری زندگی کو دوسروں کی نظر میں “کامیاب” ثابت کریں۔
یہی نہیں، بلکہ ہمارے نظریات اور آراء بھی آہستہ آہستہ خود ہمارے اندر سے نہیں آتیں۔ کسی بھی سماجی، سیاسی یا ذاتی مسئلے پر ہمارا ردعمل اکثر اس بات سے متاثر ہوتا ہے کہ ہمارے اردگرد کا ہجوم کس طرف کھڑا ہے۔ اختلاف رائے کا خوف اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ انسان اپنے اندر کی آواز کو دبا کر اجتماعی آواز کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ایک ایسا معاشرہ بنتا ہے جہاں سب بول رہے ہوتے ہیں، مگر ہر آواز کسی اور کی بازگشت ہوتی ہے۔
اسی مسلسل بیرونی دباؤ کا نتیجہ ایک اور کیفیت کی صورت میں نکلتا ہے—عدم اطمینان۔ انسان کے پاس چیزیں بڑھتی جاتی ہیں، سہولتیں بڑھتی جاتی ہیں، مواقع بڑھتے جاتے ہیں، مگر اندر کا سکون کم ہوتا جاتا ہے۔ ہر وقت ایک تقابل چل رہا ہوتا ہے۔ کوئی بہتر لگ رہا ہے، کوئی آگے نکل گیا ہے، کوئی زیادہ خوش دکھائی دے رہا ہے۔ اور اس نہ ختم ہونے والے موازنے میں انسان اپنی موجودہ زندگی کی خاموش خوبصورتی کو محسوس کرنا بھول جاتا ہے۔
یہی وہ کیفیت ہے جسے آج کی زبان میں FOMO کہا جاتا ہے یعنی یہ خوف کہ کہیں ہم زندگی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ مگر اصل میں مسئلہ پیچھے رہ جانے کا نہیں ہوتا، بلکہ مسلسل دوسروں کی زندگی کو اپنی زندگی کا معیار بنا لینے کا ہوتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ مکمل زندگی نہیں، بلکہ اس کا منتخب کیا ہوا، سنوارا ہوا اور دکھایا گیا حصہ ہے۔ لیکن ریڈار والا ذہن اس فرق کو نہیں سمجھ پاتا، اور وہ اپنی پوری حقیقت کو دوسروں کے ادھورے عکس کے ساتھ تولنے لگتا ہے۔
یہاں آ کر وہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے جو ریزمین نے کئی دہائیاں پہلے ایک خاموش پیش گوئی کی طرح چھوڑا تھا۔ کیا انسان واقعی آزاد ہو کر جیتا ہے، یا وہ صرف ہجوم کے اشاروں پر چلنے والی ایک مشین بن چکا ہے؟
کیونکہ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ہم جتنا زیادہ جڑتے جا رہے ہیں، اتنا ہی زیادہ اپنے اندر سے کٹتے جا رہے ہیں۔ ہم ہر وقت لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں، مگر اندر سے پہلے سے زیادہ تنہا ہیں۔ ہمارے پاس آوازیں بے شمار ہیں، مگر اپنی آواز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اور یہی اس جدید دور کا سب سے بڑا تضاد ہے—ہجوم کے بیچ موجود تنہائی۔
آخر میں یہ سوال بہت سادہ مگر بہت گہرا رہ جاتا ہے۔ اگر ایک دن یہ سارا شور ختم ہو جائے، اگر کوئی دیکھنے والا نہ رہے، کوئی داد دینے والا نہ ہو، کوئی موازنہ کرنے والا نہ ہو تو کیا ہم اپنی زندگی کو پھر بھی اسی طرح جینے کے قابل محسوس کریں گے؟ کیا ہمارے پاس وہ اندرونی قطب نما باقی ہے جو ہمیں بتائے کہ ہم کون ہیں اور ہمیں کس سمت جانا ہے؟ یا ہم واقعی صرف ایک ریڈار بن چکے ہیں جو ہمیشہ باہر کی دنیا سے آنے والے سگنلز کے مطابق خود کو بدلتا رہتا ہے؟
شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان کو رک کر دوبارہ اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر سمت ہمیشہ باہر سے طے ہوتی رہے، تو انسان کتنا ہی آگے کیوں نہ چلا جائے، وہ اپنے آپ تک کبھی نہیں پہنچ پاتا۔
توصیف اکرم نیازی
نوسیبو ایفیکٹ اور وہم کا علاج
تحریر محمد شاہد سید مائنڈ ہیلر
ایک قدیم طبیب کے پاس ایک تندرست نوجوان لایا گیا جسے کسی وقت ایک ہاتھ دیکھنے والے نے کہہ دیا تھا کہ اس کی عمر کا چالیسواں سال اس کے لیے خطرناک ہے اور اسی سال اس کا دل کا مسئلہ ہوگا۔ نوجوان نے یہ بات سن کر دل و دماغ میں گانٹھ باندھ لی، اور جیسے ہی اس کی عمر چالیس سال کو پہنچی، اسے سینے میں عجیب سی جکڑن، سانس کی تکلیف اور دل کی بے ترتیب دھڑکن محسوس ہونے لگی۔ طبیب نے مکمل معائنہ کیا اور حیران ہو کر کہا کہ دل بالکل صحت مند ہے، کوئی بیماری موجود نہیں۔ نوجوان نے پوچھنے پر نجومی والا واقعی بتایا۔ طبیب نے جواب دیا کہ تمہارا دل اس نجومی کی بات سے نہیں بلکہ خود اپنے یقین سے بیمار ہوا ہے، تم نے ایک جھوٹے خوف کو اتنی بار دہرایا کہ تمہارے جسم نے اسے سچ مان لیا۔
یہ کہانی محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک مستند سائنسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جسے میڈیکل سائنس میں نوسیبو ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ نوسیبو ایفیکٹ کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کسی نقصان یا بیماری کا پختہ یقین کر لیتا ہے، تو اس کا جسم واقعی وہی علامات پیدا کر دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں کوئی جسمانی وجہ موجود نہیں ہوتی۔ طبی تحقیق میں ایک تجربہ مشہور ہے جس میں مریضوں کو ایک بے ضرر گولی دی گئی، مگر یہ بتا کر کہ اس سے متلی یا سر درد ہو سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی تعداد میں مریضوں نے واقعی وہی علامات محسوس کیں، حالانکہ گولی میں کوئی دوائی شامل نہیں تھی۔جب دماغ کسی منفی نتیجے کا یقین کر لیتا ہے، تو وہ جسم میں اسٹریس ہارمونز جیسے کورٹیسول اور ایڈرینالین کا اخراج بڑھا دیتا ہے، اور یہی ہارمونز دل کی دھڑکن تیز کرنے اور سینے میں جکڑن پیدا کرنے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔ یعنی یقین ایک کیمیائی ردعمل میں بدل جاتا ہے، اور وہم آہستہ آہستہ جسم کی حقیقت بن جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی اور بدفالی سے سختی سے منع فرمایا، اور یہ بھی فرمایا کہ اگر بدشگونی کا خیال دل میں آ جائے تو اس پر عمل نہ کیا جائے بلکہ اللہ پر توکل کیا جائے۔ یہ تعلیم دراصل نوسیبو ایفیکٹ کے خلاف ایک روحانی اور نفسیاتی دفاع ہے، کیونکہ جب انسان کسی منفی پیشین گوئی کو رد کر کے اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو اس کا دل خوف کی اس زنجیر کو توڑ دیتا ہے جو جسم کو بیمار کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ قرآن میں بھی یہ اصول بیان ہوا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ یہ آیت ایک عملی نفسیاتی ہدایت ہے، جو انسان کو منفی یقین کی گرفت سے آزاد کرتی ہے۔
عملی طور پر ہر وہم اور نوسیبو کا حل این ایل پی کی کئی آسان تکنیکوں میں موجود ہے۔ پہلی تکنیک ری فریمنگ کہلاتی ہے، جس میں جیسے ہی کوئی منفی پیشین گوئی یا خوف ذہن میں آئے، فوراً اس کے سوالیہ پہلو کو سامنے لایا جائے، مثلاً یہ سوچنا کہ کیا یہ خیال حقیقت پر مبنی ہے یا صرف ایک ممکنہ امکان جس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ دوسری تکنیک ویزولائزیشن کی الٹ سمت ہے، یعنی جب بھی ذہن میں بیماری یا نقصان کا منظر آئے، اسے فوراً صحت اور توانائی کے ایک روشن منظر سے بدل دیا جائے، کیونکہ دماغ اسی تصویر پر یقین کرتا ہے جسے سب سے زیادہ دہرایا جائے۔ تیسری چیز سانس کی گہرائی اور ذکر کا امتزاج ہے، جس میں سست سانس کے ساتھ کسی ذکر کو دہرانا جسم کو فوری سکون کی حالت میں لے جاتا ہے، اور ویگس نرو کو متحرک کر کے اسٹریس ہارمونز کا اخراج روک دیتا ہے۔
چوتھی تکنیک لینگویج پیٹرن کی تبدیلی ہے، یعنی جو الفاظ آپ اپنے بارے میں بولتے ہیں ان پر دھیان دینا، کیونکہ جب انسان بار بار کہتا ہے کہ میرا دل کمزور ہے یا مجھے کچھ ہونے والا ہے، تو دماغ انہی الفاظ کو ایک حکم سمجھ کر جسم کو اسی کے مطابق ڈھال دیتا ہے، اس لیے ان جملوں کو فوراً مثبت اور حقیقت پر مبنی الفاظ سے بدل دینا چاہیے۔ پانچویں تکنیک ڈیسوسیایشن کہلاتی ہے، جس میں خوفناک خیال کو خود اپنی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے، اسے ایک فاصلے سے، جیسے کسی سینما کی سکرین پر چلتی ہوئی فلم کی طرح دیکھا جاتا ہے، اس عمل سے دماغ اس خیال کی شدت کو خود بخود کم کر دیتا ہے۔ چھٹی تکنیک باڈی سکین کہلاتی ہے، جس میں آنکھیں بند کر کے سر سے پاؤں تک جسم کے ہر حصے پر باری باری توجہ دی جاتی ہے، اور جہاں بھی تناؤ محسوس ہو، وہاں ذہنی طور پر نرمی کا پیغام بھیجا جاتا ہے، یہ عمل جسم کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل میں کوئی خطرہ موجود نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جسم اکثر اپنے ذہن کے فیصلوں کی تابعداری کرتا ہے، اور جو یقین آپ بار بار دہراتے ہیں وہی آپ کی حقیقت بن جاتا ہے، خواہ وہ خوف ہو یا سکون۔
آپ بتائیں، کیا آپ نے بھی کبھی کسی منفی پیشین گوئی یا خیال کو اتنا یقین کر لیا کہ جسم نے واقعی اس پر ردعمل دے دیا۔شاہد سید
19/06/2026
*طلاق مسائل کا حل نہیں ہے ، بلکہ مسائل کی ابتداء ہے ...*
ھم نے طلاق لے کے عورتوں کو پچھتاتے ھوئے دیکھا ھے۔
جو عورتیں شوہر کے گھر اس لیے چھوڑ آئیں کہ ہماری عزت نہیں ھے انہیں زمانے کی ٹھوکریں کھاتے دیکھا ہے۔
جو سسرال میں رہنا اس لیے گوارا نہیں کرتیں کی ان سے کام نہیں ہوتا ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں وہ جب تن تنہا اولاد کی ذمہ داری اٹھاتی ھیں تو ان کے چودہ طبق روشن ھوتے دیکھے ہیں۔
جنہوں نے شوہر کو سبق سکھانے کے لیے عدالتوں سے طلاقیں لی ان کو رجوع کے لیے تڑپتے ھوئے دیکھا ہے۔
بلقیس ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ”دنیا کے جوتے کھانے سے بہتر ھے ایک آدمی کے جوتے کھالو“۔
یہ جو فیمنسٹ یا لبرل خواتین، عورتوں کو طلاق دلوا کے حقوق دلوانے نکلتی ہیں ان کی تقلید کرنے سے پہلے انکی ذاتی زندگی میں بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے کہ وہ گھر کیسے بسا رہی ہیں یا طلاق کے بعد کتنی آئیڈیل لائف گزار رہی ہیں۔
میں طلاق کے خلاف نہیں ہوں کہ اس کا حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے مگر یہ آخری آپشن ھونا چاہیے اس کو پہلا آپشن مت سمجھیے۔ حالات ناگزیر ہیں تب بھی طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے علیحدہ ہو جائیں کچھ ماہ الگ رہیں پھر فیصلہ کریں۔
گھر ٹوٹنے نہیں چاہیئں..
اولادیں برباد ہو جاتی ہے..
انا کو قربان کرنا پڑے..کر دیجیے..
مگر اولاد کو تحفظ دیجیے...
طلاق مسائل کا حل نہیں ہے. بلکہ مسائل کی ابتداء ہے ۔
میاں بیوی کے درمیان جو مسائل ہیں انہیں حل کریں..
مسائل حل کرنا سیکھیں..
جھوٹی انا اور جھوٹی عزت میں گھر مت اجاڑیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ مار مت کھائیں.. ظلم برداشت مت کریں.. آواز اٹھائیں مگر طلاق آخری آپشن ہے۔ چند ماہ علیحدہ رھنے کے بعد فیصلہ کریں۔“...
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے آمین ۔
19/06/2026
"بیوی کی باتوں میں آ کر بھائی سے دشمنی مت پالنا۔
خون کے رشتے وقت کے ساتھ نہیں، سمجھداری سے بچتے ہیں"
آج کل کا المیہ یہ ہے کہ بھائی، جو بچپن سے ایک دوسرے کا سایہ، سہارا اور خوشی کا حصہ ہوتے ہیں، شادی کے بعد صرف ایک عورت کی بات پر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ بیوی کی شکایت یا جذباتی بات پر بغیر تحقیق، بغیر بات سنے، فیصلہ کر لینا اکثر خاندانوں کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔
بیوی کا مقام اپنی جگہ محترم ہے، لیکن بھائی وہ رشتہ ہے جو ماں باپ کے بعد کاندھا دیتا ہے، دکھ میں سب سے پہلے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر بیوی عقلمند ہو تو بھائیوں کو جوڑتی ہے، اور اگر انا پرست ہو تو رشتے توڑ دیتی ہے۔
آج وقت ہے کہ ہم سوچیں:
کیا وقتی غصے کی بنیاد پر دائمی رشتہ توڑ دینا عقل مندی ہے؟
کیا عورت کی ہر بات بغیر سمجھے مان لینا انصاف ہے؟
اور کیا کل ہمارے جنازے کو وہی اٹھائے گا جس سے آج ہم دشمنی کر رہے ہیں؟
اپنے رشتوں کو وقتی باتوں پر قربان مت کریں، ورنہ کل کو صرف پچھتاوا باقی رہتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar