Human Resource Development Organization - HRDO

Human Resource Development Organization - HRDO

Share

vision“A healthy & educated society where openness is encouraged, diversity is cherished, innovation is expected, and growth & development is interpreted”.

01/01/2024

‏(پاکستان کے موجودہ اور آئندہ کے ارباب اختیار اس پوسٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں)
پاکستان زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر (Aquifer) کے لحاظ سے دُنیا کی سپر پاور ہے- دنیا کے 193 ممالک میں سے صرف تین ممالک چین، انڈیا اور امریکہ پاکستان سے بڑی ایکوئفر رکھتے ہیں- دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاؤں کے میدانی علاقوں کے نیچے یہ ایکوئفر 5 کروڑ ایکڑ رقبے سے زیادہ علاقے پر پنجاب اور سندھ میں پھیلا ہوا ہے-
پاکستان اس وقت دُنیا میں زمینی پانی کو زراعت کیلئے استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے- ہماری زراعت میں آدھے سے زیادہ پانی (50 ملین ایکڑ فٹ) اس ایکوئفر سے کھینچا جارہا ہے-
آبادی کے دباؤ کیوجہ سے زرعی اور صنعتی مقاصد کے کیلئے تحاشا پانی ٹیوب ویلوں سے کھینچنے کی وجہ سے یہ ایکوئفر نیچے جانا شروع ہوچکا ہے- ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق پاکستان تقریباً 500 کیوبک میٹر پانی فی بندہ کے حساب سے زمین سے کھینچ رہا ہے جو کہ پورے ایشیا میں بہت زیادہ ہے-
اس ایکوئفر کے اوپر سندھ اور پنجاب کے علاقے میں صرف مون سون کے تین مہینوں میں 100 ملئین ایکڑ فٹ تک پانی برس جاتا ہے- یہ ایکوئفر ہزاروں سال سے قدرتی طور پر ریچارج ہورہی تھی لیکن ہم نے کنکریٹ کے گھر اور اسفالٹ کی سڑکیں بناکر پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ کم سے کم کردیا ہے-
بارش کا پانی سب سے صاف پانی ہوتا ہے لیکن یہ ری چارج ہونے کی بجائے فوری طور پر سڑکوں، سیوریج لائنوں اور گندے نالوں کے ذریعے گٹر والے پانی میں بدل جاتا ہے جس سے نہ صرف اس کی کوالٹی بدتر ہوجاتی ہے بلکہ یہ سیلابی پانی بن کر شہروں کے انفراسٹرکچر اور دیہاتوں کو فلش فلڈنگ سے نقصان پہنچاتا ہے-
تاہم اگر اس پانی کو اکٹھا کرکے زیرزمین پانی کوری چارج کرنے کا بندوبست کیا جائے تو نہ صرف اربن فلڈنگ اور فلش فلڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ بڑے بڑے ڈیم بنائے بغیر بہت زیادہ پانی بھی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے-
لہٰذا فوری طور پر آبادی والے علاقوں میں ری چارج کنویں، ڈونگی گراونڈز، ری چارج خندقیں، تالاب، جوہڑ بنانے پر زور دیا جائے, جب کہ نالوں اور دریاؤں میں ربڑ ڈیم اور زیرزمین ڈیم بنا کر مون سون کے دوران بارش اور سیلاب کے پانی کو زیرِزمین ری چارج کیا جائے- اس مقصد کے لئے دریا راوی اور ستلج کے سارا سال خشک رہنے والے حصے، پرانے دریائے بیاس کے سارے راستے اور نہروں اور دوآبوں کے زیریں علاقے انتہائی موزوں جگہیں ہیں-
(منقول- تحریر از انجنیئر ظفر وٹو)

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Deans Trade Centre
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 12:30
14:00 - 16:00