Shakil Sheikh
پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے۔
عمران خان زندہ باد🌹
جب قلم اپنی توقیر کھو بیٹھے تو پھر قلم کا سر بھی قلم کر دینا چاہیے
22/05/2026
پاکستان تحریکِ انصاف صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امید اور ایک جدوجہد کا نام تھی۔
وہ جدوجہد جس میں ہزاروں نظریاتی ورکرز نے اپنی جوانیاں، وقت، عزت، روزگار اور سکون قربان کیا۔
کئی کارکن ایسے ہیں جو دہائیوں سے پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہے، جیلیں برداشت کیں، معاشی نقصان اٹھایا، خاندانوں کی ناراضگیاں سہیں، مگر پھر بھی صرف اس لیے خاموش رہے کہ یہ تحریک اصولوں اور نظریے کی بنیاد پر آگے بڑھے گی۔
مگر آج ایک تلخ حقیقت ہر نظریاتی کارکن کے دل کو زخمی کرتی ہے۔
ایک طرف وہ نظریاتی، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور وفادار کارکن ہے جسے ہمیشہ سائیڈ لائن کیا جاتا ہے، اس کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اس کی آواز کو دبایا جاتا ہے، اور اسے مسلسل یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو چند سال پہلے پارٹی میں شامل ہوتے ہیں، جن کا نہ کوئی نظریہ ہوتا ہے، نہ قربانی، نہ جدوجہد۔
مگر چاپلوسی، دولت، جھوٹ، منافقت اور تعلقات کے ذریعے وہ عہدے، ٹکٹ، پروٹوکول اور اختیار حاصل کر لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ:
کیا عمران خان نے یہ جماعت اس لیے بنائی تھی؟
کیا نظریہ صرف نعروں تک محدود رہ گیا ہے؟
کیا قربانیاں دینے والوں کا حق صرف استعمال ہونا ہے؟
اگر نظریاتی کارکن ہی مایوس ہو جائے تو پھر تحریک کی روح کیسے زندہ رہے گی؟
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اصلاح کا ہے۔
اگر پارٹی کو مضبوط اور حقیقی معنوں میں عوامی تحریک بنانا ہے تو پھر تنظیمی انصاف ناگزیر ہے۔
اصلاح اور حل: ✓ پارٹی میں میرٹ اور نظریاتی وابستگی کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
✓ کارکنوں کی قربانیوں، وفاداری اور مسلسل جدوجہد کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
✓ عہدے اور ٹکٹ صرف دولت، سفارش یا چاپلوسی کی بنیاد پر نہ دیے جائیں۔
✓ تعلیم یافتہ، مخلص اور نظریاتی لوگوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔
✓ اندرونی احتساب کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔
✓ حقیقی کارکن کی عزت بحال کی جائے تاکہ نوجوان نسل نظریے پر یقین رکھے۔
تحریکیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف، اصول اور نظریاتی وفاداری سے زندہ رہتی ہیں۔
اگر نظریاتی کارکن کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا تو نقصان کسی فرد کا نہیں بلکہ پوری تحریک کا ہوگا۔
نظریہ بچاؤ، کارکن کو عزت دو، اور تحریکِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کی علامت بناؤ۔
بانیٔ چیئرمین آج جیل میں ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ اُن کے نام پر ووٹ لینے والے کئی لوگ اقتدار، مفادات اور عہدوں کی سیاست میں مصروف نظر آتے ہیں۔
قوم نے ووٹ ایک نظریے، ایک جدوجہد اور ایک امانت سمجھ کر دیا تھا، مگر آج عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اُس اعتماد کا حق کتنا ادا کیا گیا؟
سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ جو لوگ خود کو خان صاحب کے سب سے قریب کہتے تھے، آج انہی کے گرد سب سے زیادہ سوالات، اختلافات اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔
قربت صرف تصویروں، بیانات یا عہدوں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ مشکل وقت میں کردار، وفاداری اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون نظریے کے ساتھ کھڑا رہا اور کون حالات کے ساتھ بدل گیا۔
عوام آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، کیونکہ لوگ چہروں سے نہیں بلکہ سچائی، مزاحمت اور اصولوں سے محبت کرتے ہیں۔
اگر یہ واقعی میں سچ ہے تو اس پر فوری ایکشن لینا اہیے اگر الزام ہے تو جن پر الزام لگایا گیا ہے ان کو اپنی صفائی ثبوت سمیت پیش کرنی چاہیے۔
11/05/2026
دیکھا جاۓ تو 9 مئی کے بعد اور خان صاحب کی رہائی کے حوالے سے تنظیموں کی کارکردگی دیکھ کر واقعی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ بات آڈیالہ جیل سے شروع ہوتی ہے، پھر پریس کلب، وہاں سے سوری پل اور آخر میں ہر کوئی اپنی بیٹھک اور حجرے تک محدود ہو جاتا ہے۔ اگر جدوجہد صرف بیانات، تصویروں اور رسمی احتجاج تک محدود رہے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ خان صاحب آخر کیسے آزاد ہوں گے؟
یوتھ کو صرف جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ اتحاد، شعور، قربانی اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ جو تحریک کبھی “جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے” کے جذبے سے شروع ہوئی تھی، وہ آج صرف گھروں میں سورۂ یٰسین کے ختم تک محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دعا یقیناً طاقت ہے، مگر دعا کے ساتھ عملی جدوجہد بھی ضروری ہوتی ہے۔
آخر تنظیمیں صرف نام، عہدوں اور تصویروں کے لیے نہیں بنتیں بلکہ میدان میں کردار ادا کرنے کے لیے بنتی ہیں۔ اگر احتجاج حجرے، بیٹھک اور سوشل میڈیا تک محدود ہو جائے تو پھر حقیقی تبدیلی کا خواب کمزور پڑ جاتا ہے۔
باقی امید صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔ وہی خان صاحب کی حفاظت فرمائے، انہیں سرخرو کرے اور حق و سچ کے راستے پر ثابت قدم رکھے۔
سابقہ گورنر کے پی کے اور بانی لیڈر پاکستان تحریک انصاف جناب شاہ فرمان صاحب نے انتہائی مدلل، سنجیدہ اوبہترین انداز میں اپنی جماعت کا نظریہ اور اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے جس جرات، دلیل اور سیاسی بصیرت کے ساتھ موجودہ حالات پر گفتگو کی، وہ نہ صرف کارکنان کے جذبات کی ترجمانی ہے بلکہ عوامی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
آج کے دور میں جہاں سچ بولنا مشکل بنا دیا گیا ہے، وہاں ایسے رہنما جو کھل کر عوامی حقوق، آئین، جمہوریت اور حقیقی نمائندگی کی بات کریں، وہ قوم کی امید بن جاتے ہیں۔
یہی نظریہ، یہی استقامت اور یہی عوامی آواز پاکستان تحریک انصاف کو دیگر جماعتوں سے منفرد بناتی ہے۔
کارکنان اپنے قائدین کے ساتھ پہلے بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور ان شاءاللہ مستقبل میں بھی رہیں گے۔
سال میں 100 سے زائد شہداء کی قربانیاں دینے والی جماعت آج بھی اپنے نظریے، عوامی حقوق اور حقیقی آزادی کی جدوجہد پر قائم ہے۔
یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظریاتی کارکن کسی عہدے یا مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے وطن اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سی جماعتیں آئیں اور گئیں، مگر جو جماعت اپنے کارکنوں کے خون، قربانیوں اور استقامت سے پہچانی جائے، اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔
شہداء کی قربانیاں ایک امانت ہیں، اور قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ✌️🇵🇰
✌️🇵🇰
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Peshawar
SULIMANKHELBHADBIR