All Guns

All Guns

Share

Guns k le sb se behtr page hai sb malumat yaha se hasil karo

21/02/2025

Local Guns Me Aisa Be Hota Hai 💔🙏

21/02/2025

کلاشنکوف : یہ خطرناک رائفل کیسے ایجاد ہوئی ؟ دلچسپ کہانی آپ نے یہ مثال تو سن رکھی ہو گی ، ایک موت اور دوسری کلاشنکوف کبھی دھوکہ نہیں دیتی ۔دوسری جنگ عظیم کے اختتامی دنوں میں تیار کیے گئے اس ہتھیار نے کیسے پوری دنیا میں اپنے اثرات چھوڑے اور کیا وجہ ہے کہ یہ آج بھی اتنے بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے ؟ اس کی پائیداری کے چرچے آج کل ہر خاص و عام کو پتہ ہیں ۔. کلاشنکوف کی کہانی 1941 میں سوویت یونین کے ایک عسکری ہسپتال سے شروع ہوتی ہے۔ ٹینک ڈویژن کا ایک سپاہی میخائل کلاشنکوف زخمی ہونے کے بعد تندرستی کی جانب گامزن تھا۔ ہسپتال میں اس نے صحت یاب ہونے والے کئی دوسرے سپاہیوں کو اپنی ناقابل اعتماد رائفلوں کا ماتم کرتے سنا، جو اکثر جام ہو جاتی تھیں۔ دوسری طرف ان کے مدمقابل نازی پہلے ہی سٹرمگیویر 44 استعمال کر رہے تھے جو ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے سبب وہ نسبتاً قریب کے اہداف پر درست طریقے سے کئی گولیاں داغ سکتے تھے۔. میخائل کلاشنکوف انجینیئر تھے، تاہم انہوں نے ہتھیاروں کی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ انہوں نے سٹرمگیویر 44 اور دوسری جنگ عظیم کے دوران متعارف ہونے والی دیگر اسالٹ رائفلز سے متاثر ہو کر ایک نئی سب مشین گن تیار کرنے کے لیے کمر کس لی۔ انہوں نے سوویت یونین کی ریڈ آرمی کے ہتھیاروں کے یونٹ میں کام کرنا شروع کیا اور بالآخر 1946 میں فوج کے لیے ایک نئی بندوق تیار کرنے کا مقابلہ جیت لیا۔. ’اے کے 47: دی سٹوری آف دی پیپلز گن‘ کے مصنف مائیکل ہوجز کہنا ہے ایک بار انہیں میخائل کلاشنکوف نے بتایا کہ انہوں نے یہ بندوق ’اپنی دھرتی ماں کے دفاع اور فاشسٹوں کو شکست سے دوچار کرنے‘ کے لیے تیار کی تھی۔ ان کی ایجاد میں ذہانت سے بھرپور متعدد اختراعات تھیں۔ اس میں محض سات حرکت پذیر حصے، ایک گیس سے چلنے والا پسٹن اور زنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے کروم لائن چیمبر استعمال کیا گیا تھا۔ 300 میٹر کے فاصلے تک اس کا نشانہ درست بیٹھتا، یہ وزن میں ہلکی اور قابل اعتماد تھی اور فائر کے بعد پیچھے کو نسبتاً کم دھکا دیتی تھی۔. کلاشنکوف 1947 میں بننا شروع ہوئی اور بہت جلد سوویت فوج کا پسندیدہ ہتھیار بن گئی۔ روسی زبان بولنے والے ممالک میں ’کلاش‘ کے نام سے مشہور اس بندوق کا لائسنس وارسا معاہدے میں شامل کئی دوسرے ممالک (روس اور دیگر کئی مشرقی یورپ اور وسط ایشیا کے ممالک جو سوویت اتحاد کا حصہ تھے) کو بھی جاری کیا گیا۔ اگرچہ گذشتہ کئی برسوں میں یہ ہتھیار متعدد تبدیلیاں سے گزرا اور اس کی کئی چیزیں بہتر کی گئیں لیکن بنیادی ڈیزائن وہی رہا جو میخائل کلاشنکوف نے متعارف کروایا تھا۔

Want your business to be the top-listed Business in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Peshawar