Book off Quetta
I m.saf inshallah
De wairld moslam saf
04/09/2018
موت کے وقت مرنے والے کو اپنے دائیں بائیں کیا نظر آتا ہے ؟ انتہائی ایمان افروز تحریرہرشخص کی عمرمقررہےنہ اس سےگھٹے،نہ بڑھے۔جب وہ عمرپوری ہوجاتی ہےتوملک الموت (روح قبض کرنےوالافرشتہ)علیہ السلام اس کی جان نکال لیتےہیں موت کےوقت مرنےوالےکےداہنے،بائیں جہاں تک نظرجاتی ہےفرشتےہی فرشتےدکھائی دیتےہیں۔مسلمان کےپاس رحمت کےفرشتےاورکافرکےپاس عذاب کے۔مسلمانوں روح کوفرشتےعزت کےساتھ لےجاتےہیں اورکارفروں کی روح کوفرشتےحقارت کےساتھ لےکرجاتےہیں۔روحوں کےرہنےکےلئےمقامات مقررہیں نیکوں کیلئےعلیحدہ اوربدوں کےلئےعلیحدہ۔مگروہ کہیں ہو،جسم سےان کاتعلق باقی رہتاہے۔اس کی ایذاسےان کوتکلیف ہوتی ہے۔قبرپرآنےوالےکودیکھتےہیں،اس کی آوازسنتے ہیں،مرنےکےبعدروح کسی دوسرےبدن میں جاکرپھرنہیں پیداہوتی،یہ جاہلانہ خیال ہے،اسی کوآواگون (بعض لوگ کہتےہیں کہ جولوگ دنیاسےاچھےعمل کرکےنہیں جاتےتوان کی روح مرنے کےبعداس کےعمل کےمناسب دوسرے کےبدن میں آجاتی ہے) کہتےہیں۔موت یہی ہےکہ روح جسم سےجداہوجائےلیکن جداہوکروہ فنانہیں ہوجاتی۔ دفن کےبعد قبرمُردےکودباتی ہےجب دفن کرنےوالےدفن کرکےواپس ہوجاتےہیں تومُردہ ان کےجوتوں کی آوازسنتاہے۔ اس کےبعددوفرشتےزمین چیرتےآتےہیں ان کی صورتیں ڈراؤنی،آنکھیں نیلی کالی۔ ایک کانام مُنکَر،دوسرے کانام نکیر ہے۔وہ مردےکواڑھاکربٹھاتےہیں اوراس سےسوال کرتےہیں. (۱) تیرا رب کون ہے؟ (۲) تیرا دین کیا ہے؟ (۳) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں تو ان کے حق میں کیا کہتا تھا ؟ مسلمان جواب دیتا ہے۔ میرا رب اللہ ہے ۔میرا دین اسلام ہے۔ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ (۱)۔ فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا پھر اس کی قبر فراخ (۲) اور روشن کر دی جاتی ہے۔ آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے(۳)۔ میرے بندے نے سچ کہا ۔ اس کیلئے جنّتی فرش بچھاؤ ،جنّتی لباس پہناؤ، جنت کی طرف دروازے کھولو۔دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے جنّت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اب تو آرام کر۔ کافر ان سوالوں کاجواب نہیں دے سکتا ہرسوال کے جواب میں کہتا ہے میں نہیں جانتا۔آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے کہ جھوٹا ہے اس کیلئے آگ کا بچھونا بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤاوردوذخ کی طرف کادروازہ کھول دواس سےدوزخ کی گرمی اورلپٹ آتی ہےپھراس پرفرشتےمقررکردیئےجاتےہیں جولوہےکےبڑےبڑےگرزوں(وزنی ہتھوڑوں)سےمارتےہیں اورعذاب کرتےہیں۔سوالات سوال: آواگون کوکون لوگ مانتےہیں؟ جواب: ہندو۔ سوال: کیاقبرہرمردےکودباتی ہے؟ جواب: انبیاء کرام علیہم السلام مستثنٰی ہیں (شامل نہیں) ان کےسواسب مسلمانوں کوبھی قبردباتی ہےاورکافروں کوبھی۔ لیکن مسلمانوں کودباناشفقت کےساتھ ہوتاہےجیسےماں بچہ کوسینہ سےلگاکرچپٹائےاورکافرکوسختی سےیہاں تک کہ پسلیاں اِدھرسےاُدھرہوجاتی ہیں (یعنی ایک دوسرےمیں پیوست ہوجاتی ہیں)۔سوال: کیاکچھ لوگ ایسےبھی ہیں جن سےقبرمیں سوال نہیں ہوتا۔ جواب: ہاں۔ جن کوحدیث شریف میں مستثنٰی کیاگیاہےجیسےانبیاء علیہم السلام اورجمعتہ المبارک اوررمضان المبارک میں مرنےوالےمسلمان۔ سوال: قبرمیں عذاب فقط کافرپرہوتاہےیامسلمان پربھی؟ جواب: کافرتوعذاب ہی میں رہیں گے اوربعضےمسلمان گنہگارپربھی عذاب ہوتاہے۔مسلمانوں کےصدقات،دعاء، تلاوتِ قرآن اور دوسرےثواب پہنچانےکےطریقوں سےاس میں تخفیف (کمی) ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ اپنےکرم سےاس عذاب کواٹھادیتاہے۔بعض کےنزدیک مسلمان پرسےقبرکاعذاب جمعہ کی رات آتےہی اٹھادیاجاتاہے۔سوال: جومردےدفن نہیں کئےجاتےان سےبھی سوال ہوتاہے؟ جواب: ہاں وہ خواہ دفن کیاجائیہ اعتدال یوں تو آسان لگتا ہے، ہر آدمی دعویٰ کرتا ہے کہ جناب غصہ تو آتا ہی نہیں ہے، جنس پر مکمل کنڑول ہے اور عقل بھی دیکھ کے استعمال کرتے ہیں مگر حقیقت میں اِن کی آفتوں سے بچنا نامکمن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اگر کوئی شخص زندگی بھر کام کرتا رہے اور مرتے دم تک اِسی فکرمیں لگا رہے تو شاید کچھ بہتری کی اُمید ہو۔ جس نے سمجھ لیا کہ وہ اِس اعتدال میں کامیاب ہوگیا ہے تو درحقیقت وہ غلط ہے۔عقل کی خرمستیاں تو منہ چڑھ کر بولتی ہیں۔ بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ جب دلیل اور بندہ آمنے سامنے ہوں تو دلیل مار دو بندہ بچالو۔ آج اِسی عقل اور دلیلوں کو لوگوں کی گردنیں اُتارنے پر استعمال کرتے ہیں۔ کوئی آپ سے چبھتا ہوا سوال پوچھ لے، کوئی سوشل میڈیا پر کوئی بحث چھیڑ دے، کوئی بڑا یا اُستاد کوئی ایسی بات کر بیٹھے جو آپ جناب کے مزاج سے موافق نہ ہو، کوئی ساتھ کام کرنے والا آپ سے آگے بڑھ جائے، کسی رشتےدار کے بچے آپ کے بچوں پر فوقیت لے جائیں، یا کوئی پڑوسی آپ سے اچھا مکان بنالے یا گاڑی لے آئے، پھر دیکھیں اس عقل کے کرشمے۔جب تک کمائے ہوئے مال کو حرام، کئے گئے اعمال کو کفر، اور پائی گئی شہرت کو ذلت میں ثابت نہ کردے یہ عقل خاموش نہیں ہوپاتی۔ کسی شخص کی ترقی و کامیابی کو نہ ماننا بھی تکبر کی نشانی ہے اور تکبر عقل پر پلتا ہے۔ آپ دماغ چلانا بند کردیں تو یہ بھوکا مرجائے کہ اِسکو غذا کی شکل میں معلومات ہی نہ ملے۔غصّے کو اعتدال پر رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آدمی کو خلافِ مزاج بات پر غصّہ آتا ہی ہے۔ کوئی ظلم دیکھے، ناانصافی کا سامنا ہو، کوئی لوٹ لے، چوری ہوجائے۔ کوشش کرنی چاہئیے کہ اِس آگ کو اچھے کاموں میں لگائے۔ غصّے سے سینک لے اور نیک کام کرے۔ اپنے بیوی بچوں، اہلِ وعیال کے معاملے میں تو ہر کوئی در گزر سے کام لیتا ہی ہے، پتہ تو اُس وقت چلتا ہے جب نوکر کا بچہ گلاس توڑ دے۔ سرعام کوئی گالیاں دینا شروع کردے اور کوئی بغیر کسی وجہ کے آپ کی بےعزتی پر تُل جائے۔ ہمارے ملک میں فرسٹریشن اِتنی زیادہ ہے کہ ہر شخص کو تختہِ مشق چاہئیے ہوتا ہے، اپنا غصہ نکالنے کے لئے۔جنس ایک بے لگام گھوڑا ہے۔ اسے سدھانا بہت مشکل ہے۔ یہ موت تک زور لگاتا رہتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ کائنات میں جنس کے سوا کچھ نہیں دکھتا، باقی تمام گناہ چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ جنس کا ذہانت کے ساتھ بھی کوئی تعلق ضرور ہے جتنا آدمی ذہنی طور پر طاقتور ہوتا ہے اتنا ہی جنسی رجحان اس میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کڑا امتحان ہوتا ہے کہ حسن اپنے آپ کو پیش کرے، گانوں، فلموں، اِشتہاروں، اور روڈ بِل بورڈز کی شکل میں آپکے سامنے جلوہ گر ہو اور آپ اپنے آپ پر قابو رکھیں اور نظریں جھکالیں۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ یاداشت بڑھانی ہو تو آنکھوں کی حفاظت کرنی چاہئیے کہ علم کبھی گندے برتن میں نہیں آتا۔
قدرت نے جو جائز طریقے بتائے ہیں آدمی اس پر چلے۔ ان سے بھی کنارہ کشی کرے گا تو تباہ ہوجائے گا۔ جو بندہ قدرت سے ٹکرایا، قدرت نے اُسے پچھاڑ دیا۔ جب بندہ اِن تینوں پر قابو پا لیتا ہے تب ہی وہ سلیم الفطرت بنتا ہے، تب ہی اُسے حق ہے کہ انسان کہلایا جائے اور کسی اُستاد کے بغیر یہ مقام ملنا بہت مشکل ہے۔ آئیے مل کر کوشش کریں کہ انسانیت کو انسانوں کی ضرورت ہے۔
14/12/2017
امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔
امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔ آپ مدرسے کے بعد وہاں تجارت کرتے تھے ۔امت محمدی کو اگر تجارت کسی نے سکھائی ہے وہ یا تو خلیفہ اول ابو بکر صدیق تھے یا پھر امام ابو حنیفہ ۔ایک دن ظہر کی نماز کے بعد اپنی دکان بند کردی
اور جانے لگےتوساتھی دکاندار نے کہا ” ابو حنیفہ آج تو جلدی نکل لیے کہاں جارہے ہے آپ آج اتنی جلدی ”امام ابو حنیفہ نے فرمایا ” آپ دیکھ نہیں رہے کہ آسمان پہ کالے بادل آچکے ہیں ”اس شخص نے کہا ” یا نعمان آسمان کے بادلوں کا دکان سے کیا لینا دینا”امام ابو حنیفہ نے فرمایا ” جب بادل گہرے ہوجاتے ھے تو چراغ کی روشنی اندھیرا ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے گاہک کو کپڑے کی ورائیٹی کا پتہ نہیں چلتا اسکو کوالٹی کی پہچان نہیں ہوتی ۔ میں نے اس وجہ سے دکان جلدی بند کردی کہ میرے پاس آیا ہوا گاہک کم قیمت کپڑے کو قیمتی سمجھ کر زیادہ پیسے نہ دے ۔”آج کے دکانداروں کے پاس جاکر پتہ چلتا ہے کہ جب انکے پاس کوئی معصوم گاہک آجاے تو وہ انکو ایسی قینچی سے زبح کرلیتے ھے کہ دو نمبری کپڑا بھی ایک نمبر کی قیمت پہ فروخت کرلیتے ھے۔ بلکہ آجکل تو باقاعدہ سے گاہک کو لوٹنے کے عجیب وجیب طریقے آے ھے ۔کپڑے کے دکانداروں کے علاوہ باقی سب لوگ شیئر کریں
📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Quetta Cantonment
3410293125